BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 25 April, 2006, 18:55 GMT 23:55 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ایک سو سال میں سو بہترین فلمیں

سٹیزن کین،
سٹیزن کین، گزشتہ چھ دہائیوں سے سب سے بہتر قرار دی جا رہی ہے
زندگی کے ہر شعبے کی طرح فلم میں بھی ایک مدت سے دو متوازی دھارے چل رہے ہیں یہاں فنکارانہ عزت، احترام اور مقام کمانے والے بھی گنے جاتے ہیں اور ان کو بھی نظر انداز نہیں کیا جاتا جو ایسی فلمیں بناتے ہیں کہ فلم بین دیکھتے دیکھتے تھکتے نہیں۔


آمدنی اور منافع کے اعتبار سے امریکی فلمیں یعنی ہالی وڈ سر فہرست ہے ہی لیکن فن کے اعتبار سے بھی امریکی سنیما کسی سے کم نہیں۔ اس اعتبار سے فلم فنون کا واحد شعبہ ہے جس میں امریکہ کو مکمل بالا دستی حاصل ہے۔

دنیا بھر میں کئی ادارے فلموں کے معیار کا تعین کرتے ہیں۔ ان میں سے کچھ ایسے ہیں جو ہر سال بہترین فلموں کا یا فلموں کے مختلف شعبوں میں اعلیٰ کارکردگی کا تعین کرتے ہیں۔ ان میں سے کچھ اداروں نے ایک عرصے سے غیر مغربی ملکوں کی فلموں کو بھی اس معیار پر دیکھنا اور شمار میں لان شروع کیا ہے۔ اس کے علاوہ کچھ عرصے سے مختصر، تجرباتی اور دستاویزی فلموں کی بھی کیٹیگریاں بنائی گئی ہیں۔

ان میں زیاددہ تر ادارے اگرچہ امریکی ہیں لیکن ان کی ساکھ بڑی حد تک غیر متنازع ہے۔ گزشتہ ہزاریہ کے اختتام پر کم و بیش تمام ہی اداروں نے فلموں کے سو سال کا بھی جائزہ لیا اپنے اپنے معیار سے سو فلموں کا انتخاب کیا۔

ان میں سے جن اداروں کے انتخاب کو ہم نے سامنے رکھا ہے ان میں امریکن فلم انسٹیسیوٹ کا سروے آف امریکن موویز، نیشنل فلم رجسٹری آف امریکہ یا یو

,titanic
فلم ٹائٹینک آمدنی اور منافع کے حجم کے اعتبار سے اب تک سر فہرست ہے

ایس لائبریری آف کانگریس، اکیڈمی ایوارڈ، لاس اینجلس فلم کریٹک ایسوسی ایشن، یو ایس نیشنل سوسائٹی آف فلم کریٹکس، نیو یارک فلم کریٹک سرکل اور برٹش فلم اکیڈمی کے جریدے سائٹ اینڈ ساؤنڈ کے سروے اور انتخاب جو وہ 1952 سے مسلسل ہر دس سال بعد کر رہا ہے۔ یہ انتخاب سب سے زیادہ نمائندہ اور قابلِ اعتبار تصور کیے جاتے ہیں اور ان میں دوسرے تمام انتخابوں کو بھی سامنے رکھا گیا اور دو ہزار دو میں جن فلموں کا انتخاب کیا گیا ہے ان گزشتہ تمام انتخابات کو سامنے رکھا گیا ہے۔

ان انتخابات کے مطابق امریکی فلم ’سٹیزن کین‘ نے اپنے بننے کے بیس سال بعد سے نہ صرف پہلے بننے والی بلکہ اب تک بننے والی دنیا کی سب سے بہترین فلم کا اعزاز حاصل کیا اور اب تک اس کا یہ اعزاز برقرار ہے۔

’سٹیزن کین‘ کے ڈائریکٹر اورسن ویلس کو اکثر فلمی حلقوں میں دنیا کا بہترین ڈائریکٹر مانا جاتا ہے اور ’سٹیزن کین‘ ان کی پہلی فلم تھی اور جب انہوں نے یہ فلم بنائی ان کی عمر پچیس سال تھی۔

دس بہترین فلموں میں ایک بار
 ’بریف انکاؤنٹر‘ 1945، ’سٹی لائٹس‘ 1931، ’گاڈ فادر ون‘ 1972 اور ’گاڈ فادر ٹو‘ 1974، ’گولڈ رش‘ 1925، ’ایوان دی ٹریبل‘ 42-1946، ’ان ٹالرینس‘ 1916، ’لا جیور سی لیو یا اے ڈے بریک‘ 1939، ’لوژیانہ سٹوری‘ 1947، ’دی ملین‘ 1930، ’پتھر پنچالی‘ 1955، ’پرسونا‘ 1967، ’سیون سوماری‘ 1954، ’سن رائز‘ 1927، ’لا ٹیرا ٹریما‘ 1948 اور ’وائلڈ سٹابریز‘ 1957 ایک ایک بار دس بہترین فلوں میں شمار کی گئیں

اسی طرح دسمبر 1997 میں ریلیز ہونے والی فلم ’ٹائٹینک‘ دنیا میں اب تک حجم کے اعتبار سے سب سے زیادہ آمدنی اور منافع حاصل کرنے والی فلم ہے اگرچہ اخراجات اور منافع کے تناسب کے اعتبار سے فروری 1993 میں ریلیز ہونےوالی کولمبیا فلمز کی ’الماریاچی‘ سرِ فہرست ہے اور اس فلم نے صرف امریکہ میں لاگت کی تیس گنا آمدنی حاصل کرنے کا ریکارڈ قائم کیا ہے۔

ٹوینٹیتھ سینچری فوکس کی ’ٹائٹینک‘ پر ساٹھ کروڑ ڈالر کے اخراجات آئے اور جون 2006 دنیا بھر میں اس کی آمدنی ایک ارب تیراسی کروڑ ڈالر سے زیادہ تھی۔

گزشتہ صدی کے اختتام پر دنیا بھر کے جانے مانے ایک سو آٹھ ہدایتکاروں اور ایک سو پینتالیس نقادوں، ادیبوں اور ماہرین تعلیم نے صدی کی سو بہترین فلموں کا انتخاب کیا۔

گزشتہ پچھہتر سال سے زائد عرصے سے ہر سال مختلف ادارے سال کی بہترین فلم کا انتخاب کرتے آ رہے ہیں اور 1952 سے ہر دس سال بعد دس بہترین فلموں کا انتخاب بھی کیا جا رہا ہے۔ آخری انتخاب سن 2002 کو ہوا اور اس کے ساتھ ایک صدی کی تکمیل ہونے پر اب تک بنائی جانے والی سو بہترین فلموں کا بھی انتخاب کیا گیا۔

اب تک سرِ فہرست شمار کی جانے والی دس فلموں میں بالترتیب امریکن ڈائریکٹر اورسن ویلس کی ’سٹیزن کین‘ 1941، فرانسیسی ڈائریکٹر جین رینائر کی ’لا ریگلی ڈی جیو یا رولز آف دی گیمز‘ 1939، امریکن ڈائریکٹرالفرڈ ہچکاک کی ’ورٹیگو‘ 1958، امریکن ڈائریکٹر فرانسس فورڈ کپولا کی ’گاڈ فادر حصہ دوم‘ 1974، جاپان کے یاسوجیرو اوزو کی ’ٹوکیو سٹوری‘1953، امریکی ڈائریکٹر سٹینلے کبرک کی’2001، اے سپیس اوڈیسی‘ 1968، روسی ڈائریکٹر سرگئی ایزن سٹائن کی ’بیٹل شپ پوٹمکن‘1925، جرمن ڈائریکٹر مرناؤ کی سن رائز 1927، اطالوی ڈائریکٹر فیڈرو فیلینی کی ’½ 8‘ 1963 اور امریکن ڈائریکٹر جینی کیلی و سٹینلے ڈونن کی سنگنگ ان دی رین 1952 شامل ہیں۔

ان میں ’سٹیزن کین‘ گزشتہ سو سال کی سب سے پسندیدہ فلم ہے اور اس کی تصدیق ڈائریکٹروں ہی نے نہیں نقادوں اور رائے عامہ کے جائزوں نے بھی کی ہے اور یہ فلم 1962، 1972، 1982، 1992 اور 2002 کےجائزوں میں پہلے نمبر پر رہی۔

 رولز آف دی گیمز
فرانسیسی ڈائرکٹر جین رنائر کی فلم ’رولز آف دی گیمز‘ گزشتہ چھ دہائیوں کے دوران مسلسل دس بہترین فلموں میں شامل رہی ہے

گزشتہ ساٹھ سالوں کے دوران ایزنسٹائن کی ’بیٹل شپ پوٹیمکن‘ مسلسل سو سال کی دس بہترین فلموں میں شمار ہوتی رہی ہے اور بالترتیب ایک بار تیسرے، ایک بار چوتھے، تین بار چھٹے اور ایک بار ساتویں نمبر پر رہی ہے۔

فرانسیسی ڈائریکٹر جین رینائر کی ’لا ریگلی ڈی جیو یا رولز آف دی گیمز‘ 1939 بھی مسلسل چھ دہائیوں سے دس بہترین فلموں میں شامل ہے اور تین بار دوسرے، دو بار تیسرے اور ایک بار دسویں نمبر پر رہی ہے۔

اطالوی ڈائریکٹر مائیکل انجیلو انتونیوننی کی 1960 کی فلم ’لا ایونٹورا یا دی ایڈونچر‘ تین بار دس بہترین فلموں میں شامل رہی ہے۔ ایک بار دوسرے، ایک بار پانچویں اور ایک بار ساتویں نمبر پر۔

فیڈریکو فیلینی کے ’½ 8‘ بھی تین بار دس سرِ فہرست فلموں میں رہی ہے۔ ایک بار چوتھے ایک بار پانچویں اور ایک بار نوویں نمبر پر۔

فرانسیسی فلم ڈائریکٹر کارل تھیوڈور ڈریئر کی ’پیشن آف جون آرک 1928‘ تین بار ٹاپ ٹن میں شامل رہی اور الفرڈ ہچکاک کی ’ورٹیگو‘ بھی تین بار دس بہترین فلموں شمار کی گئی۔

جو فلمیں دو بار دس بہترین فلموں میں شامل کی گئیں ان میں فرانسیسی ڈائریکٹر ژاں ویگو کی ’لا ایٹلانٹا‘ 1934، اطالوی ڈائریکٹر ویٹوریو ڈی سیکا کی ’دی بائی سائیکل تھیف‘ 1949، امریکی ڈائریکٹر بسٹر کیٹن اور کلائڈ بروکمین کی ’دی جنرلز‘ 1925، امریکی ڈائریکٹر ایرخ وان سٹروہم کی ’گریِڈ‘ 1924، اورسن ویلس کی ’دی میگنیفیسنٹ امبرسنز‘ 1942، امریکی ڈائریکٹر جان فورڈ کی دی ’سرچرز‘ 1956، جان کیلی اور سٹینلے ڈونِن کی ’سنگنگ ان دی رین‘ 1952، یاسوجیرو اوزو کی ’ٹوکیو سٹوری‘ 1953، سٹینلے کوبرک کی ’2001 سپیس اوڈیسی‘ 1968اور جاپانی ڈائریکٹر کینجی میزو گوشی کی ’اوگیٹسو مونو گاتاری‘ 1953 شامل ہیں۔

اگرچہ ان بہترین فلموں کا تعین کرنے والے لوگ اور کرانے والے زیادہ تر ادارے امریکہ، برطانیہ اور فرانس سے تعلق رکھتے ہیں اور ان کے فیصلوں پر اعتراض بھی

گاڈ فادر
گاڈ فادر گزشتہ سو سال کی دس بہترین فلموں میں شامل ہے
کیا جاتا رہا ہے لیکن ان اعتراضات سے یہ حقیقت تبدیل نہیں ہوئی کہ انہوں نے جن فلموں کا انتخاب کیا وہ فن کے کمال کی معراج نہیں تھیں اس لیے ان فیصلوں کو بہر صورت ایک ساکھ اور اعتماد بھی حاصل ہے لیکن اس کے باوجود یورپی ممالک نے اس عدم اعتماد کا اظہار 1988 یورپین فلم اکیڈمی بنا کر کیا جس کا مقصد تو بظاہر یورپی ثقافت کا فروغ تھا لیکن اسی سال یورپین اکیڈمی ایوارڈ بھی شروع کر دیا گیا اور 2005 میں اس ایوارڈ کی اٹھارہویں سالانہ تقریب ہوئی۔
اینیمیٹڈ فلمپیغمبر اسلام پر فلم
اینیمیٹڈ فلم کی نمائش عید کی دن شروع ہوئی
مائیکل مورفارن ہائٹ نائن الیون
مائیکل مور کی مشہور فلم ویب سائٹ پر
سکارلٹوینس فلم فیسٹیول
وینس فیسٹیول پر دنیا بھر کے اداکاروں کا اجتماع
بھارتی فلمی میلہبھارتی فلمی میلہ
پاکستانی ڈائریکٹر کے تحت بھارتی فنکار
بڑوں کی کارٹون فلمبڑوں کی کارٹون فلم
بچوں کے میڈیم میں بڑوں کے لئے سبق
اسی بارے میں
ملین ڈالر بےبی جیت گئی
28 February, 2005 | فن فنکار
آشوتوش آسکر کے ووٹنگ ممبر
23 February, 2005 | فن فنکار
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد