BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 28 February, 2005, 22:03 GMT 03:03 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
آسکر جیتنے والی فلم پہ اعتراض

News image
فلم میں کام کرنے والے سات بچوں کے مستقبل سے متعلق تنازعہ کھڑا ہو گیا ہے
کلکتہ میں طوائفوں کی اولاد پر بنائی گئی فلم نے بہترین دستاویزی فلم کے لیے آسکر جیتا ہے مگر اس میں بچوں اور انکے ماحول کودکھائے جانے کے طریقے پر تنقید کی جا رہی ہے۔

برطانوی نژاد فوٹوگرافر زانہ برسکی نے کلکتہ میں سونا گاچی کہ علاقے میں رہنے والے سات بچوں کو کیمرے دیئے جن سے اپنی زندگی کہ مناظر کو فلم بند کرنا سکھایا۔

مس برسکی نے ڈاکیومینٹری’بارن ان ٹو براتھلز‘ میں ان بچوں کے تجربے کو فلم بند کیا گیا ہے جس میں ان کی معصومیت اور دشوار حالات سے جنگ ظاہر ہے۔

اب تک یہ فلم دنیا بھر کہ 30 میلوں میں دکھائی جا چکی ہے جس کہ باعث مس برسکی اور انکے امریکی شریک ڈائریکٹر روز کوفمن کو بیشمار ایوارڈ ملے ہیں۔

فلم میں دکھائے جانے والے بچوں میں سے چار لڑکیاں اور تین لڑکے ہیں جن کو اپنے ماحول سے بچانے کی کوششوں کو دکھایا گیا ہے۔

News image
فلم کے ڈائریکٹروں برسکی اور کوفمن نے فلم کا دفاع کیا ہے
اگرچہ بعض حلقوں نے اس فلم کی زبردست تعریف کی ہے جبکہ بعض حلقے اس بات پر نالاں ہیں کہ یہ فلم ان نوجوان ستاروں کی غلط تصویر پیش کرتی ہے جو ان کےلیے مزید پریشانی کا باعث بن سکتا ہے۔

بنگالی زبان بولنے والے بچوں اورفلم بنانے والے انگریزوں کےلیے مترجم کا کام کرنے والی پارتھا بینرجی کا کہنا ہے کہ اس ڈاکیومینٹری میں اخلاقی مسائل ہیں۔ آسکر تیار کرنے والی اکیڈمی آف موشن پکچرآرٹس اینڈ سائنسز کو لکھے گئے خط میں انہوں نے کہا ہے کہ اس سارے تجربے سے بچوں کی زندگی بجائے بہتر بنانے کے اور بدتر کردی ہے۔اور انہو ں نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ کیا کوٹھے پر پیدا ہونے والوں کی کہانی کو ڈاکیومینٹری کہنا چاہیے جبکہ اس میں شامل بہت سے شاٹ مصنوعی ہیں۔

’میں ان بچوں سے پچھلے چند سالوں میں کئی بار ملنے گیا ہوں اور یہی دیکھا ہے کہ مس برسکی کی فلم میں کام کرنے کہ بعد انکی زندگی پہلے سے بدتر ہو گئی ہے‘۔

’بچوں میں مایوسی اور ناامیدی بڑھ گئی ہے جبکہ انکا خیال تھا کہ اس پراجیکٹ میں کام کرکے ان کو ایک بہتر زندگی گزارنے کا موقع فراہم ہوگا۔‘

News image
فلم کی تصویروں کی فروخت سے ایک لاکھ ڈالر حاصل ہوئے ہیں
دوسری طرف فلم بنانے والوں کا کہنا ہے کہ فلم میں کام کرنے والے بچوں کی زندگی پہلے سے بہتر ہو گئی ہےاور وہ ای میل اور ٹیکسٹ سے اپنی اداسی کااظہارکرتےہیں۔

مس برسکی اور مسٹر کوفمن سوناگاچی میں ایک آرٹ اسکول کھولنے کا ارادہ رکھتے ہیں مگر لوگوں کہ اعتراض سے ڈرتے ہوۓ فلم کو بھارت میں سکرین کرنے کا ارادہ ترک کر دیا ہے۔

مسٹر کوفمن نے کہا ہے کہ وہ فلم میں دیکھائی گئی عورتوں کی خواہشات کا احترام کررہے تھے جو اپنی اور اپنے بچوں کی شناخت کو محفوظ رکھنا چاہتے تھے۔

واشنگٹن میں فلم سکرین ہونے کہ دوران کچھ ناظرین نے ناپسندی کا اظہار کیا ہے کیونکہ فلم میں بھارتی امدادی تنظیموں اور انکی جدوجہد کو نظرانداز کیا گیا ہے اور انگریز ’ہیرو‘کو فرشتہ دکھایا گیا ہے۔

فلم بنانے کہ دوران مس برسکی ریڈ لائٹ ڈسٹرکٹ میں بھی رہائش پذیرتھیں جہاں انہوں نے بچوں کو بہتر اسکول میں داخل کروانے کےلیے افسر شاہی اور سماجی رویوں سے جنگ کی۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد