آشوتوش آسکر کے ووٹنگ ممبر | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بالی ووڈ کے ہدایت کار آشوتوش گواریکر کے لئے اس سال کے آسکر ایوارڈز ان کی زندگی کا ایک اہم موقع ہوگا کیونکہ وہ پہلی مرتبہ اکیڈمی ایوارڈز کے ووٹنگ ارکان میں شامل ہونگے۔ گواریکر کو اس اہم ممبرشپ کی پیشکش2001 میں ان کی فلم لگان کو آسکر میں بہترین غیر ملکی فلموں کے زمرے میں نامزد کیئے جانے کے بعد کی گئی۔ فلم لگان جس نے عالمی سطح پر شہرت اور کامیابی حاصل کی تھی آسکر ایوارڈز میں بوسنیا اور ہرزیگووینا کی فلم ’No Man's Land‘ سے ہارگئی تھی۔ گواریکر کا کہنا ہے کہ بھارت کی اتنی بڑی فلم انڈسٹری ہونے کے باوجود لوگ اس بات کو سمجھتے ہیں کے ہماری فلموں کے آسکر کی تقریبات میں شامل ہونے سے انڈسٹری کو عالمی شہرت ملی ہے۔ اس وقت بھارت میں لوگ آسکر ایوارڈز میں بہت دلچسپی لیتے ہیں لوگوں کے لئے یہ اولمپکس کی طرح ہوگئے ہیں جنہیں وہ ٹی وی پر دیکھتے ہیں۔ ’جب میری فلم کو آسکر کے لئے نامزد کیا گیا تو مجھے یقین نہیں آرہا تھا میں اپنے ارد گرد لوگوں سے یہ پوچھنا چاہتا تھا کہ کیا واقعی میں نے صحیح سنا ہے یا پھر میں کچھ زیادہ ہی پرامید ہو رہا ہوں۔‘ اکیڈمی کے ووٹنگ ضابطوں کے مطابق گواریکر ہدایتکاری کے زمرے میں پانچ فلموں کو نامزد کریں گے لیکن اکیڈمی کے تمام دوسرے ممبرز بھی پانچ پانچ بہترین فلموں کو نامزد کریں گے
اکیڈمی اس بات کو یقینی بناتی ہے کہ اس کے تمام ممبرز نے اس سال کے آسکر کی تمام فلمیں دیکھی ہوں جو تقریباً 200 فلمیں ہوتی ہیں۔ممبرز کو یہ فلمیں ڈی وی ڈی پر بھیجی جاتی ہیں۔ اکیڈمی کا ایک ضابطہ یہ بھی ہے کہ ووٹرز اپنی پسند پر کسی سے بات نہیں کر سکتے۔. گواریکر بھارت ہی میں رہ کر روایتی بالی ووڈ فلمیں بنانا چاہتے ہیں۔ لیکن وہ ہالی ووڈ کا دورہ بھی کرتے رہتے ہیں جہاں انہیں اکیڈمی ممبرشپ کی وجہ سے اس کی لائبریری اور آرکائیو تک رسائی ملتی ہے۔ اس کے علاوہ انہیں ہالی ووڈ کے فلمسازوں سے ملنے کا موقع بھی ملتا ہے۔ گواریکر کا کہنا ہے دنیا بھر میں فلمسازی کا تقریباً ایک ہی طریقہ ہے اگر کہیں فرق ہے تو وہ مارکیٹنگ میں ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||