| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
ممبئی میں لرزش
بھارت کے شہر ممبئی میں جنسیت کے موضوع پر آج سے پہلا عالمی فلمی میلہ شروع ہو رہا ہے۔ میلے کا انعقاد ممبئی کی ہم جنسوں پرستوں کی ایک حمایتی تنظیم ’ہم جنسی‘ اور انڈیا سینٹر فار رائٹس اینڈ لاء نے کیا ہے۔ میلے میں بھارت اور پوری دنیا کے ہم جنس پرستوں کو درپیش مسائل پر روشنی ڈالی جائے گی۔ ممبئی میں بی بی سی کی نامہ نگار کا کہنا ہے کہ بھارت کے قانون کے مطابق ہم جنس پرستی ایک قابلِ سزا جرم ہے۔ انتظامیہ نے میلے کا نام لرزش رکھا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ میلے کا انعقاد ہی ایک مشکل کام تھا۔ انتظامیہ کی ایک اہلکار مس چٹورا نے بی بی سی کو بتایا کہ میلے کے انعقاد کے لئے بہت سے لوگوں نے اپنی جگہ مہیا کرنے سے صرف ہم جنس پرستی کا موضوع سن کر ہی انکار کر دیا تھا اور کہا تھا کہ یہ موضوع بہت متنازعہ ہے۔ آخر کار ایک مقامی کالج نے انہیں میلے کے لئے اپنی جگہ مستعار دی۔ میلے میں مشرقِ وسطیٰ ، جنوب مشرقی ایشیا، امریکہ، یورپ، اور لاطینی امریکہ میں نوجوان، ہم جنس پرستی اور جنسی آگہی جیسے مسائل پر بنائی جانے والی چالیس فلمیں دکھائی جائیں گی۔ ان فلموں میں جرمنی کی ایک آٹھ منٹ کی فلم ’لا پیٹیٹ مارٹ‘ ہے جس میں ایک انتہائی مایوس عورت کو دکھایا گیا ہے جو خودکشی کرنے کو کوشش کر رہی ہے۔ فن لینڈ کی ایک فلم ’پلین ٹرتھ‘ ایک آدمی کی کہانی ہے جو عورت کے جسم میں پیدا ہوا ہے مطلب کے اس کا جسم اصل میں عورت کا ہے اور اس کی خواہشات اور احساسات مرد کے۔ فلمیں دکھائے جانے کے ساتھ ساتھ جنس جیسے موضوعات پر بحث بھی کئی جائے گی۔ میلہ انیس اکتوبر تک لگا رہے گا۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||