BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 05 March, 2006, 11:06 GMT 16:06 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
فلم کے مقابلے میں فلم بنائیں: ابو اسد
خود کش بمباروں کا نشانہ بننے والوں کے اقرباء نے فلم کی نامزدگی مسترد کرانے کے لیئے ایک درخواست دی ہے
آسکر ایوارڈ کے لیئے نامزد ہونے والی خودکش بمباروں پر بننے والی فلم جو کے ہدایتکار ابو اسد نے اپنی فلم پر اعتراضات کے جواب میں کہا ہے کہ مظاہرہ کرنے والوں کو چاہیئے کہ وہ فلم کے مقابلے میں فلم بنا کر جواب دیں۔

خودکش بمبار پر بننے والی اس فلم کو لاس انجلیس میں بہترین غیر ملکی فلم کے حوالے سے انڈیپینڈنٹ سپرٹ ایوارڈ دیا گیا۔

اس فلم کی کہانی دو فلسطینیوں کی ایک خود کش مشن سے چوبیس گھنٹے پہلے کی زندگی پر مرکوز ہے۔

فلسطینی خود کش بمباروں کا نشانہ بننے والے اسرائیلی شہریوں کے رشتہ داروں نے مطالبہ کیا ہے کہ اکیڈمی ایوارڈ کے لیئے منتخب کی گئی فلموں کی فہرست میں شامل اس فلم کو فہرست سے خارج کیا جائے۔

اس فلم کو بہترین غیر ملکی فلم کا آسکر ایوارڈ جیتنے کے لیئے فیورٹ قرار دیا گیا ہے۔

تنقید کا جواب
 مجھے علم ہے کہ بعض لوگوں کو اس فلم سے تکلیف پہنچی ہے اور میں یہ بھی سمجھتا ہوں کہ فلم کے خلاف احتجاج کرنا مشکل نہیں۔ (پرامن) احتجاج کرنا تشدد سے بہتر ہے
ہدایت کار ابو اسد

فلم کے ہدایت کار ابو اسد نے فلم پر اعتراضات کے جواب میں کہا: ’میں جواب میں صرف یہی کہہ سکتا ہوں کہ آپ خود اپنی فلم بنا لیں۔‘

انہوں نے کہا: ’مجھے علم ہے کہ بعض لوگوں کو اس فلم سے تکلیف پہنچی ہے اور میں یہ بھی سمجھتا ہوں کہ فلم کے خلاف احتجاج کرنا مشکل نہیں۔ (پرامن) احتجاج کرنا تشدد سے بہتر ہے۔‘

ابو اسد کا کہنا تھا کہ ان کی فلم دراصل دیکھنے والوں کے ذہنوں میں فلم سوال بھی پیدا ہوں گے۔

اس فلم کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ یہ بہترین غیر ملکی فلم کی حیثیت سے آسکر ایوارڈ جیت لے گی

انہوں نے کہا: ’ہم سب اس فلم کے بارے میں مختلف رائے رکھتے ہیں۔ لوگوں کو اس بات کا حق ملنا چاہیئے کہ وہ جیسے چاہیں، فلم کے بارے میں کوئی رائے قائم کریں۔‘

انہوں نے کہا کہ اسرائیل میں اب بھی یہ فلم سنیما گھروں میں دکھائی جا رہی ہے اور لوگ اسے دیکھنے کے لیئے جوق در جوق آ رہے ہیں۔

اگلے پندرہ دنوں میں یہ فلم فلسطینی علاقوں سمیت مشرقِ وسطیٰ میں بھی نمائش کے لیئے پیش کر دی جائے گی۔

اسرائیل کے ان بزرگوں کا ایک گروہ جو تین برس پہلے ایک خود کش بم حملے میں اپنے نوجوان بچوں سے محروم ہوگئے تھا، کہتا ہے کہ بتیس ہزار افرد نے اس فلم کی ایوارڈ کے لیئے نامزدگی کے خلاف ایک پٹیشن پر دستخط کیئے ہیں۔

ان لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ فلم خودکش بمبار کا نشانہ بننے والوں کی اذیت سے صرفِ نظر کرتی ہے اور اس سے مزید حملوں کی حوصلہ افزائی ہوگی۔

اسی بارے میں
آسکر نامزدگی پر خوش ستارے
01 February, 2006 | فن فنکار
ملین ڈالر بےبی جیت گئی
28 February, 2005 | فن فنکار
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد