BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 19 September, 2003, 11:57 GMT 15:57 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بڑوں کی کارٹون فلم

بیل ویل راندیوُو
فلم میں کرداروں کو زبان کی ضرورت نہیں

’بیل وِیل راندیوُو‘ فرانسیسی ہدایت کار سِلوین شومے کی بڑوں کے لئے بنائی گئی کارٹون فلم ہے۔

اس فلم کی خاص بات کرداروں کی تصویر کشی ہے۔ بلکہ یوں کہیے کہ فلم میں تصویروں سے وہ تاثر حاصل کیا گیا ہے جو شاید کسی اداکار کی مدد سے پیش کرنا ممکن نہ ہوتا۔

یہ ایک خاموش فلم ہے لیکن تصویروں کی خوبصورتی اس بات کا احساس نہیں ہونے دیتی۔ فلم کی کہانی سیدھی سادھی ہے لیکن اس میں کرداروں کی عکاسی اس کی اصل جان ہے۔

مثال کے طور پر فلم میں مافیا کے لئے کام کرنے والوں کے جسم کو ایک ڈبے کی طرح دکھایا گیا ہے جس کے اُوپر سر اور نیچے ٹانگیں نظر آتی ہیں۔

پوری فلم میں ان کا کام احکام بجا لانا ہے اور ان میں سے کسی ایک کی دوسرے سے تفریق کرنا مشکل ہے۔

فلم ایک بوڑھی عورت، اس کے پوتے اور ان کے پالتو کتے کے گرد گھومتی ہے۔ بڑھیا اپنے پوتے کا دل بہلانے کے لئے اسے کتا لا کر دیتی ہے لیکن اس کی اداسی پھر بھی دور نہیں ہوتی۔

اس کے بعد گھر میں ایک سائیکل آتا ہے جو اس لڑکے کی زندگی بن جاتا ہے۔ اس کے بعد ایک سیدھی سادی کہانی شروع ہو جاتی ہے۔

لڑکا بڑا ہو کر ’ٹور دی فرانس‘ سائکل ریس میں حصہ لیتا ہے لیکن ’بیل ویل‘ نامی شہر سے آئے کچھ لالچی لوگ اسے ریس میں شامل دو دیگر افراد کے ساتھ اغوا کر لیتے ہیں اور انہیں اپنے جوؤے خانے میں سائیکل ریس کی ایک مشین پر کام کرانے لگتے ہیں۔

جوؤے خانے میں اس بات پر شرطیں لگتی ہیں کے ان تینوں میں سے کون جیتے گا۔ جبکہ مشین کے نیچے چھپا ایک ملازم ہدایات کے مطابق مشین پر جڑی ہوئی ان تینوں مغویوں کی سائیکلیں آگے پیچھے کرتا رہتا ہے۔

بہرحال فلم کے ہیرو سائیکل سوار کی دادی بھی اسے تلاش کرتی کرتی اپنے کتے کی مدد سے ایک کشتی پر سمندر پار کر کے بیل ویل پہنچ جاتی ہے۔ فلم کے اس شہر میں جو کہ یقیناً نیو یارک کی تصویر کشی کرتا ہے بڑھیا کی تین گلوکار بہنوں سے ملاقات ہوتی ہے۔

یہ بہنیں بڑھیا کے پوتے کی تلاش میں اس کی مدد کرتی ہیں۔ دوسری کئی فلموں کی طرح اس فلم کا انجام بھی برائی کی شکست اور اچھائی کی فتح پر ہوتا ہے۔

اکیاسی منٹ کی اس فلم میں کہیں کہیں فرانسیسی زبان میں مقالمے موجود ہیں لیکن فلم کو سمجھنے کے لئے ان کے ترجمے کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی۔

اس فلم کو دیکھ کر پتہ چلتا ہےکہ دوسری فلموں کے مقابلے میں ’اینیمیٹڈ فلموں‘ میں اپنے تاثرات کو زیادہ موثر انداز میں ہو بہو پیش کیا جا سکتا ہے۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد