شبھاش بوس بھارتی سینسر کی زد میں | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
شیام بینیگل کی نئی فلم بھارتی سینسر کی پابندیوں کی وجہ سے لندن میں بیس اکتوبر سے جاری برٹش فلم انسٹیٹیوٹ کے اڑتالیسویں فلم فیسٹیول میں شریک نہیں ہو سکے گی۔ ان کی یہ فلم برصغیر کی آزادی کی جدوجہد کرنے والے انقلابی نیتا سبھاش چندر بوس کی زندگی پر بنائی گئی ہے۔ ابھی یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ بھارتی سینسر کو سبھاش چندر بوس پر بنائی جانے والی اس فلم میں ایسی کیا قابلِ اعتراض بات دکھائی دے گئی جس نے اس کی لندن فلم فیسٹیول میں شرکت پر پابندی کو ضروری بنا دیا۔ اگر یہ انیس سو سینتالیس سے پہلے کا زمانہ ہوتا تو بات سمجھنے میں کوئی دشواری نہ ہوتی، کیونکہ برصغیر میں پرفارمنگ آرٹس یعنی فنونِ نمائش پر پابندیوں کا آغاز ہی برطانوی نوآبادیاتی دور میں ہوا تھا اور سبھاش چندر بوس اسی نوآْبادیاتی دور کے خاتمے اور برصغیر کی آزادی کی مسلح جد و جہد پر یقین رکھتے تھے۔ ’نتیا جی سبھاش چندر بوس‘ کو بنانے میں شیام بینیگل نے چار سال لگائے جس میں سے پچھلے دو سال تو انہوں نے تمام کے تمام اسی فلم پر صرف کیے۔
فلم کی تکمیل پر ان کا کہنا تھا کہ ’نیتاجی سبھاش چندر بوس‘ بوس کی زندگی کے ان پہلوں کو بھی سامنے لائے گی جنہیں اب تک چھونے کی کوشش نہیں کی گئی۔ اس فلم میں مبصرین کے مطابق سبھاش چندر بوس کی زندگی کے ان پانچ برسوں کو مرکز بنایا گیا ہے جو انہوں نے انیس سو چالیس سے پینتالیس کے دوران گزارے۔ سبھاش چندر بوس معتدد بار گرفتار ہونے کے بعد ہندوستان سے فرار ہو گئے تھے اور انہوں برطانوی نوآبادیاتی نظام ختم کرنے کے لیے ہٹلر کی مدد بھی لی تھی اور ہٹلر نے انہیں ایک ایسی فوج بنانے کی اجازت بھی دے دی تھی جو ان ہندوستانیوں پر مشتمل ہوجنہیں نازیوں نے اتحادیوں کی جانب سے جنگ میں حصہ لینے پر گرفتار کیا تھا۔ اس فلم کی شوٹنگ ان تمام مقامات پر کی گئی ہے جہاں اس عرصے کے دوران سبھاش چندر بوس نے وقت گزارا تھا۔ اس سے پہلے شیام بینیگل کی آخری فلم زبیدہ تھی اور ان تمام ناظرین کے لیے
دو سو بائیس منٹ کی اس فلم میں رجت کپور، کلبھوشن کھربندا اور سچن کھیدیکر نے مرکزی مردار ادا کیے ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||