گرفتاریوں کے بعد مزید چھاپے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
لندن پولیس اکیس جولائی کو ناکام بم حملوں میں مطلوب چاروں لوگوں کی گرفتاری کے بعد بھی پولیس کی کارروائی جاری ہے۔ جمعہ کو رات کو پولیس نے جنوبی لندن کے اولڈ کینٹ روڈ کے علاقے میں چھاپہ مارا۔لندن اور روم ہونے والی تین گرفتاریوں کے بعد اکیس جولائی کو لندن میں ناکام حملوں میں مطلوب تمام لوگ پولیس کی حراست میں آ گئے ہیں۔ پولیس کو امید ہے کہ گرفتار لوگوں سے لندن بم حملوں کی منصوبہ بندی کرنے اور ان کو تربیت دینے والوں کے بارے میں مفید معلومات مل سکتی ہیں۔ پولیس اور خفیہ ادروں کے اہلکار یہ پتہ لگانے کی کوشش میں ہیں کہ لندن بم حملوں کے لیے ان اشخاص کو کس نے بھرتی کیا اور کس مالی مدد کی اور کیا ان جیسے اور نوجوانوں کو بھی بھرتی کیا جا چکا ہے۔ پولیس نے جعمہ کونارتھ کنزنگٹن کے علاقے سے مختار سعید ابراہیم اور رمزی محمد کو گرفتار کیا تھا۔ جمعہ کو ہی روم میں تیسرے مطلوب شخص عثمان حسین کو گرفتار کر لیا گیا۔برطانیہ کی حکومت عثمان حسین کو برطانیہ لانے کی کوشش کر رہی ہے۔ پولیس نے بدھ برمنگھم سے ایک مطلوب شخص یاسین حسن عمر کو گرفتار کیا تھا۔اکیس جولائی کے ناکام بم حملوں میں مطلوب چار میں تین شخص افریقی نژاد برطانوی مسلمان ہیں جبکہ محمد رمزی کے بارے میں زیادہ معلومات سامنے نہیں آئی ہیں۔ اس کے علاوہ پولیس نے نوٹنگ ہل کے علاقے سے ایک شخص کو اور لیور پول سٹیش سے دو عورتوں کو بھی گرفتار کیا ہے۔پولیس نے دو خواتین اور نوٹنگ ہل کے علاقے گرفتار ہونے والے شخص کی تفصیلات جاری نہیں کی ہیں۔ روم سے گرفتار کیے جانے والے عثمان حسین 7/21 کو لندن کے علاقے شیپفرڈز بُش میں ناکام بم حملے میں پولیس کو مطلوب تھے۔ مختار سعید ابراہیم پر الزام ہے کہ انہوں نے ہیکنی جانے والی بس نمبر 26 پر بم رکھا تھا۔ایریٹریا سے تعلق رکھنے والے مختار ابراہیم کے خاندان کا کہنا ہے کہ ان سے کوئی رابطہ نہیں ہے اور وہ گیارہ سال پہلے ان سے الگ ہو گیا تھا۔ پولیس کا کہنا کہ پولیس نے ایک فلیٹ میں گھسنے کے لیے ایک گھر کے دروازے آڑے تھے جس سے دھماکے کی آوازیں آئی تھیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||