| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
دو دنیاؤں کی ایک فلم
وقت کے اتُھل پُتھل میں یادیں کسطرح ایک دوسرے میں گم ہو جاتی ہیں اور ایک ہی وجود مختلف وقتوں میں الگ الگ مقامات پر ایک ہی طرح کے تجربات کیسے کرتا ہے --- عالیہ سید نے اپنی نئی تجریدی فلم ایٹینگ گراس میں غالباً یہی کہنے کی کوشش کی ہے۔ عالیہ نے جن کا تعلق سکاٹ لینڈ سے ہے جبکہ ان کے والد حیدرآباد دکن کے ہیں، اپنی اس تجرباتی فلم کا نام پاکستان کے سابق وزیرِ اعظم ذوالفقار علی بھٹو کے اس مشہور بیان سے ماخوذ کیا ہے جس میں انہوں نے ہندوستان کی طرف سے ایٹم بم بنانے کی کوشش کے جواب میں کہا تھا کہ پاکستان بھی ایٹم بم حاصل کرے گا چاہے اس کی عوام کو گھاس ہی کیوں نہ کھانا پڑے۔ چوبیس منٹ کی اس فلم کا عنوان اگرچہ ایک بہت مشہور اور متنازعہ سیاسی بیان سے ماخوذ ہے لیکن فلم میں کسی سیاسی یا سماجی پہلو پر براہِ راست کوئی تبصرہ یا اشارہ نہیں بلکہ ایٹینگ گراس میں عالیہ کے اپنے ذاتی تجربات کی جھلک بہت خوبصورتی سے دکھائی دیتی ہے۔ فلم میں ٹائم لیپس کے عمل یعنی کیمرے کو لندن، لاہور اور کراچی میں دن کے ایک ہی پہر میں ایک ہی جگہ پر فکس کر کے گزرتے وقت کو فلم بند کیا گیا ہے جو ایک طرح سے عالیہ سید کی ذاتی زندگی جو انہی شہروں پر پھیلی ہوئی ہے کی عکاسی کرتا ہے۔ فلم میں ان شہروں میں دن میں پانچ نمازوں کے اوقات کے ان مناظر کے پیچھے عالیہ سید کی پانچ نظمیہ کہانیاں بیان کی گئی ہیں جو تجرباتی طور پر دو زبانوں میں بیک وقت پڑھی گئی ہیں۔ یعنی انگریزی اور اردو دونوں میں۔ یہ بھی عالیہ سید کے اپنے ذاتی لسانی تجربے کی بہت عمدگی سے عکاسی کرتا ہے۔ عالیہ سید کی یہ فلم مکمل طور پر تجریدی اور تجرباتی نوعیت کی ہے اور اس کی نمائش عام سنیما گھروں میں نہیں ہوگی لیکن دو دنیاؤں سے جڑے ہونے اور دو الگ الگ معاشروں میں بڑے ہونے کے تجربات کی فلم کے فیتے پر ایک بہت ہی دلچسپ منظر کشی ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||