BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 28 May, 2005, 14:38 GMT 19:38 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
یادگار تختی کا وقت

مرچنٹ
اسماعیل مرچنٹ، رتھ پراول جھابوالا اور جیمز آئیوری، رتھ نے 50 میں ناول نگاری شروع کی اور گزشتہ چالیس سال سے اس مثلث کا حصہ بنیں اور ای ایم فوسٹر کے ناول ’روم دو اے ویو‘ کے سکرین پلے پر آسکر حاصل کیا
کراچی کے امریکن سینٹر میں مرچنٹ آئیوری کی فلمیں دکھائی جا رہی تھیں۔ میں اگرچہ ایک عرصے سے امریکن سینٹر جانا چھوڑ چکا تھا لیکن ان فلموں کے لیے دل پر پتھر رکھ کر چلا گیا۔ اسی فیسٹیول کےدوران میں اسماعیل مرچنٹ اور جیمز آئیوری سے پہلی اور مرچنٹ سے آخری ملاقات ہوئی۔

اس فیسٹیول کے دوران جب طویل قامت اور بظاہر برطانوی دکھائی دینے والے جیمز آئیوری اور درمیانے قامت کے قدرے فربہ دکھائی دیتے اسماعیل مرچنٹ سے میری پہلی ملاقات ہوئی تو میں نے یہ خیال ہی نہیں کیا کہ وہ دونوں انڈیپنڈنٹ سنیما کے دو اہم لوگ ہیں اور خاص طور پر مرچنٹ ایک ایسے آدمی ہیں جن سے زندگی میں کچھ کرنے والوں کو بہت تحریک مل سکتی ہے۔

یہ فیسٹیول کوئی پانچ دن چلا اور میں باقاعدگی سے پانچوں دن جاتا رہا اور روزانہ دو دو اور تین تین فلمیں دیکھیں۔ ان میں خاص طور پر ہیلن پر بنائی جانے والی فلم Helen, Queen of the Nautch Girls مجھے اپنی تکنیک کی وجہ سے بہت پسند آئی۔

یہ ان دنوں کی بات ہے کہ میں بڑی شد و مد سے آخرِ کار ایک فلم ساز بن جانے پر یقین رکھتا تھا اور فلم سے لطف اٹھانے سے زیادہ ہر فریم کے بارے میں یہ سوچتا کہ یہ کیسے بنایا گیا ہو گا، اس میں کیمرہ کہاں ہو اور لائٹ کتنی اور کیسی استعمال کی گئی ہوں گی اور یہی وجہ تھی کہ جب پہلے دن کے بعد ڈرنکس پر مرچنٹ آئیوری جوڑی سے بات کرنے کا موقع ملا تو میں نے یہ پوچھا:

ہاورڈ اینڈ
جیمز آئیوری اور مرقنٹ کی ایک یادگار فلم ہاورڈ اینڈ کا ایک منظر

’آپ ان سب لوگوں سے اجازت لی ہے جن کی فلموں کے کلپ آپ نے ہیلن کی فلم میں استعمال کیے ہیں؟‘

جیمز کا چہرہ سپاٹ اور لاتعلق سا تھا اور مرچنٹ کا جواب تھا ہاں، کیوں نہیں۔

کیسے، کیا آپ سب کے پاس گئے اور کیا آپ نے سب کو ادائیگی بھی کی؟ میں نے فوراً دوسرا سوال داغ دیا۔

’ہاں ہم نے سب سے اجازت لی اور سب کے پاس تو نہیں جانا پڑا لیکن کچھ کے پاس اور سب کو کچھ نہ کچھ ادائیگی بھی کرنی پڑی۔ لیکن ہیلن کے پاس ہم گئے اور ہم نے فلم کے خیال پر بات کی اور انہوں نے نہ صرف اجازت دی بلکہ اوروں سے اجازت لینے میں تعاون بھی کیا۔‘ مرچنٹ نے جواب دیا۔ اس بار بھی جیمز کے چہرے کا تاثر لاتعلقی والا تھا۔ ان کے رویے سے صاف ظاہر تھا کہ وہ یا تو انتہائی کم آمیز انسان ہیں یا انہیں میرے سوال اچھے نہیں لگ رہے۔

میں ان دنوں ایک اخبار کا ایڈیٹر تھا اور میری مدیرانہ انّا نے مجھ پر ان دونوں کی عظمت کا کوئی اثر نہیں ہونے دیا تھا اور یہ مجھ سے ہی مخصوص نہیں، جاہل سے جاہل صحافی بھی خود کو دنیا کے سب سے زیادہ پڑھے لکھے آدمی سے افضل سمجھتا ہے اور اس کی نظر میں اگر کوئی افضل ہوتا ہے تو اس کا دفتری افسر یا مالک۔

فلم کے بارے میں تمہارا کیا خیال ہے؟ مرچنٹ نے مجھ سے پوچھا۔

میں بہت حیران ہوا ہوں، میں کبھی نہیں سوچا تھا کہ کوئی فلم ایسے بھی بنائی جا سکتی ہے، یہ ڈاکومنٹری اور فیچر فلم کا بہت عمدہ ملاپ ہے اور اس طرح کی فلمیں تو بہت سے اداکاروں کی زندگیوں پر بن سکتی ہیں اور بنائی جانی چاہیں۔ آئیڈیا بہت لیڈنگ ہے۔ مجھے تو ہیلن کی ساری ہی فلموں کا مزا آ گیا ہے۔ میں تو ہیلن کے بارے میں صرف سنتا ہی رہا ہوں کیونکہ فلمیں دیکھنے کا ہوش آنے سے پہلے ہی پاکستان میں بھارتی فلموں کی آمد بند ہو چکی تھی اور پھر ضیاالحق کے دور میں وی سی آر آیا اور کچھ بھارتی فلمیں دیکھنے کا موقع ملا لیکن اس فلم سے ہیلن ایک نیا ہی تصور سامنے آتا ہے۔ مجھے تو یہ فلم بہت اچھی لگی لیکن مجھے نہیں پتہ کہ اس نے کارباری کامیابی بھی حاصل کی ہے یا نہیں۔ مجھے تو نہیں لگتا کہ اس سے نے کچھ پیسے نکالے ہوں گے۔ بزنس کے اعتبار سے کیسی رہی یہ؟

 مرچنٹ
مرچنٹ کا کہنا تھا کہ زندگی اور کامیابی کے لیے اس بات کا بڑی اہمیت حاصل ہے کہ آپ تعلقات بنانے میں کیسے ہیں

میں ایک سانس میں بولتا چلا گیا اور میں نے دیکھا کہ اب جیمز کی آنکھی مجھ پر لگی تھیں اور وہ میری غیر متاثر کن دیسی انگریزی سے بات سمجھنے کی پوری کوشش کر رہا تھا۔
جب کہ مرچنٹ اپنے دونوں ہونٹ منہ میں دبا کر اثباتی انداز میں سر ہلا رہا تھا۔

میں نے اس ملاقات کے کچھ حصے کا ذکر ان دنوں لکھی جانے والی ایک نظم میں بھی کیا تھا اور اس کی وجہ اسماعیل نور محمد ابراہیم کا یہ سوال تھا جس کا جواب شاید ان کی سمجھ میں اس وقت تو نہیں آیا تھا لیکن بعد میں ہو سکتا ہے کہ اگر انہوں نے اس پر غور کیا ہو تو انہیں اس کا جواب سمجھ میں آ گیا ہو۔

پانچوں دن فلمیں دیکھنے والوں کی تعداد بہت کم تھی حالانکہ تھیٹر میں دو سو کے لگ بھگ لوگوں کی جگہ تھی لیکن سب ملا کر بھی پچاس لوگ نہیں ہوتے تھے۔

روزانہ ہی فلم ختم ہونے کے بعد کچھ گفتگو ہوتی جو جلد ہی ختم کر دی جاتی اور روزانہ ہی اس کا کوئی نہ کوئی حصہ ہم امریکن سینٹر کے پیچھے واقع میریٹ ہوٹل تک جاتے جاتے مکمل کرتے یہ فاصلہ چھ سات منٹ کا ہو گا۔

لوگ ہماری فلمیں دیکھنے کیوں نہیں آئے؟ مرچنٹ نے تیسرے دن امریکن سینٹر سے نکل کر میریٹ کے لیے سیدھے ہاتھ مڑتے ہوئے مجھ سے پوچھا۔ ان کا لہجہ پُر تحمل اور بے نیازانہ تھا لیکن اس کے باوجود اس میں وہ بے چینی چھپائے نہ چھپی تھی جو ایک تخلیقی فنکار کو اس وقت درپیش ہوتی ہے جب اس کے ایسے کام کا نوٹس تک نہیں لیا جاتا جو اس کے خیال میں یقینی طور اتفاق یا اختلاف کے لائق ہوتا ہے۔

News image
فلم ساز بننے کا فیصلہ مرچنٹ نے تیرہ سال کی عمر میں کیا

آپ لوگوں سے اپنی فلموں کے لیے امریکہ تک رسائی کی توقع کیسے کر سکتے ہیں؟ میں نے سوال اور سوال پوچھنے والے کو سامنے رکھے بغیر جواب دیا۔

لیکن ہم تو پاکستان آئے ہیں؟ ممبئی میں پیدا ہونے اور امریکہ میں تعلیم حاصل کرنے اور پھر وہیں سے ایک نصف امریکی کے ساتھ فلموں کے کریئر کا آغاز کرنے والے مرچنٹ نے حیران ہوتے ہوئے پوچھا۔

پاکستان نہیں، امریکن سینٹر! میں نے مسکراتے ہوئے جواب دیا۔انہوں نے آگے بات نہیں کی لیکن اثبات میں سر ضرور ہلایا۔

مرچنٹ آئیوری کی وہی فلمیں اگر کراچی کے بمبینوں یا کیپری جیسے تھیٹر میں بھی دکھائی جاتیں تو کسی شو کی کوئی سیٹ خالی نہ ہوتی اور ان پر وہ ردِ عمل بھی ہوتا جو فلم ساز اور ہدایت کار دیکھنا چاہتے تھے۔

مرچنٹ اور آئیوری کا تقریباً نصف صدی کا ساتھ رہا ہے اور وہ فلمیں کیسے بناتے تھے۔ آپس میں کن موضوعات پر بحثیں کرتے رہتے تھے اور کیسے کام کی تقسیم کرتے تھے یہ ایک الگ کہانی ہے۔

مرچنٹ کا کہنا تھا کہ فلمساز کے طور پر ان کا کام فلم کے لیے فنڈز مہیا کرنا ہی نہیں بلکہ یہ بھی ہوتا ہے کہ وہ کہانی سے لے کر اداکاروں تک کو ممکن حد تک کم سے کم پیسوں میں کام کرنے پر کیسے آمادہ کریں اور یہ انہیں نے کر دکھایا۔

مرچنٹ کو آئیوری سے سعید جعفری نےملایا تھا اور ان کی پہلی ملاقات مین ہٹن کے علاقے میڈیسن میں واقع ایک کافی شاپ میں ہوئی تھی اور مرچنٹ کا کہنا تھا کہ ’اس یادگار جگہ پر ایک یادگاری تختی لگنی چاہیے۔‘

اب تک وہ تختی نہیں لگی تھی لیکن شاید اب مرچنٹ کی بات کے پورا ہونے کا وقت آ گیا ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد