BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 23 February, 2005, 08:51 GMT 13:51 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
آشوتوش آسکر کے ووٹنگ ممبر
آشو توش گواریکر
اکیڈمی ایوارڈز کے ووٹنگ ممبرز میں شامل
بالی ووڈ کے ہدایت کار آشوتوش گواریکر کے لئے اس سال کے آسکر ایوارڈز ان کی زندگی کا ایک اہم موقع ہوگا کیونکہ وہ پہلی مرتبہ اکیڈمی ایوارڈز کے ووٹنگ ارکان میں شامل ہونگے۔

گواریکر کو اس اہم ممبرشپ کی پیشکش2001 میں ان کی فلم لگان کو آسکر میں بہترین غیر ملکی فلموں کے زمرے میں نامزد کیئے جانے کے بعد کی گئی۔

فلم لگان جس نے عالمی سطح پر شہرت اور کامیابی حاصل کی تھی آسکر ایوارڈز میں بوسنیا اور ہرزیگووینا کی فلم ’No Man's Land‘ سے ہارگئی تھی۔

گواریکر کا کہنا ہے کہ بھارت کی اتنی بڑی فلم انڈسٹری ہونے کے باوجود لوگ اس بات کو سمجھتے ہیں کے ہماری فلموں کے آسکر کی تقریبات میں شامل ہونے سے انڈسٹری کو عالمی شہرت ملی ہے۔

اس وقت بھارت میں لوگ آسکر ایوارڈز میں بہت دلچسپی لیتے ہیں لوگوں کے لئے یہ اولمپکس کی طرح ہوگئے ہیں جنہیں وہ ٹی وی پر دیکھتے ہیں۔

’جب میری فلم کو آسکر کے لئے نامزد کیا گیا تو مجھے یقین نہیں آرہا تھا میں اپنے ارد گرد لوگوں سے یہ پوچھنا چاہتا تھا کہ کیا واقعی میں نے صحیح سنا ہے یا پھر میں کچھ زیادہ ہی پرامید ہو رہا ہوں۔‘

اکیڈمی کے ووٹنگ ضابطوں کے مطابق گواریکر ہدایتکاری کے زمرے میں پانچ فلموں کو نامزد کریں گے لیکن اکیڈمی کے تمام دوسرے ممبرز بھی پانچ پانچ بہترین فلموں کو نامزد کریں گے

لگان
لگان بہترین غیر ملکی فلموں کے زمرے میں نامزد کی گئی تھی

اکیڈمی اس بات کو یقینی بناتی ہے کہ اس کے تمام ممبرز نے اس سال کے آسکر کی تمام فلمیں دیکھی ہوں جو تقریباً 200 فلمیں ہوتی ہیں۔ممبرز کو یہ فلمیں ڈی وی ڈی پر بھیجی جاتی ہیں۔

اکیڈمی کا ایک ضابطہ یہ بھی ہے کہ ووٹرز اپنی پسند پر کسی سے بات نہیں کر سکتے۔.

گواریکر بھارت ہی میں رہ کر روایتی بالی ووڈ فلمیں بنانا چاہتے ہیں۔ لیکن وہ ہالی ووڈ کا دورہ بھی کرتے رہتے ہیں جہاں انہیں اکیڈمی ممبرشپ کی وجہ سے اس کی لائبریری اور آرکائیو تک رسائی ملتی ہے۔

اس کے علاوہ انہیں ہالی ووڈ کے فلمسازوں سے ملنے کا موقع بھی ملتا ہے۔

گواریکر کا کہنا ہے دنیا بھر میں فلمسازی کا تقریباً ایک ہی طریقہ ہے اگر کہیں فرق ہے تو وہ مارکیٹنگ میں ہے۔

ہندی فلم ’شبد‘’شبد‘ سےسکھ ناراض
سکھ برادری ’سردار جی‘ کے لطیفوں پر خفا
آشونچھوٹی فلم، بڑا پیغام
لٹل ٹیرارسٹ کے خالق کیا کہتے ہیں؟
میرا’نظر‘تنازعہ کا شکار
میرا کو ’ نظر‘ میں کام کرنے پر دھمکیاں
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد