BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 17 October, 2003, 14:56 GMT 19:56 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مشترکہ کانفرنس: بھارتی وفدلاہورمیں

وفد واہگہ سرحد سے پاکستان میں داخل ہوا
کشور ناہید نے وفد کا استقبال کیا

اسلام آباد میں پاکستان اور ہندوستان کے ادیبوں کی تاریخ میں پہلی مشترکہ کانفرنس میں شرکت کے لیے ہندوستان سے دس ادیبوں کا ایک وفد جمعہ کو واہگہ کے راستے لاہور پہنچا۔

وفد سہ پہر ساڑھے تین بجے واہگہ سرحد سے پاکستان میں داخل ہوا تو ادیبوں اور دانشوروں کی ایک بڑی تعداد نے اس کا اسقتبال کیا جن میں انتظار حسین، منو بھائی ، کشور ناہید اور ڈاکٹر مبشر حشن شامل تھے۔ وفد کے ارکان کے گلے میں گیندے کے پھولوں کے ہار ڈالے گۓ، ان پر گلاب کے پھولوں کی پتیاں نچھاور کی گئیں اور امن کی علامت کے طور پر فضا میں کبوتر چھوڑے گۓ۔

ہندوستانی وفد کی قیادت پنجابی کی مصنفہ اجیت کور کررہی ہیں اور ان کے ساتھ آنے والوں میں جیلانی بانو، سعیدہ سیدین حمید، اندرا گوسوامی، چترا گلڈل، ترن کو گجرال، وجیہہ الدین، کمل کمار، پیپہا جگتار سنگھ اور منوہر شیام جوشی شامل ہیں۔ وفد کے زیادہ تر لوگ پہلی مرتبہ پاکستان آۓ ہیں۔ وفد کی ایک میزبان کشور ناہید نے بتایا کہ گوپی چند نارنگ اور سید شاہد مہدی نہیں آسکے۔

اردو کے نامور ادیب انتظارحسین نے بی بی سی کو بتایا کہ اس سے پہلے تاریخ میں اس قسم کا اجتماع کبھی نہیں ہوا اور یہ پاکستان کی تاریخ کا پہلا واقعہ ہے کہ ہندوستان سے ادیب وفد کی صورت میں ایک کانفرنس میں شریک ہونے کے لیے آۓ ہیں۔ انھوں نے کہا کہ معلوم نہیں کہ کانفرنس دونوں ملکوں کے درمیان امن کے لیے راہ ہموار کرسکتی ہے یا نہیں لیکن ادیبوں کا ملنا خود ایک نیک فال ہے۔

ادیب جمعہ کی شام کو لاہور کے ادیبوں کی طرف سے ایک دعوت میں شریک ہوں گے اور ہفتے کی شام ایک استقبالیہ میں شرکت کریں گے۔ اس کے بعد وہ انیس اکتوبر سے اکیس اکتوبر تک اسلام آباد میں قلم اور امن کانفرنس میں شرکت کریں گے۔

صحافی اور ادیب منو بھائی نے بی بی سی کو بتایا کہ پہلی بار غیرسرکاری طور پر ہندوستان کے ادیبوں کا وفد پاکستان آرہا ہے اس لیے یہ موقع اہم ہے۔

ہندوستان میں پنجابی کی مصنفہ اجیت کور نے کہا کہ نہ ادھر کی حکومت اور نہ اُدھر کی حکومت امن چاہتی ہے لیکن ہم پانیوں میں اور طوفانوں میں چراغ جلارہے ہیں۔ اب جو ہوگا دیکھا جاۓ گا۔ انھوں نے کہا کہ جن کے ہاتھوں میں ہماری قسمتیں ہیں وہ امن نہیں چاہتے۔

انھوں نے کہا کہ وہ افغانستان کی جنگ میں، یوگوسلاویا کی جنگ میں اور فلسطین کے لوگوں پر مظالم دیکھتی ہیں تو انھیں یوں محسوس ہوتا ہے کہ جو آنسو گرتا ہے وہ ان کی چھاتی پر گرتا ہے اور اس کا رونا رونے کے لیے وہ ادھر اُدھر دوڑتی پھرتی ہیں اور پاکستان کا موجودہ دورہ بھی اسی لیے ہے۔

اجیت کور نے کہا کہ امن کی امید تو بہت کم ہے اور انھیں اپنی زندگی میں ایسا ہوتا دکھائی نہیں دیتا لیکن وہ مسقبل کے بچوں کے لیے بن ہتھیاروں کے لفظوں سے ایک پرامن مستقبل کے لیے سرمایہ کاری کررہی ہیں۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد