’دی سی انسائیڈ ‘ایک سچی کہانی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہسپانوی فلم’دی سی انسائیڈ‘ نے پہلے ہی گولڈن گلوب ایوارڈ جیت کر آسکر جیتنے کے اپنے امکانات بڑھا لئے ہیں۔ یہ فلم اسپین کے ایک شخص اسپینیارڈ رومن سیمپیڈرو کی سچی کہانی پر بنائی گئی ہے جس نے ایک حادثے میں گردن تک مفلوج ہونے کے بعد30 سال تک قانونی لڑائی لڑی کہ انہیں ایک باعزت موت کی اجازت دی جائے۔ اس حادثے کے بعد سیمپیڈرو کا دماغ پوری طرح کام کرتا تھا اور وہ اس خیال سے ہی پریشان تھے کہ اب انہیں تمام زندگی اپنے گھر والوں کا محتاج بن کر جینا ہوگا۔ سیمپیڈرو کا جسم اس طرح مفلوج ہو گیا تھا کہ وہ خود اپنی جان بھی نہیں لے سکتے تھے۔ اس لئے انہوں نے مرنے کے اپنے حق کے لئے قانونی لڑائی شروع کی ان کا کیس یوروپ کی عدالتوں تک پہنچا لیکن ان کی درخواست کو نظر انداز کر دیا گیا۔ لیکن 1998 میں 55 سال کی عمر میں پر اصرار حالات میں سیمپیڈرو کی موت ہو گئی کوئی نہیں جانتا کے آخر کار انہیں زہر دینے پر کون رضامند ہوا۔ سیمپیڈروکے کیس پر اسپین میں بحث شروع ہو گئی تھی لیکن خود انہوں نے اس کے حق میں یا خلاف کوئی تحریک نہیں چلائی ان کے لئے یہ ایک ذاتی لڑائی تھی۔ فلم کے ہدایت کار الیجینڈرو امنبار ہیں اور ناقدین نے اسپین کے ادکار زیوئیر بارڈیم کوسیمپیڈرو کے رول میں پسند کیا اس رول کے لئے انہیں پچھلے سال وینس گلم فیسٹیول میں بہترین اداکار کا ایوارڈ بھی ملا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||