BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 17 February, 2005, 15:46 GMT 20:46 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
چھوٹی فلم، بڑا پیغام

اشون کمار
’ دی لٹل ٹیررسٹ‘ بنانے کا خیال واجپیئ کے دور میں آیا
ایک مختصر ہندوستانی فلم ’ دی لٹل ٹیررسٹ‘ اکیڈمی ایوراڈز کے لیے نامزد کی گئی ہے۔ فلم کے نوجوان ہدایتکار اشون کمار اپنی فلم کی نامزدگی سے بہت خوش ہیں ان کا کہنا ہے کہ’میں ہمیشہ ہی اسٹیریو ٹائپ بالی ووڈ فلموں سے الگ کچھ کرنا چاہتا تھا اور اکیڈمی کے لیے یہ نامزدگی بہت خوشی کی بات ہے۔‘

بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے اشون کمار نے اس فلم کے بارے میں بتایا کہ یہ پندرہ منٹ کی ایک مختصر فلم ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ اس فلم کا مرکزی کردار ایک پاکستانی بچہ ہے جو بھٹک کر ہندوستانی علاقےمیں آجاتا ہے۔ یہ بچہ بھولا نامی ایک برہمن کے گھر پہنچتا ہے جہاں اسکی بھتیجی ایک مسلم کوگھر میں رکھنے کے حق میں نہیں ہوتی ہے۔

اشون کمار نے کہا ’ میں نے اس فلم میں ایک بچے کے ذریعے نفرتوں کو دیکھنے کی کوشش کی ہے۔ میں نے کوشش کی ہے کہ دونوں ملکوں کے جوہری ٹکراؤ اور نفرتوں کو ایک بچے کی نگاہ سے دکھا سکوں۔‘

اشون کہتے ہیں کہ ایک عرصے سے ان کے ذہن میں یہ خیال رہا ہے کہ ہندوستان اور پاکستان کے درمیان دوستی کے پیغام کو عام کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا: ’ کافی دنوں سے بالی ووڈ میں ’ بارڈر‘ جیسی پاکستان مخالف فلمیں بنتی رہی ہیں۔ اور ایسی فلموں سے رشتوں میں اور خلیج پیدا ہوئی ہے۔‘

اشون کہتے ہيں کہ انہیں’ دی لٹل ٹیررسٹ‘ بنانے کا خیال سابق بھارتی وزیرِاعظم اٹل بہاری واجپئ کے دور میں آیا جب ایک بچہ سرحد پر اپنی گائے اور بھینسوں کے ساتھ غلطی سے ہندوستان آ گیا تھا اور اسے بعد میں وزیرِاعظم نے ایک بس میں بٹھا کر واپس پاکستان بھیج دیا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ ’ اس جیسے کتنے بچے ہیں جو بھٹکتے بھٹکتے آ جاتے ہیں۔ بچے بھی ہیں، چرواہے بھی ہیں اور بنجارے بھی کیوں کہ زمین تو زمین ہے وہ اس زمین میں نفرتیں کیسے کریں۔‘

ہندوستان میں یہ فلم جمعہ کو ریلیز ہو رہی ہے اور اشون کوشش کر رہے ہيں کہ پبلسٹی سے شاید پاکستان میں بھی اس فلم میں دلچسپی پیدا ہو اور وہاں بھی یہ فلم ریلیز کی جائے ۔

انہوں نے کہا کہ’ یہ امید پیدا کرنے والی فلم ہے۔ اس میں ایک مثبت پیغام ہے۔ ا س میں سنسر شپ کا کوئی معاملہ نہیں ہے ۔ صرف دونوں ملکوں کے درمیان جو دوستی ہونی چاہیے اس کے بارے میں یہ فلم ہے۔‘

اشون جلد ہی لاس اینجلس جا رہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ وہ بڑی بڑی فلموں کی طرح لابی تو نہیں کر سکتے ۔ان کا کہنا ہے کہ ’ میری چھوٹی سی فلم ہے اور میں اس کے لیے چھوٹی سی لابی ضرور کروں گا۔‘

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد