| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
نیویارک میں بھارتی فلمی میلہ
نیو یارک میں پانچ نومبر سے ایک ایسے فلمی میلے کا آغاز ہوا ہے جس میں ان بھارت نژاد فلم سازوں کا کام دکھایا جائے گا جو امریکہ میں آباد ہو چکے ہیں۔ نو نومبر تک جاری رہنے والے اس میلے میں جو اٹھارہ فلمیں پیش کی جا رہی ہیں ان میں تجربہ کار ڈائریکٹر میِرا نائر سے لےکر نو وارد اپوروا لاکھیا تک کئی فلم سازوں کا کام شامل ہے۔ لاکھیا کی فلم ’ممبئی سے آیا میرا دوست‘ راجستھان کے ایک گاؤں کی کہانی ہے اور اس میں ابھیشک بچّن اور لارا دتّہ نے کام کیا ہے، لیکن میلے کی زیادہ تر فلموں میں آج کی امریکی زندگی کو موضوع بنایا گیا ہے۔ لاکھیا کی طرح نِشاگناترا نے بھی نیو یارک یونیورسٹی سے تعلیم مکمّل کی ہے اور انکی فلم Cosmopolitanاس میلے میں شامل ہے۔ اس فلم میں روشن سیٹھ اور مدھر جعفری جیسے منجھے ہوئے فنکاروں نے کام کیا ہے۔
منیش گپتا جو کہ نیویارک میں کمپیوٹر کے کاروبار سے وابستہ تھے، سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر فلم سازی کے میدان میں آگئے اور اس میلے میں ان کی پہلی فلم Indian Fish in American Waters دکھائی جا رہی ہے۔ پامیلا رُوک کی فلم Dance Like a Man بھی نمائش کے لئے پیش کی جا رہی ہے جس میں معروف ستار نواز روی شنکر کی صاحبزادی انوشکا شنکر پہلی بار نمودار ہو رہی ہیں۔ اِنڈو امیریکن آرٹس کونسل کے تعاون سے منعقد ہونے والے اس فلمی میلے میں ایک پاکستانی ڈائریکٹر بابر احمد کی فلم ’جینئس‘ بھی شامل ہے جس میں مرکزی کردار ایک بھارت نژاد اداکار بابی رُوتھ نے ادا کیا ہے۔ بابی کلکتے میں پیدا ہوئے تھے اور اب نیو یارک کے باشندے بن چکے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ایک پاکستانی ڈائریکٹر کے تحت کام کرنے میں انھیں کوئی مشکل پیش نہیں آئی کیونکہ فنکار کو صرف اپنے فن سے غرض ہوتی ہے۔ بابی روتھ نے کہا کہ ہماری ان فلموں نے امریکیوں پر واضح کر دیا ہے کہ ہم لوگ محض پٹرول ڈالنے یا ٹیکسی چلانے کے ہی ماہر نہیں ہیں بلکہ اور بھی بہت کچھ کر سکتے ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||