چھ دہائیوں پر چھائی ہوئی فلم | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
یہ گزشتہ صدی کے پہلے نصف کی آخری دہائی کا اوائل تھا۔ تب اخبارات و جرائد بہت بڑی قوت تھے اور ’سیٹیزن کین‘ کی ابتدا یوں ہوتی ہے کہ ایک طاقتور اخبار کا مالک اپنے قلعہ نما مکان میں بسترِ مرگ پر ’روز بڈ‘ کے دو لفظ ادا کرتا ہوا انتقال کر جاتا ہے۔ یہ قلعہ اس بڑے علاقے میں واقع ہے جسے کین نے خرید کر اپنی مرضی سے میدانی علاقے سے انسانوں کے بنائے ہوئے پہاڑی علاقے میں تبدیل کرایا ہے اور اسی میں ایک پہاڑ پر یہ قلعہ تعمیر کیا گیا تھا جو اس بات کا مظہر ہے کہ اسے بنانے والا انسان اپنے بارے میں کیا تصور رکھتا ہو گا، کیونکہ اس زمین پر پہاڑ بھی اس کی مرضی کے ہیں۔ میدان بھی اس کی مرضی کے اور باقی سب چیزیں بھی؟ اس قلعے کا نام ژناڈو ہے۔ ژناڈو، جو منگول فاتح اور جنگجو قبلائی خان کے گرمائی دارالحکومت میں اس قلعے کا نام تھا جس میں وہ گرمیوں کے دوران آ کر قیام کرتا تھا۔ جو میلوں پھیلا ہوا تھا اور جس میں کہا جاتا تھا کہ دنیا کا ہر درخت ہر پودا لا کر لگایا گیا تھا۔ کولرج نے اپنی نظم ’قبلائی خان‘ میں اس قلعے کا نقشہ کھینچا ہے۔ اپنی خدائی کے مالک چارلس فوسٹر کین (اورسن ویلس) کا انتقال ایک ایسے اکیلے پن میں ہوتا ہے کہ اس کے پاس کوئی بھی نہیں تھا۔ فلم کے شروع ہوتے ہی ہم اس خدائی میں داخل ہو جاتے ہیں۔ اورسن ویلس نے اسے ایسے ہی بنایا ہے کے جیسے ’خدا مر چکا ہے اس لیے اب کوئی بھی اس کی اُس خدائی میں داخل ہو سکتا ہے‘ جس میں اس کی زندگی تک کوئی اس کی مرضی کے بغیر داخل نہیں ہو سکتا تھا۔ یہ سنیماٹو گرافی کا کمال ہے۔ ٹولینڈ فلم شروع ہوتے ہی فلم بینوں کو ایسے کر چلتےہیں اور فلم شروع ہوتے ہی ہم اس کی گرفت میں آ جاتے ہیں۔
بڑے آہنی دروازے پر انگریزی میں ’کے‘ کا حرف بہت نمایاں دکھایا جاتا ہے اور اس کے بعد یہ نوٹس کہ اس علاقے میں ’داخل ہونا منع ہے‘ لیکن ہم اندر جا رہے ہیں اور ممنوعہ علاقے میں داخلہ صرف کین کی مملکت میں ہی میں نہیں اس کی ’زندگی‘ میں بھی داخل ہونا ثابت ہوتا ہے۔ ہم پر یہ راز کھلتا ہے کہ کین اکیلا کیوں تھا؟ اس نے اپنی بیوی کو اس محبوبہ کے لیے چھوڑ دیا تھا جو آخر اسے بھی چھوڑ کر جا چکی ہے۔ بہت جانا پہچانا ہونے کے باوجود اس کے بارے میں کوئی یہ نہیں جانتا کہ اس کی اس خدائی کا وارث کون ہو گا۔ اس کی موت خود ایک بڑی خبر ہے۔ اس خبر کو اسی بڑائی سے جاری اور نشر کیا جاتا ہے اور اس میں اس کی زندگی کے سارے کارنامے اور پہلو آ جاتے ہیں لیکن یہ پتہ نہیں چلتا کہ وہ کون تھا اور اس کی ذاتی زندگی کیسی تھی؟ کین کے اخبار کا ایڈیٹر یہ بات جاننا چاہتا ہے اور وہ اس کام پر ایک رپورٹر کو لگاتا ہے اور رپورٹر کین کے انتہائی قریبی تصور کیے جانے والے پانچ لوگوں سے کین کی کہانی معلوم کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ اس طرح کین کی پانچ متضاد شخصیتیں ہمارے سامنے آتی ہیں لیکن کین کے بٹلر کے اس بیان سے سامنے آنے والا یہ معمہ حل نہیں ہوتا کہ اس نے مرتے ہوئے ’روز بڈ‘ کے الفاظ کیوں ادا کیے اور ان لفظوں کا مطلب اور خود کین کے زندگی سے تعلق کیا تھا۔ کین کی زندگی کا کیونکہ کوئی اسرار سامنے نہیں آتا اس ’روزبڈ‘ کا اسرار حل کرنے کی کوشش شروع کی جاتی ہے۔ اسی ’روزبڈ‘ نے فلم اور ویلس کے لیے خاصی مشکلات پیدا کیں لیکن معاملہ کیا تھا یہ راز ایک عرصے بعد گور ودال نے اپنے کالم میں کھولا۔ کین صرف صحافت ہی کا نہیں سیاست کا بھی جانا پہچانا آدمی ہے۔ ویلس کے سامنے یقیناً یہ سوال ہو گا کہ ایسے جانے پہچانے آدمی کے بارے میں فلم کیسے شروع کی جائے؟ فلم میں اسی لیے ’روزبڈ‘ کا اسرار استعمال کیا گیا ہے اور اسے وہی معنی دیے گئے ہیں جو اب لیے بالعموم لیے جاتے ہیں لیکن ان دو حرفوں کو یہ اصطلاحی معنی اس فلم کی وجہ سے ملے ہیں یا کسی اور وجہ سے، مجھے اس بارے میں علم نہیں۔
فلم میں بتایا جاتا ہے کہ کین یہ الفاظ اپنی محبوبہ کے جسم کے خفیہ حصے کے بارے میں استعمال کرتا تھا اور گور ودال کہ مطابق اس وقت کا انتہائی بااثر پبلشر ڈبلیو آر ہرٹس بھی اپنی محبوبہ یا داشتہ کے جسم کے بارے میں یہی لفظ استعمال کرتا تھا۔ فلم کے کردار کین اور اور ہرٹس میں خاصی مشابہتیں ہیں۔ فلم میں یہ کردار کس نے بنایا اور سکرپٹ میں اس کی شکل ہرسٹ کی نجی زندگی سے ملتی جلتی بنانے میں کس کس نے کیا کردار ادا کیا اس پر گزشتہ پچاس سال کے دوران کئی لمبے اور بے نتیجہ مباحثے ہو چکے ہیں کہا یہ جاتا ہے کہ کین کے کردار کی اس زمانے کے کئی ایسے امریکیوں سے مشابہتیں تھیں جو بااثر دولت مند اور رنگین مزاج تھے اور اورسن ویلس اس فلم کے ذریعے ان تمام کرداروں کے تضادات اور معاشرتی کردار کو اجاگر کرنا چاہتا تھا اور یہ بتانا چاہتا تھا کہ امریکی معاشرے کے یہ لوگ دولت حاصل کرنے اور کچھ بننے کے لیے کیسے ہر حد سے گزرنے کے لیے تیار رہتے ہیں اور کیسے کیسے اس کی منصوبہ بندی کرتے ہیں لیکن بالآخر انہیں کیسے اختتام کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ آٹھ لاکھ ڈالر کے اخراجات سے تیار ہونے والی اس فلم کو ہرٹس کے دباؤ کی وجہ سے خاصی دشواریوں کا سامنا کرنا پڑا۔ ہرٹس نے نہ صرف اپنے اخبار میں اس فلم کی تشہیر روک دی بلکہ دوسرے اخباروں کو بھی اس پر اکسایا۔ اس کے علاوہ اس نے سنیما گھروں کے مالکان کو بھی دھمکیاں دیں کہ اگر انہوں نے فلم لی اور چلائی تو انہیں ہرجانے کے مقدمات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ہرٹس نے فلم کے تقسیم کار کی تمام فلموں کے اشتہاروں کا بھی بائیکاٹ کرا دیا۔
اس نے اسی پر بس نہیں کیا بلکہ اس کے گروپ نے اورسن ویلس کے بارے میں یہ پروپیگنڈا بھی کرایا وہ کمیونسٹ ہے اور اس زمانے کے امریکہ میں یہ الزام ذرائع ابلاغ کے کسی بھی آدمی کے خلاف سب سے خطرناک ثابت ہوتا تھا۔ ان تمام باتوں کے نتیجے میں فلم نہ صرف تاخیر سے بلکہ محدود پیمانے پر تقسیم ہوئی۔ لیکن اس کے باوجود کے تجارتی طور پر اگرچہ نمایاں کامیابی حاصل نہیں کر سکی ناقدین نے اس وقت بھی اسے بہترین فلم کے طور پر سراہا۔ ہرسٹ کی وجہ سے ’سٹیزن کین‘ پر کیا گزری اس پر تھامس لینن اور مائیکل ایپسٹین نے ’دی بیٹل آف سیٹیزن کین‘ کے نام سے فلم بنائی جو آسکر ایواڈ ڈاکومنٹری کے لیے نامزد ہوئی۔ اس کے بعد 1999 میں ایچ بی او کیبل ٹیلی ویژن نے اس پر ایک ٹیلی فلم بنائی جسے ’آر کے او- 281‘ کا نام دیا گیا جو سٹوڈیو میں فلم کے پراجیکٹ کی شناخت تھا۔ اس تنازعے کے باوجود ’سیٹیزن کین‘ نو شعبوں میں آسکر کے لیے نامزد ہوئی جس میں سے چارنامزدگیاں بطور ڈائریکٹر، ایکٹر، فلم اور شریک کہانی کار کے لیے اورسن ویلس ہی کی تھیں، جو ایک ریکارڈ تھا اگرچہ اسے آسکر صرف اویجنل اسکرپٹ ہی کا ملا۔ امریکہ سے باہر یہ فلم دوسری عالمی جنگ کے بعد ہی ریلیز ہوئی اور اس کے بعد ہی اسے وہ پذیرائی ملی جو اسے ملنی ہی چاہیے تھی۔ بظاہر ’سیٹیزن کین‘ ایک بیانیہ فلم ہے لیکن بیانیہ ہونے کے باوجود اس نے اپنے وقت کی تمام روایات سے انحراف کیا اور اس پر بنائی جانے والی دو فلموں کے علاوہ اتنا لکھا گیا ہے کہ شاید کسی اور فلم پر لکھا گیا ہو گا۔
فلم مبصرین اس بات پر متفق ہیں کہ کین کی کہانی کو کسی اور طرح نہیں فلمایا جا سکتا تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ اس کی شروعات ممکن ترین بہتر شروعات، اس کا وسط ممکن ترین بہتر وسط اور اس کا اختتام ممکن ترین بہترین اختتام ہے۔ کچھ اہم مبصرین ’سٹیزن کین‘ کے بہترین فلم ہونے سے اتفاق نہیں کرتے لیکن وہ یہ بھی نہیں بتاتے کہ ان کے خیال میں سب سے بہترین فلم کون سے ہے۔ شاید وہ اس بات پر یقین رکھتے ہوں گے کے سب سے بہترین کی جگہ تو ہمیشہ خالی رہتی ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||