’نو سال دیوانہ وار‘ پھرنے والا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
حیدرآباد سندھ کے پریس کلب کے باہر فٹ پاتھ پر وہ خوبصورت گھنی سفید مونچھوں والا کھیت مزدور منو بھیل گذشتہ ایک ہزار پچاس دنوں سے احتجاجی دھرنا دیئے بیٹھا ہے۔ نو سال قبل منو بھیل کے بیوی بچوں اور غالباً ماں سمیت خاندان کے نو افراد کو اس زمیندار نے اغوا کرواکے گم کردیا ہےجس کی خانگی جیل سے منو بھیل نے نکل کر بھاگنے کے بعد سندھ میں انسانی حقوق کے بڑے علمبردار شکیل پٹھان کے توسط سے اپنے مقید اہل خانہ اور باقی ساتھی ہاریوں (کسانوں) کو رہائی دلوائی تھی۔ منو بھیل کی یہ خوشی اور اسکے اہل خانہ کی آزادی عارضی ثابت ہوئی اور کچھہ دنوں بعد منو بھیل کے خاندان کے ان رہائی پانے والے افراد کو بقول کہنے والوں کے اس زمیندار عبدالرحمان مری نے پیجارو جیپ میں پھر اغوا کروالیا۔ اغوا کے وقت منوبھیل کی بیٹی گیارہ سال اور بیٹا پانچ برس کے تھے۔
اس واقعے کو نو برس بیت گئے۔ تب سے منو بھیل اپنے اغواشدہ اہلِ خانہ کی رہائی کے لیے علاقہ وقوعہ ڈگھری (میرپور خاص) کے تھانے سے لیکر پاکستان کی سپریم کورٹ تک انصاف کیلیے ’نو سال دیوانہ وار‘ پھرتا رہا لیکن انصاف جیسا پرندہ پاکستانی قوانینِ جنگل میں نا پید ہے۔ ان نو برسوں میں، منو بھیل کہتا ہے کہ وقفوں سے پولیس کے ہاتھوں زبردست تشدد بھی سہتا رہا ہے کیونکہ پولیس عملدار اسے کہتے تھے وہ انہیں یہ لکھ کر دے کہ اسکے اہل خانہ اغواء ہی نہیں ہوئے اور نیزیہ کہ زمیندار عبدالرحمان مری کے پاس اسکے گھر والے نہیں۔ مجھے نہیں معلوم کہ خانگی جیل چلانے والے زمیندار عبدالرحمان مری کا تعلق حکمران مسلم لیگ (قاف) سے ہے یا کہ اسکی اتحادی پیر پگاڑو کی مسلم لیگ (فنکشنل) سے، سندھ کے وزیر اعلی ارباب غلام رحیم سے،یا حزبِ مخالف کی پاکستان پیپیزپارٹی سے یا بلوچ قوم پرست رہنما لیکن مریوں کے سردار خیر بخش مری سے۔ ان میں سے کسی سے بھی ہو لیکن جہاں تک سندھ میں وڈیروں کی خانگی جیلوں اور بیگار کیمپوں میں پستے اور جبر سہتے ہاریوں کا تعلق ہے تو انکا جبر و استحصال قائم رکھنے میں ان پارٹیوں اور شخصیات کا زبردست اتحاد ہر وقت دیکھنے میں آتا ہے۔
ان میں سے بہت سوں کے لہلہاتے کھیت و باغات اور بمپر فصل بیچارے بھیل، کولھی، باگڑی، ملاح، اور خاصخیلی ہاریوں اور کھیت مزدورں کے بلا معاوضہ خون پسینے سے سرسبزوشاداب ہیں۔ اس سے کیا فرق پڑتا ہے کہ انکے خوشبودار سندھڑی آموں کی پیٹیاں بکنگھم پیلیس میں تحفتاً کھلتی ہیں کہ آرمی ہاؤس راولپنڈی میں۔ ان ہاریوں کے ’بھوتاروں‘ اور ’مجیریوں‘ ( سندہ میں ہاریوں کی طرف سے اپنے زمینداروں اور وڈیروں کو مخاطب کرنے کے لیے لفظ جس کا مطلب ’مالک‘ بنتا ہے) میں کوئی ’آموں‘، ’کیلوں‘ اور ’گنے‘ کا بادشاہ بنا ہوا ہے تو کوئی سب سے بڑا ’ کالا باغ ڈیم مخالف زرعی ماہر‘۔ کوئی سندھ کے حقوق کا علمبرداراور جمہوریت کا چیمپیئن تو کوئی پرویز مشرف حمایت تحریک کا۔ کوئی پگدار، کلنگی دار پاگارا، تو کوئی محترمہ چاروں صوبوں کی زنجیر اور عوام کی تقدیر، کوئی نواب تمندار چیف سردار تو کوئی چیف خلیفہ، کوئی حاضر سروس یا ریٹائرڈ جنرل تو کوئی ڈی آئی جی، ایس پی، میجر، اور کرنل۔ سندھ میں ٹھٹھہ، بدین، میرپورخاص، تھرپارکر، ٹنڈو اللہ یار اور سانگھڑ اضلاع میں تشریف لے جائیں اور ان گنے، کیلوں اور آموں کے فارموں کے نظارے کیجیے جہاں واقفانِ حال بتاتے ہیں کہ ہاریوں کے انکے کنبوں سمیت قید خانے ہیں۔ کہیں کہیں یہ قید خانے پوری پوری ایک دو نسلوں سے بھرے ہیں جہاں ہاری بھاری زنجیریں پہنے مشقت کرتے دکھائی دیتے ہیں۔
مٹی کی موٹی دیواروں سے اونچے برجوں اور مورچوں سے بنے ہوئے ان ’کوٹوں‘ پر کہیں آپ کو پیپلزپارٹی کا پرچم لہراتا ملے گا تو کہیں مسلم لیگ کا (اور اب تو ایم کیو ایم کا بھی، قائمخانی ، خانزادے اور ٹھاکر زمینداروں کے ’کوٹوں‘ پر)۔ جب انیس سو بیانوے میں فوج نے ٹنڈو اللہ یار میں کھوکھر کوٹ پر چھاپہ مارکر خانگی جیل بر آمد کی تھی تو اس پر پاکستان کا پرچم پہلے سے لہرارہا تھا۔ فوج نے کہتے ہیں کہ یہ چھاپہ محض اس لیے مارا تھا کہ اس کھوکھر زمیندار سے تب اس وقت کے کورکمانڈرجنرل نصیر اختر کا ایک بنگلے پر تنازعہ تھا۔ کچھ لوگوں نے تو سندھ میں خانگی جیلوں کی برآمدگی کو ’ہندستانی را کی سازش‘ تو بہت سوں نے اسے ’سندھ کی زراعت‘ کے خلاف سازش قرار دیا۔
مگر کھوکھر کوٹ سے رہائی پانے والے ہاریوں اور انکی عورتوں اور بچوں کی کہانیاں آپکو قرونِ وسطیٰ یا پھر ’انکل ثامس کیبن‘ والی غلامی کی کہانیوں کی یاد دلاتی تھیں۔ کھوکھر وڈیرے اب سیاست میں ہیں اور جب سابق صوبائی وزیرامتیاز شیخ کی قیادت میں ان کی سابق پارٹی سندھ ڈیموکریٹک الائنس کا وفد جنرل پرویز مشرف سے ایک اہم ملاقات کرنے گیا تھا تو اس میں ایس ڈی اے کے ایک رہنما کے طور پر میر محمد کھوکھر بھی شامل تھا۔ ایسے بغیر چھپے اور کہے ہوئے قصے سانگھڑ کے بگٹی کوٹ کی دیواروں سے بھی شاذونادر ہی باہر آتے ہیں۔ سانگھڑ کا بگٹی کوٹ جو پاکستان کے اور سندھ کے ہر حکمران کے لیے ناقابل تسخیربنا رہا ہے۔
’عبدالرحمان مری اسکی تردید کرتا ہے کہ منو بھیل کے خاندان والے اسکے پاس ہیں‘۔۔۔ یہ الفاظ پیر پگارو کے بیٹے اور سندہ میں صوبائی وزیر نے مبینہ ملزم زمیندار کے دفاع میں اسوقت کہے ہیں جب منو بھیل کے معاملے پر سپریم کورٹ نے ازخود نوٹس لیتے ہوئے سندھ کے انسپکٹر جنرل کی بازپرس کرتے ہوئے ان کی فوری بازیابی کا حکم دیا ہے۔ منو بھیل نے نو برس قبل زمیندار عبدالرحمان مری پر پرچہ کٹوایا تھا (پاکستان میں کٹے ہوئے پرچے پر صرف’ بااثر ملزم‘ ذوالفقار علی بھٹو ہی پھانسی پر چڑھایا گیا تھا) ۔ منو بھیل اور اسکی طرح سندھ میں جاگیرداری کی اس ہم عصر غلامی کے شکار ہاریوں کو انصاف کیونکر ممکن ہو جب قوانین پر عمل کروانے والوں میں سے بہت سے ڈی پی او، ڈی آئی جی اور ڈی سی اوز ہوں ہی سندھ میں پیروں، میروں، وڈیروں کے منشیوں اور مریدوں کے بیٹے یا سیاستدانوں کے سابق باڈی گارڈ۔ یہی منو بھیل کے کیس میں بھی ہونیکا خدشہ ہے۔ ’مجھے ہاری کیمپ میں سے ڈی پی او تفتیش پیر فرید جان سرہندی گرفتار کرکے لے گیا اور اس نے مجھ پر زبردست تشدد کیا۔ وہ مجھ سے یہ بیان دلوانا چاہتا تھا کا میرے بیوی اور بچے اغوا نہیں ہوئے۔ اس نے ایک اور ہاری عورت پر بھی زبردست تشدد کیا اور اس سے کہتا تھا کہ وہ کہے کہ وہ میری بیوی ہے‘ یہ منو کہتا ہے‘۔ ’مجھ سےخانگی جیل چلانے والا زمیندار ’ادرحمان مری‘ (عبدالرحمان مری ) نہیں پر پیر پاگاڑو خود لڑ رہا ھے کیونکہ سندہ میں ساری حکومت اور اسکے تمام عملدار اسکی مرضی سے اور حکم سے چلتے ھیں- عبدالرحمان مری زمیندار بھی اسی کا مرید ھے۔ اور اسی لیے مجھ سے انصاف نہیں ھو سکا۔‘ یہ الفاظ منو بھیل نے حیدرآباد سے اپنے سیل فون پر بی بی سی اردو ڈاٹ کام سے کیلیفورنیا میں بات کرتے ہوئے کہے۔ منو بھیل کو اس جیپ کا رجسٹریشن نمبر بھی یاد ھے جس میں، بقول اسکے، زمیندار عبدالرحمان مری، بشیر پنجابی اور مری کا بندوقچی (گن مین) اس کے بوڑھے ماں باپ، اسکی بیوی، اسکی بیٹی اور بیٹوں کو اغوا کرکے لے گیا تھا۔ڈگھری ضلع میرپورخاص سے میرے گھر بار اغوا کرکے لے جانے والے زمیندار نے کہا تھا منوسے کہ کہنا کہ ’کیمپ‘ پر چھاپہ ڈلوانے کا بدلہ لے کے جارہا ہوں۔‘ منو بھیل سندھ میں غلامی یا بیگار کیمپ اور خانگی جیل چلانے والے زمینداروں اور وڈیروں کا پہلا ، اکیلا اور آخری شکار نہیں۔ اگر یہ خبر زیادہ پرانی نہیں ہوئی تو سندھ میں وڈیروں اور زمینداروں کے ساڑھے چار ہزار جیل آج بھی موجود ہیں جس کی فہرست ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کے شکیل پٹھان نے اس وقت کے وزیر اعلٰی سید عبداللہ شاہ کو دی تھی۔ یہی سید عبداللہ شاہ تھے جنہیں ایسی ہی جیل چلانے والے ایک زمیندار نظیر ٹھاکر قائم خانی نے پھولوں کے ہار پہنائے تھے- اسی نظیر قائم خانی نے اس سے قبل وزیر اعلٰی جام صادق علی اور اسکے بیٹے کی انتخابی مہم میں لاکھوں روپوں کے چندے بھی دیئے تھے۔
میرپور ساکرو (ٹھٹھہ) سے لیکر میرآباد (ثنڈواللہ یار) تک اور نئوں کوٹ (تھرپارکر) سے نئوں آباد (سانگھڑ) تک یہ جنوبی و وسطی سندھ وسطی امریکہ کی کسی’بنانا ریاست‘ کی طرح ہے۔
اس کا خود مشاہدہ کرنے کے لیے کسی بڑے یا چھوٹے زمیندار کا روپ دھارکر، کاٹن کی شلوار قمیض، کسی پیجارو یا لینڈ کروزر کی پچھلی نشست پر ایک آدھ باڈی گارڈ بٹھا کر اس بنانا ریاست کی زمینداریوں ، فارموں اور جاگیروں کا سفر کیجئے، زمینداروں اور ان کے کمداروں سے ملیے، انہیں کہیے کہ آپ فلاں جگہ کے زمیندار ہیں اور وہاں سے بھاگ کر آئے ہوئے ہاریوں کی تلاش میں یا نئے ہاری خریدنے میں سرگرداں ہیں اور پھر دیکھئے نظارا ان خانگی جیلوں کا۔ لیکن خبردار کہ ان کو آپ پر کسی صحافی یا انسانی حقوق کے کارکن ہونیکا گماں تک پیدا نہ ہو۔۔۔۔۔۔ | اسی بارے میں انسانی تہذیب کے منہ پر تازیانہ22 April, 2005 | قلم اور کالم جمہوریت کا ’میزائل‘18 March, 2005 | قلم اور کالم مات نہیں دے سکتے تو ساتھ دو 24 February, 2005 | قلم اور کالم ’بش آن دا کاؤچ‘26 August, 2005 | قلم اور کالم ’ فطرت کی دہشت گردی‘02 September, 2005 | قلم اور کالم | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||