’لٹل ٹیررسٹ‘ دوگاؤوں کی کہانی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت کی جانب سے اکیڈمی ایوارڈ کے لئے اس مرتبہ فلم ’لٹل ٹیررسٹ ‘ کو بھیجا گیا ہے۔اس فلم کا انتخاب لائیو ایکشن شارٹ فلم کے زمرے میں کیا گیا ہے۔ فلم کے ہدایت کار اشون کمار کہتے ہیں اس فلم کے ذریعے وہ ایسے لوگوں کے درمیان جنگ کی کشیدگی دکھانا چاہتے تھے جو دیکھنے میں ایک جیسے ہوں، ایک جیسی زبان بولتے ہوں اور ایک جیسے کپڑے پہنتے ہوں۔ اس فلم کو حال ہی میں بھارت کے سنسر بورڈ نے پاس کیا ہے اور پیر کو دلی میں اس کا پہلا شو ہوا۔ فلم کی کہانی سرحد پر بسنے والے دو دیہاتوں کی کہانی ہے جن کے درمیان صرف کشیدگی کا رشتہ ہے۔ یہ ان دو ملکوں کی سرحد ہے جو کبھی ایک ہوا کرتے تھے۔ایک طرف راجستھان کا ایک گاؤں ہے اور دوسری طرف پاکستان کا ایک گاؤں۔ دونوں دیہات کے درمیان خاردار تار لگے ہوئے ہیں۔.ان خاردار تاروں کے اس پار بچے کرکٹ کھیل رہے ہیں لیکن گیند سرحدوں کو کیا جانے، اچھل کر خاردار تاروں کے اِس پار آگرتی ہے۔ بمشکل دس برس کا ایک بچہ باڑھ کے نیچے سے رینگ کر سرحد پار آجاتا ہے کہ اچانک سائرن بجنے لگتا ہے اور گولیاں چلنے لگتی ہیں۔ بچہ بھارت کی سرحد میں آگیا ہے اور فوجی گھر گھر تلاشی لے رہے ہیں کہ کوئی ٹیررسٹ گھس آیا ہے۔ بچہ ایک ماسٹر کے ساتھ اس کے گھر چلا جاتا ہے اور اس ماسٹر کی بھتیجی اس کے مسلمان ہونے کی وجہ سے اس کو گھر میں رکھنے سے انکار کرتی ہے۔ فوج سے بچنے کے لئے بچے کا سر گنجا کرکے اس کو نیا نام دیا جاتا ہے جواہرلال۔ ایک رات رحمدل ماسٹر اسے واپس سرحد پار کرادیتا ہے۔ 15 منٹ کی اس فلم کو دیکھ کر ایسا نہیں لگتا کہ اس میں ایک بھی سین اضافی ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||