BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 26 January, 2006, 10:12 GMT 15:12 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
عجیب مانوس اجنبی تھا۔۔۔۔

ظفریاب
ظفرامریکہ میں اپنی جلاوطنی ختم کرکے لاہور جانا چاہتا تھا
ایسا لگتا تھا کہ وہ تمام دنیا سے ناراض ہے، لیفٹ، رائٹ اور سینٹر، سب کے سب۔ عاصمہ جہانگیر ہو کہ مولانا عبدالقادر آزاد، سب اس کے نام کے پیچھے ایک عجیب کا نشان ضرور لگاتے تھے۔

ظفریاب جو منیر نیازی کی نظموں کی طرح تھا۔ ایک مست قلندر آدمی، مجذوب ملامتی صوفیوں کی طرح۔

’اسلام کے مخالف پری چہرہ دوستو انداز گفتگو توشریفانہ چاہیے‘، شورش کاشمیری نے ایک دفعہ ظفریاب احمد کیلیے یہ شعر لکھا تھا-

ظفریاب کل لاہور میں مرگیا- خطہ لاہور تیرا ایک بیٹا مر گیا، اگر حبیب جالب زندہ ہوتا تو اس کی موت پر اس طرح کہتا ’میں جب بھی ابسولیوٹ
ووڈ کا کی بوتل دیکھتا ہوں تو مجھے ظفریاب یاد آتا ہے۔

’آئے کچھ ابر کچھ شراب آئے پھر اس کے بعد۔۔۔۔۔۔۔‘ وہ اپنی بوتل کی بسم اللہ فیض کے اس شعر سے کرتا۔

کل جس وقت پاکستان میں انقلاب کے ہر اول دستے کے خواتین و حضرات لاہور کی سڑکوں پر مارچ کررہے تھے اس وقت ظفریاب ’اسان آپے اڈن ہارے ہو‘ کہہ رہا ہوگا۔

وہ امریکہ میں اپنی جلاوطنی ختم کرکے لاہور جانا چاہتا تھا جہاں اسکی ماں کی تازہ بنی ہوئی مرقد تھی۔

تھڑوں پر بیٹھنے اور پپو سائيں کے ڈھول جاکر سننا چاہتا تھا۔ اگر وہ منٹو کے دور میں ہوتا تو ضرور اس کا خاکہ ’گنـجے فرشتے‘ میں شامل ہوتا۔

میں کہتا ہوں اگر وہ دل کے درد میں وطن میں نہیں مرتا تو آئی ایس آئي یا ایم آیم ئی یا آئی بی والے اسے مار دیتے۔

وہ نیویارک کے جنوبی ہندستانی، پاکستانی اور بنگلہ دیشیوں کے علاقے جیکسن ہائیٹس اور براڈوے پر میلہ چراغاں کرانا چاہتا تھا۔

پاکستان میں بینظیر بھٹو حکومت میں بغاوت کے حوالے سے ظفریاب، چائلڈ لیبر کے مقتول اقبال مسیح اور گدھے سے سیکس کی کہانیوں کی بازگشت اقوام متحدہ میں انسانی حقوق کے فورم پر بھی سنی گئی۔ وہ بہت سی انسانی حقوق کی تنظیموں کا پوسٹر بوا‎ئےنہیں بن سکا۔

ایک دفعہ اس نے چائلڈ لیبر پر انسانی حقوق کے ہونے والے ایک اجلاس میں ایک صاحب سے کہہ دیا تھا کہ ’یہ جو تم نے قمیض پہنی ہوئی ہے یہ بھی پاکستان میں چائلڈ لیبر کے ہاتھوں سے بنی ہوئی ہے‘۔

وہ ایک بغیر گھڑی ہوئي لکڑی تھا- اکھڑ اکھڑ۔ اس سے آپ کی ملاقات یا تو جھپیوں اور چمیوں تک جا پہنچتی یا گالی گلوچ پر۔ میری اور حیدر رضوی کی اس سے دوستی ’جو چاہے آپ کا حسن کرشمہ ساز کرے‘ کی بنیاد پر تھی۔

وہ پہلی بار مجھے حیدر رضوی کے ہمراہ کولمیبیا یونیورسٹی اورہارلیم کے قریب مشہور بار ’ویسٹ اینڈ‘میں ملا جہاں کبھی بیٹ جنریشن کا گرو ایلن گنسبرگ اور اس کے ساتھی بیٹھا کرتے تھے۔

 پاکستان میں بینظیر بھٹو حکومت میں بغاوت کے حوالے سے ظفریاب، چائلڈ لیبر کے مقتول اقبال مسیح اور گدھے سے سیکس کی کہانیوں کی بازگشت اقوام متحدہ میں انسانی حقوق کے فورم پر بھی سنی گئی۔

یہ مئی انیس سو ننانوے میں پاکستان پر نوازشریف کے دن تھے جس کی حکومت کی آمرانہ پالیسیوں کا کل نفس ذائقہ چکھ رہے تھے اور اس کے تخت لہور کا ایک قیدی نجم سیٹھی بھی تھا۔ ’وین ٹو ایگزائیلز میٹ ان ایمیسٹرڈم‘ حیدر رضوی نے نعرے میں کہا۔

ہم سب پاکستانی سفارتخانے کے باہر جمع ہوئےتھے اور جب اس وقت نواز شریف حکومت کے وزیراطلاعات مشاہد حسین کے پچھلے نام پر کراس لگا کر اس کی جگہ’یزید‘ لکھ دیا گیا تھا۔ پریس پر لاٹھی گولی کا راج تب بھی تھا اور اب بھی ہے۔

ظفریاب احمد اس شام پاکستان میں پریس پر قدغن کے موضوع پر سی پی جے (کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس اور ساجا (ساؤتھ ایشین جرنلسٹس ایسوسی ایشن ) پر بول رہا تھا- وہ دن اور پھر آخری دن بروکلین، مینھیٹن، گرین وچ ولیج، ہارلیم، کوئينز میں حجرہ جوہر میر اور حلقہ ارباب ذوق کے اجلاس، نیویارک کی پبلک لائبریري، ٹائم سکوائر کی بریوری، سوہو اور برانکس ظفریاب ہوتا میں اور وہ نیویارک۔

اس کی جیب میں ایک خوبصورت لڑکے کا پاسپورٹ سائز فوٹو تھا وہ لڑکا وہ خود تھا۔اس فوٹو میں اس کے تھوڑی کے نیچے تصدیق کے ساتھ ایک دستخط تھے۔ یہ دستخط کنارڈ کالج کی پرنسپل بیگم اخلاق حسین کے تھے۔

’تمہیں پتہ ہے بیگم جسٹس اخلاق حسین کون تھیں بھلا ؟ اس نے مجھ جیسی بھولی منجھ سے پوچھا۔ نہیں۔ ’بیگم اخلاق حسین رضا کاظم کی اماں تھی‘۔

اس نے فخر اور احترام سے کہا پھر اسے اپنی اماں یاد آئی۔’میری اماں کہتی تھی میں تجھے ولایت بھیجوں گی اعلی تعلیم کےلیے چاہے کتنے بھی پیسے لگيں۔ میں پھر ولایت مانچسٹر پڑھنے گیا۔ حمزہ علوی کے پاس‘، وہ بتاتا۔

 ظفریاب جو منیر نیازی کی نظموں کی طرح تھا۔ ایک مست قلندر آدمی، مجذوب ملامتی صوفیوں کی طرح۔

حمزہ علوی، طارق علی، پرفیسر امین مغل، انگریز انقلابی اور آئرلینڈ کے قوم پرست۔ وہ جب اپنے ان دنوں کے بارے میں زیادہ ناسٹلیجک ہوتا تو آئرش پبوں میں چلا آتا- مجھے وہ درختوں کے قطار والی آئرش نیبرہوڈ کے نکڑ والی بار یاد ہے جہاں تاحد نظر برف میں وہ چلا آرہا ہوتا۔ ایک دن ہم گرینچ ولیج میں اس ’سٹون وال‘ بار کی زیارت کو گئے جہاں سے جون انیس سو انہتر میں گے لزیبن حقوق کی لڑائي شروع ہوئی تھی۔

اگرچہ وہ ’آوٹ اف کلاسیٹ ھیٹرو سیکسوئيل‘ تھا لیکن وہ ہر اچھے کاز کی لڑائي کےلیے ہر دم تیار ہوتا۔ پھر وہ سندھ میں ہاریوں کی تحریک ہو کہ پنجاب میں چائیلڈ لیبر، صحافیوں کے حقوق ہوں کہ اینٹی نیوکلئير امن مارچ۔

اسلام آباد میں ایٹم بم کے خالق کا جب علامتی کریا کرم کیا گیا تھا تو ظفریاب اس میں آگے آگے تھا۔ وہ جی ایم سید کا مداح تھا تو پلیجو کا متعرف۔ ’جماعتیے مجھے ساٹھ کی دہائی والے میر علی احمد تالپور کا ’ترک شیرازی‘ کہتے‘ ظفریاب ہنستے ہوئے کہتا۔

چار یکساں زون رکھنے والے امریکہ میں آنےوالے اس کے فون زمان و مکان اور ہر گرامر کی پابندی سے آزاد ہوتے۔ وہ ایک جینوئين آدمی تھا۔ اس کا دشمن اسے ’پہلے نمبر کا‘ کچھ بھی کہہ سکتا ہے لیکن دو نمبر آدمی نہیں کہہ سکتا۔

’کل دے ۔۔۔۔۔۔ منڈے ہیرو بن گئے ساڈے ورگے ایکٹر پچھے رہ گئے‘ ظفریاب اپنے پرانے پڑوس گوالمنڈی کے قصے یاد کرتا کہ کس طرح ایک زمانے میں پنجابی فلموں کا مشہور اداکار مظہر شاہ ’ٹن‘ ہوکر محلے میں بڑہکیں پھر بھی مارتا۔

’سجن اور ویو پوائنٹ‘ کی راتوں اور دنوں کو وہ نیویارک میں یاد کرکے رو دیتا۔ وہ کہتا لاہور میں رات کو سو کر ہرصبح نیند میں روکر اٹھتا اور دیکھتا کہ جنرل ضیا ء کا دور اب بھی جاری تھا۔

’اے چاند بھٹائی کو کہنا جس رات میں تونے گیت کہے وہ رات ابھی بھی جاری ہے‘ میں اسے انور پیرزادو کی یہ نظم سناتا- ’یار حسن کوزہ گر سناؤ‘ وہ مجھ سے ہر رات ایسی فرمائش کرتا جسے بچے ماں سے کہانیاں سنانے کی فرمائش کرتے ہیں۔ وہ انسانی حقوق اور آزادی صحافت کی لڑائي کا لون رینجر تھا۔

 ’سجن اور ویو پوائنٹ‘ کی راتوں اور دنوں کو وہ نیویارک میں یاد کرکے رو دیتا۔ وہ کہتا لاہور میں رات کو سو کر ہرصبح نیند میں روکر اٹھتا اور دیکھتا کہ جنرل ضیا ء کا دور اب بھی جاری تھا۔

وہ ایک رکنی پنجابی فورم تھا۔ پاکستان کی انقلابی ایلیٹ کے لیے وہ ’آؤٹ سائيڈر‘ تھا کیونکہ وہ نام نہاد ایلیٹ نہیں تھا۔ وہ انقلابی ایلیٹ بھول چکا تھا اسے صرف لاہور ميں بابا نظام، زم (ظفر اقبال مرزا بالعمرف لاہوری) اور سرمد صہبائی یاد رہ گئے تھے۔ اسے اپنی بہنیں، بھانجیاں اور بھتیجے وجد کے عالم میں بھی اس کی پسندیدہ نظموں کی طرح یاد ہوتے۔ نظمیں ہوتیں نجم حسین سید اور امرجیت چندن کی۔

امریکہ میں جلاوطنی سے لاہور اس کی وآپسی گبریل گارشیا مارکئيز کی ’کلینڈسٹائين ان چلی‘ کے مرکزی کردار کی طرح تھی کوئی اسے کچھ بھی کہے۔ جلاوطنی ایک روحانی کینسر ہوتا ہے۔ وہ اپنی ماں کے بغیر زیادہ زندہ نہیں رہ سکتا تھا۔ ظفریاب خوبصورت آدمی تھا۔ لڑاکا مرد اور لڑاکا عورت بھی تھا جو کہ ہم سب ہیں۔

’اسے عزیز تھی آورگی میں تنہائی
نہ جانے آج کہاں کس نگر گیا لوگو
بلا کی تشنہ لبی تھی ازل سے پیاسا تھا
پیا جو زہر تو نس نس اتر گیا لوگو‘۔

 منو بھیل منو بھیل کا احتجاج
گذشتہ ایک ہ‍زار پچاس دنوں سے احتجاجی دھرنا
فائل فوٹونو جواب شکوہ، مین !
دھرتی ماں کو بھوک لگی تھی: حسن مجتٰبی کی نظم
اکبر بگٹی’بلوچ قربانی‘
گولی کا جواب گولی سے: حسن مجتبیٰ کا کالم
ہیرو اور اینٹی ہیرو
بھٹو میں منصور اور میکاولی ساتھ رہتے تھے
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد