| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
ٹائیٹینک بدترین فلم قرار پائی
گیارہ آسکر اعزازات کے ساتھ دنیا میں تہلکہ مچا دینے والی فلم ٹائیٹینک کا شمار اب بدترین فلموں میں ہونے لگا ہے۔ بی بی سی کی طرف سے سامعین کی آراء کو مدنظر رکھ کر مرتب کئے گئے ایک جائزے ’فلم دو ہزار تین‘ کے مطابق لوگوں کی ناپسندیدگی کے اعتبار سے فلم ٹائیٹینک نے بھاری بجٹ سے بننے والی آرٹیفشل انٹیلیجنس اور ماضی کی معروف فلم پرل ہاربر کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ سن انیس سو ستانوے میں جب فلم ٹائیٹینک ریلیز ہوئی تھی تو اس نے باکس آفس پر ایک اعشاریہ آٹھ ارب ڈالر کا منافع کمایا تھا۔ یہ رقم اس سے پہلے کی کسی بھی فلم کی آمدنی سے دگنی تھی۔ اسکو انیس سو اٹھانوے کی آسکر تقریب میں جن گیارہ انعامات سے نوازا گیا ان میں بہترین ہدائتکار کا انعام بھی شامل تھا جو کہ جیمز کیمرون کو دیا گیا۔ ابھی گزشتہ ماہ بہترین اختتام والی فلموں کے ایک اور سروے میں ’ٹائٹینک‘ کو اولّین درجہ دیا گیا تھا۔ زیرِ نظر جائزہ فلم ’گِگلی‘ کی نمائش کے موقعے پر جاری کیا گیا ہے جو کہ اگرچہ ایک ناکام فلم نکلی لیکن پھر بھی دس بدترین فلموں میں شمار ہونے سے بچ گئی۔ دیگر بد ترین فلموں میں سٹیون سپیلبرگ کی آرٹیفِشل انٹیلیجنس دوسرے نمبر پر ، پرل ہاربر تیسرے نمبر پر، ٹام کروز کی ’ونیلا سکائی‘ چوتھے نمبر پر اور ڈراؤنی فلم ’بلیئر وچ پراجیکٹ‘ پانچویں نمبر پر آئیں۔ اس جائزے میں ’بیٹ مین اینڈ رابن‘ کو چھٹا اور ’اوینجرز‘ کو ساتواں نمبر دیا گیا ہے جبکہ ’اوما تھرمن‘ کو آٹھویں پوزیشن ملی۔ بدترین فلموں کے اس جائزے میں جان ٹریوولٹا کی ’بیٹل فیلڈ ارتھ‘ کو آٹھویں نمبر پر رکھا گیا ہے اور ٹام کروز کی ایک اور فلم ’آیز وائڈ شٹ` کو نویں نمبر پر۔ اس فہرست کی آخری فلم ’ہائی لینڈر-ٹُو‘ ہے جوکہ انیس سو اکانوے میں بنی تھی۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||