BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 18 October, 2003, 08:34 GMT 13:34 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
گیارہ ستمبر کے بعد رفیع پیر آرٹس میلہ

رفیع پیر گروپ کا پتلی تماشہ
رفیع پیر گروپ خود بھی فیسٹیول کے موقع پتلی تماشہ پیش کر رہا ہے۔

ایک ایسے ملک میں جہاں بنیاد پرستی اور فرقہ وارایت کا دور دورہ ہو فن اداکاری، رقص اور پتلی تماشے کی بات کرنا ایسے ہی ہے جیسے اندھیرے کمرے کی روشنی کا دیا یا بند کمرے میں کھلی ہوئی کھڑکی جہاں سے تازہ ہوا کا جھونکا سانسوں کو معطر کر دے۔

لاہور میں قائم رفیع پیر گروپ کو اس بات کا کریڈٹ جاتا ہے کہ یہ گیارہ سال سے پاکستان میں ایسے عالمی میلے منعقد کر رہا ہے جہاں نہ صرف مقامی فنکاروں کو فن کے اظہار کا موقع ملتا ہے بلکہ غیر ملکی فنکاروں کی ایک بڑی تعداد بھی یہاں آکر اپنی صلاحیتوں کے جوہر دکھاتی ہے۔

سن انیس سو بانوے سے لے کر آج تک رفیع پیر تھیٹر کے زیر اہتمام پندرہ ایسے عالمی میلے منعقد ہو چکے ہیں۔

گیارہ ستمبر سن دو ہزار ایک کو امریکہ میں ہونے والے دہشت گرد حملوں کے بعد سے عالمی سطع پر ہونے والی تبدیلیوں کی بنا پر ان میلوں کا سلسلہ تعطل کا شکار ہو گیا تھا۔

شفقت علی خان
شام چوراسی خاندان کے سپوت شفقت علی خان کی پرفارمنس پہلے روز کی خاص چیز تھی

تاہم طویل وقفے کے بعد یہ سلسلہ اب دوبارہ شروع ہو گیا ہے اور گیارہ ستمبر کے بعد رفیع پیر گروپ کے زیر اہتمام ہونے والے پہلے بین الاقوامی پرفارمنگ آرٹس فیسٹول کا آغاز گزشتہ روز لاہور میں ہوا۔

اس مرتبہ میلے میں سولہ ملکوں سے تعلق رکھنے والے ثقافتی گروپ شرکت کر رہے ہیں۔ ان ممالک میں اٹلی، ایران، ہندوستان، جرمنی، آسٹریلیا، انڈونیشیا، روس، شام، تائیوان، سوئٹزرلینڈ، برطانیہ، رومانیہ، ملائشیا اور بنگلہ دیش شامل ہیں۔

میلے میں پاکستان کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے بے شمار گلوکار، رقاص اور تھیٹر گروپ بھی شرکت کر رہے ہیں۔

قذافی سٹیڈیم کے قریب واقع الحمراء کلچرل کمپلیکس میں ہونے والے اس فیسٹیول میں شریک غیر ملکی فنکاروں کی حفاظت کے لئے مقامی انتظامیہ نے سخت سکیورٹی انتظامات کئے ہیں اور پولیس کے مسلح دستے شام کے وقت وہاں چوکس دکھائی دیتے ہیں۔

میلے کے پہلے روز پانچ گروپوں نے فن کا مظاہرہ کیا۔ ان میں ترکی سے تعلق رکھنے والے پتلی گروپ احساپ سرسیو خاص طور پر قابل ذکر ہے۔

رنگ گروپ
پہلے روز فن کا مظاہرہ کرنے والوں میں رنگ گروپ بھی شامل تھا

ترکی کے احساپ سرسیو گروپ نے ترکی کی ایک مشہور لوک کہانی پتلیوں کی زبانی بیان کی۔ ترجمے کی سہولت میسر نہ ہونے کی بنا پر حاضرین لوک کہانی کی گہرائی میں نہ پہنچ سکے۔

ایران سے تعلق رکھنے والے نوروز ہنر نے بھی پتلی تماشہ پیش کیا۔ تائیوان کے میوزیکل گروپ لوئی چاؤین نے اپنے روایتی چینی میوزک کا مظاہرہ کیا جسے حاضرین نے بہت پسند کیا۔

رفیع پیر گروپ کے فنکاروں نے بھی پہلے روز پتلی تماشہ پیش کیا جسے حاضرین کی بڑی تعداد نے دیکھا۔

موسیقی کے شعبے میں انڈونیشا سے تعلق رکھنے والے ایک گروپ نے رقص اور موسیقی کا مظاہرہ کیا۔

میلے کے پہلے روز جب پاکستانی فنکاروں نے اپنے فن کا مظاہرہ کیا ان میں راگا بوائز، رنگ، ریج اور شام چوراسی گھرانے کے شفقت علیخان قابل ذکر ہیں۔

رفیع پیر گروپ کے صدر فیضان پیرزادہ نے اس موقع پر بتایا کہ جن حالات میں اس میلے کا انعقاد کیا گیا ہے ان کو کسی طرح بھی ساز گار نہیں کہا جا سکتا۔

’پاکستان کے موجودہ حالات کے پیش نظرامریکی فنکاروں نے یہاں آگر پرفارم کرنے سے انکار کر دیا جبکہ بہت سے دیگر مغربی گروپ بھی سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر یہاں نہیں آئے۔،

انہوں نے ایک امید کا اظہار کیا کہ اس سال میلے کی کامیابی کے بعد آئندہ سال زیادہ تعداد میں گروپ اس میں شرکت کریں گے۔

اسی بارے میں
بیرونی لِنک
بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد