BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 10 June, 2004, 04:22 GMT 09:22 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بٹوارے پر فلمیں کیوں نہیں بنیں؟

پارٹیشن
نمئی گھوش کی ’چنامول‘ جو پارٹیشن پر بننے والی پہلی فلم تھی
ایک اندازے کے مطابق پچھلے کچھ سال سے انڈیا کی تینتیس زبانوں میں اوسطاً نو سو سے ایک ہزار کے لگ بھگ فلمیں بن رہی ہیں۔ اس حساب سے دیکھا جائے تو پارٹیشن یا بٹوارے کے نتیجے میں، برصغیر انڈیا سے ہندوستان، پاکستان اور بعد میں بنگلہ دیش بن جانے والے ملکوں میں اب تک سترہ ہزار سے زائد فلمیں بن چکی ہوں گی۔

لیکن ان فلموں وہ فلمیں کتنی ہیں جن میں اس خطے کے اس تاریخی عمل کو محفوظ کرنے کی کوشش کی گئی ہے جس نے پہلی بار لوگوں کو ایک ایسے تجربے، جذبات اور روّیے سے گزارا جس کا انہوں کبھی تصور بھی نہیں کیا تھا۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ فلمی صنعت کے بارے میں سنجیدہ میگزیں اور اخبار نہ ہونے کے برابر ہیں۔ تاہم گنتی کے جرائد میں ’ساؤتھ ایشیا سنیما‘ ساس نے اگرچہ ابھی بہت زیادہ شمارے شائع نہیں کیے لیکن فلمی صنعت کے بارے میں سنجیدہ رویہ رکھنے والوں میں ایک اہم مقام حاصل کر لیا ہے۔ ساس کا نیا شمارہ بٹوارے کے حوالے سے بننے والی فلموں اور انہیں بنانے والوں کے بارے میں ہے۔

ایک سے تین بننے والے ان ملکوں کے لوگوں کے سر سے جب برٹش کولونیلزم یا برطانوی نوآبادیاتی نظام کے کالے سائے ہٹے تو انہیں اندازہ ہوا کہ جن علاقوں میں وہ ایک زمانے سے رہتے آئے ہیں ان میں سے کچھ علاقے ہندو اور کچھ مسلمان ہو چکے ہیں اس لیے جنہیں اپنے مسلمان ہونے پر زیادہ اصرار ہے وہ ہندو قرار پانے والے علاقوں سے ان علاقوں میں چلے جائیں جنہیں مسلمان قرار دیا جا چکا ہے اور ان علاقوں میں رہنے والے غیر مسلمان ان علاقوں میں آ جائیں جہاں ان کے ہم مذہب زیادہ ہوں۔

یہ بات کہنے میں جتنی آسان اور پین لس غیر تکلیف دہ تھی کرنے میں اتنی کروڈ، کھردری اور ہولناک ثابت ہوئی۔

بس طوفان سا آیا اور دس لاکھ کے قریب لوگوں کو ہلاک اور ڈیڑھ کروڑ لوگوں کو بے گھر کر گیا۔ اس میں کچھ بن گئے، کچھ بگڑ گئے اور کچھ یوں نابود ہوگئے جیسے تھے ہی نہیں۔

کتنی ہی بیٹیاں سارے امتیازوں کے ہوتے ہوئے بن چاہے مائیں بن گئیں۔ گورے حکمرانوں کا قانون ختم ہو چکا تھا اور ان کی جگہ لینے والے اپنی ذمہ داریوں کے پھیلاؤ اور نزاکتوں سے آگاہ نہیں تھے۔

یہ بھی گوروں ہی کی ایک سیاست تھی انہوں نے مقامی سیاستدانوں کو ایسے الجھا کر رکھا کہ ان کی توجہ آزادی اور اقتدار کی منتقلی کے بے طریقہ ہونے پر گئی ہی نہیں یا شاید ان میں یہ تحمل ہی نہیں تھا کہ لمبی سے لمبی ہوتی ناک کے آگے کچھ سوچ سکتے۔

کرن
خاموش پانی پاکستانی نژاد صبیحہ سومار بٹوارے پر پہلی فلم تھی

اس لیے اگر آج بٹوارے کے خون خرابے کی کوئی غیر جانبدارانہ تحقیق ممکن ہو تو شاید گوروں کے ساتھ ساتھ وہ قدآور رہنما بھی لاکھوں کے قتل اور کروڑوں کی بے گھری کے ذمہ دار ٹھہریں گے جن کی عظمت کے دن منائے جاتے ہیں۔

ساس کا یہ خصوصی شمارہ یہ سوال بھی اٹھاتا ہے: بٹوارے پر زیادہ فلمیں کیوں نہیں بنیں؟

سوال بہت اہم ہے اور جواب شاید بہت کڑوا، جس طرح کے لوگ گوروں کے بعد حکومت میں آئے اور جس طرح انہوں نے گوروں کے قانون برتے اس سے تو سچ بولنے اور دکھائے جانے کی امید نہیں کی جانی چاہیے۔

بٹوارے پر پہلی فلم ’چنامول‘ 1951 میں بنگالی زبان میں بنی اور اس کے ڈائریکٹر نمئی گھوش کو اس زمانے میں بھی کئی جگہ اس فلم کی شوٹنگ کی اجازت نہیں دی گئی۔ کیونکہ نئے حکمراں نہیں چاہتے تھے کہ مشرقی پاکستان بن جانے والے مشرقی بنگال سے آنے والے مہاجرین کے کیمپوں کی حالت سارے ہندوستان کے لوگوں یا بنگالیوں ہی کے سامنے آئے۔

بنگالی فلم کا دیکھنے والا تو اب بھی سارا ہندوستان نہیں ہے تو اس وقت تو امکان اور بھی کم تھا، پھر اس وقت سنسر لگانے والے کس سے اور کیا چھپانا چاہتے تھے؟

اب 2004 ہے، اور شیام بنیگل ساس کو دیئے گئے انٹرویو میں اعتراف کرتے ہیں کہ انہوں نے بٹوارے پر فلم اس لیے نہیں بنائی کہ اگر وہ ایسا کرتے تو اس کے تقاضوں سے انصاف نہیں کر پاتے۔

یہ اعتراف اس بات کا اظہار ہے کہ شیام بینیگل بٹوارے جیسے موضوع پر بننے والی فلم سے کیا توقع رکھتے ہیں اور ساس کے اس اس شمارے میں یہ ایک نہیں، ایسے کئی انٹرویو ہیں جن میں سوال اٹھاتے ہوئے للت موہن جوشی نے بہت کچھ منکشف کرنے کی کوشش کی ہے۔

اس میں بٹوارے پر پہلی اردو/ ہندی فلم ( جسے ہندی/اردو لکھا گیا ہے) ’گرم ہوا‘ والے ایم ایس ستھیو، تمس والے بھیشم ساہنی، شمع زیدی اور گووند نہلانی کے انٹرویو ہیں۔

News image
تنویر مکمل کی چترا بہتی جائے بنگلہ دیش کی واحد فلم ہے

جہاں تک مجھے علم ہے میں نے بٹوارے پر اتنی ساری اور اچھی تحریریں اور تصاویر ایک ساتھ، ایک جگہ اس سے پہلے نہیں دیکھیں۔ اپ اسے للت موہن جوشی کی خوبی اور میری خرابی یا کم علمی بھی کہہ سکتے ہیں۔

یہ شمارہ ہمیں رتوک گھتک کے بارے میں بتاتا ہے۔ ڈھاکے سے ہجرت کر کے کلکتہ آنے والا فلم ساز، جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اگر اس کی فلموں کو اس ناوقت موت سے پہلے توجہ حاصل ہو جاتی تو آج ہندوستان سنیما کی تاریخ لکھنے والے اسے کسی اور طرح لکھتے۔

اس تاریخی دستاویز نے ہندوستان میں بٹوارے پر بننے والی فلموں کے بارے میں حقائق جمع کرنے کا حق ادا کر دیا ہے لیکن اس کے باوجود ایک نامکمل معذرت بھی کی گئی ہے کہ اس شمارے میں پاکستانی فلم’ کرتار سنگھ‘، رمیش سپی کی سیریل ’بنیاد‘، پامیلا رووکس کی ’ٹرین ٹو پاکستان‘ جمیل دہلوی کی ’جناح‘ اور پنکج بٹالیا کی’ کارون‘ کا خاطر خواہ کوریج نہیں ہے۔

اس کے علاوہ ایک اور پاکستانی فلم ’خاک و خون‘ کا ذکر اس میں آنے سے رہ گیا ہے لیکن ستاون سال کا جائزہ لیتے ہوئے ایسا ہو جانا کوئی بڑی خرابی نہیں کیونکہ جو کیا گیا ہے وہ بہت ہی اچھا ہے اور جو رہ گیا ہے اسے کوئی اور کرے گا۔

ایک بات ضرور ہے کہ پاکستان میں اگر بٹوارے پر فلمیں نہیں بنیں یا پاکستان ٹیلیویژن، پی ٹی وی نے بھی اس پر وہ توجہ نہیں دی جو انڈیا میں ’بنیاد‘ اور ’تمس‘ بنا کر دی گئی تو اس کی وجہ صرف پاکستانی انڈسٹری کی ٹیکنیکل شعبے میں پسماندگی کو قرار نہیں دیا جا سکتا۔

اس کے باوجود اس شمارے سے پڑھنے والے کو ممو، زبیدہ، ہے رام، ارتھ، غدر، چترا نادر پرے (چترا بہتی جائے، تنویر مکمل)، خاموش پانی، صبیحہ سومار اور پنجر تک کے بارے میں بہت کچھ ایسا معلوم ہو جاتا ہے جو اس سے پہلے ریکارڈ پر نہیں تھا اور اگر اس کے سوا کچھ رہ گیا ہے تو اسے ساس ہی کا آئندہ شمارہ پوا کر سکتا ہے۔

ساؤتھ ایشین سنیما، ساس، برطانیہ سے شائع ہوتا ہے اور اس کے ایڈیٹر للت موہن جوشی بی بی سی ورلڈ سروس کی ہندی سروس کے لیے بھی کام کرتے ہیں۔

پنجر
پنجر بٹوارے پر ایک اچھی فلم ہے

للت نے 2000 میں لندن میں ساؤتھ ایشین سنیما فاؤنڈیشن، ساسف کی بنیاد رکھی اور مقصد جنوبی ایشیائی سنیما کی ترقی میں اپنا کردار ادا کرنا تھا۔ ساس کا مذکورہ شمارہ ابھی باقاعدہ جاری نہیں کیا گیا۔ توقع ہے کہ جولائی میں اسے انڈیا میں اور پھر ستمبر میں لندن میں جاری کیا جائے گا۔
بیرونی لِنک
بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد