فلم’شبد‘ پرسکھوں کی ناراضگی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ہندی فلم ’شبد‘ میں شامل مزاحیہ لطیفوں سے سکھ برادری ناراض ہو گئی ہے۔ سکھ برادری کے کچھ نمائندوں نے فلم کے پروڈیوسر کو ایک یادداشت پیش کی ہے اور مطالبہ کیا ہے کہ اس طرح کے طنزیہ مکالموں کو فلم سے نکال دیا جائے۔ سینکڑوں ناراض سکھوں نے’ پرتیش نندی کمیونیکیشن‘ کی ایگزیکٹو رنگیتا نندی سے ملاقات کی اور ان سے کہا کہ جس طرح فلم ’شبد‘ میں سردار لفظ بطور مذاق استعمال کیا گیا ہے اس سے سکھ برادری اپنی توہین محسوس کرتی ہے۔انہوں نے ایسے تمام مناظر و مکالموں کو فلم سے نکال دینے کا مطالبہ کیاہے۔ پروڈیوسر کے دفتر کے سامنے بہت سے سکھ جمع ہوگئے تھے جنہیں پولیس نے حراست میں لے لیا تھا لیکن بعد میں انہیں رہا کر دیا گیا۔ فلم میں اداکار زید خان لفظ ’سردار‘ بطور مذاق استعمال کرتے ہیں۔ کئی بار جب انکی محبوبہ ناراض ہوتی ہے تو وہ سردار کے بارے میں کوئی مزاحیہ لطیفہ سناکر اسے خوش کرنا چاہتے ہیں۔ انکا ایک مکالمہ ہے ’ کیا تمہیں سردار کے بارے میں ایک لطیفہ سناؤں‘ بس اس بات پر ہی پر دونوں قہقہہ لگا تے ہیں۔ فلم ’شبد‘ پرتیش نندی کمیونیکیشن نے بنائی ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ یہ لطیفے سکرپٹ کا ایک اہم حصہ ہیں لیکن اسکا مقصد کسی خاص برداری کا مذاق اڑانا یا توہین کر نا نہیں تھا۔ ان کے مطابق فلم کو سینسر بورڈ نے منظوری دی ہے اور اگر ایسا کچھ ہوتا تو بورڈ قطعی منظوری نہیں دیتا۔ کمپنی نے اس سلسلے میں سکھ برادری کو ایک خط لکھا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ جن افراد کو تکلیف پہنچی ان سے کمپنی معذرت چاہتی ہے اور یہ کہ اب اس معاملے کو مزید طول نہیں دیا جانا چاہیے۔ کمپنی نے اس سلسلے میں سینسر بورڈ سے بھی رجوع کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ مستقبل میں مزید پیچیدگیوں سے بچا جا سکے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||