فلم ساز آدمی، آدمی ساز فلم | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
’گرم ہوا‘ کے تیس سال بعد، لندن کے نہرو سینٹر میں ایک تقریب کی گئی جس میں اس بات کا اعتراف کیا گیا کہ ایم ایس ستھیو نے ’گرم ہوا‘ جیسی تاریخ ساز فلم بنائی اور اس فلم نے ستھیوکوایک تاریخ سازآدمی بنا دیا۔ اس تقریب کا اہتمام ساوتھ ایشین سنیما فاؤنڈیشن نے کیا تھا اور یہ صرف1973 میں برصغیر کی تقسیم پر بنائی جانے والی ’گرم ہوا‘ کی تخلیقی ہدایتکاری ہی کا اعتراف نہیں تھا بلکہ ستھیو کے اندازِ زندگی کا بھی اعتراف تھا۔ میسور شری نواس ستھیو 6 جولائی 1930کو میسور کے ایک برہمن خاندان میں پیدا ہوئے لیکن گریجویش کے بعد والد کی توقعات اور خواہش کے برخلاف تھیٹر اور فلموں کی طرف جا نکلے ۔ وہ سیٹ ڈیزائنر اور آرٹ ڈائریکٹر بننا چاہتے تھے لیکن انہیں پہلی پیشکش اسسٹنٹ ڈائریکٹر کی ہوئی جو انہوں نے نہ چاہتے ہوئے قبول کر لی اور پھر اسی میں ان کا نام ایسے آگے آیا کہ ان کی آرٹ ڈائریکٹر کی خواہش بھی اس میں سما گئی۔ شاید اس کی وجہ یہ بھی ہو کہ انہوں نے پہلی فلم میں چیتن آنند کو اسسٹ کیا اور اور دوسری فلم ’حقیقت‘ میں بھی وہ چیتن آنند کے اسسٹنٹ تھے اور اس فلم میں انہیں سیٹ ڈیزائننگ کا موقع بھی ملا اور نہرو سینٹر میں ان کے انکشاف سے کھلا کہ حقیقت کے لیے ہمالیہ کے بہت سے مناظر مہارت سے تیار کیے سیٹوں کے کرشمۂ قدر کا نتیجہ تھے۔ گرم ہوا، برصغیر کی ان فلوں میں سے ایک ہے جس کے ذکر کے بغیر برصغیر میں سنیما کی تاریخ مکمل نہیں ہو سکتی۔ اس فلم کو برصغیر کی تقسیم کے تناظر میں دیکھا جاتا ہے لیکن یہ محض تقسیم کے بارے میں نہیں ہے، تقیسم نے اس فلم میں پس منظر کا کردار کیا ہے، جو ایک اہم ترین بات ہے کیونکہ جس فلم کا پس منظر درست نہیں ہوتا وہ اپنی تہوں، محسوسات کی سطحوں اور معنی کی کثرت کو برقرار نہیں رکھ سکتی۔
اس کے علاوہ یہ ایک ایسی مثالی فلم ہے جس سے فلمساز، اداکار اور ہدایتکار بہت کچھ سیکھ سکتے۔ یہ فلم ہمیں یہ بتاتی ہے کہ فلم اور تھیٹر کے درمیان کیا فرق ہے اور فلم سازی میں تھیٹر سے کیا فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے اور اس کی وجہ یہ شاید یہ ہے کہ تھیٹر ستھیو کی پہلی محبت ہے اور اب بھی وہ اس کے ساتھ ہیں۔ تھیٹر میں ان کی تازہ ترین تخلیق ’داراشکوہ‘ ہے ۔ داراشکوہ، جو شاہ جہاں جیسے بادشاہ کا بیٹا اور اورنگزیب جیسے بھائی کا صوفی منش مقتول بھائی تھا اور جس کا قتل اقتدار اور انسانی رشتوں کے بدترین تصادم کی غمازی کرنے والے واقعہ ہے۔ گرم ہوا، کا ایک اور اغزاز یہ ہے کہ اس میں سلیم مرزا کے روپ میں بلراج ساہنی نے اپنی زندگی کی بہترین اداکاری کی ہے۔ اور صرف بلراج ساہنی ہی نہیں، جیسے اچھی فلم کی ہر بات ہی اچھی ہوتی ہے اسی طرح مجھے تو اس فلم کا ہر کردار ہی اتنی نپی تلی اداکاری کرتا ہوا محسوس ہوتا ہے کے جیسے تمام اداکاروں کے درمیان اچھی اداکاری کا مقابلہ ہو رہا ہو۔ میں اس کا کریڈٹ ستھیو کو دیتا ہوں۔ تقریب میں ستھیو کی حدمات کا اعتراف کرتے ہوئے انہیں ایس اے سی ایف کی پلیٹ اور ایک شال نذر کی گئی۔ یہ انہیں ہائی کمشنر آف انڈیا کملیشور شرما نے پیش کیں۔ اس موقع پر ایس اے سی ایف کے چیئرمین اور روزنامہ گارجین کے سابق فلم نقاد ڈیرک میلکم نے ستھیو کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ’گرم ہوا، ایک اسے سنگِ میل کی حیثیت رکھتی ہے جس سے بھارتی سنیما کی تاریخ میں ’نیو سنیما موومنٹ‘ کا آغاز ہوتا ہے۔ اس موقع پر ساؤتھ ایشین سنیما کے ایڈیٹر للت موہن جوشی نے انتہائی معلومات بھری گفتگو کی جو ڈیڑھ گھنٹے سے زیادہ دیر تک جاری رہی۔ اس گفتگو کے بعد ایک ایس ستھیو نے تقسیم کے بارے میں ’ساوتھ ایشین سنیما‘ کی حصوصی اشاعت کا رسمی اجراء بھی کیا۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||