’بش آن دا کاؤچ‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
’مجھ سے ملا کرو میں تمہیں کالم دوں گا‘، بہت دن پہلے میرے جاننے والے ’جو‘ نے مجھ سے کہا تھا جو تاہنوز غیرمطبوعہ لیکن اچھا شاعر ہے اور جس نے میری نوکری چھوٹنے پر کہا تھا: ’چلو اچھا ہوا کیونکہ تم بھی شاعر ہو‘۔ وہ اطالوی نژاد امریکی ہے جس نے اپنا بچپن اور جوانی نیویارک شہر میں گزاری ہے اور اب برسوں سے کیلیفورنیا میں رہتے ہوئے نہ فقط ہسپانوی بڑی روانی سے بولتا ہے بلکہ پیبلو نرودا تو اپنی جگہ وہ بہت سے ایسے گمنام لاطینی امریکی شاعروں اور ان کی شاعری کے بارے میں بھی جانتا ہے جو نرودا کے پایے کے شاعر ہوں گے۔ اسی لیے ’جو‘ کہتا ہے ’ لاطینی امریکہ میں کسی پر ہلکا سا پتہ بھی پھینکو تو وہ جا کر کسی لاطینی امریکی شاعر پر پڑے گا‘۔ یہ تو بس شہرت اور کمیونزم کے دشمنوں نے نرودا کا گھر دیکھ لیا تھا ورنہ لاطینی امریکہ میں تو ایک سے ایک بھلا شاعر پڑا ہے‘۔ مجھے ’جو‘ کی یہ بات سن کر یاد آیا کہ یہ اس طرح ہے جس طرح تھر اور چولستان میں تو کئی مرد اور عورتیں اپنے گلے اور گیتوں میں بھگوان بسائے بیٹھے ہوں گے لیکن وہاں دنیا ہے کہ موہن بھگت اور ریشماں کو جانتی ہے جو جنوبی کیلیفورنیا میں سان ڈیاگو کی آب و ہوا کو چلّی جیسی سمجھتا ہے۔ آج صبح مجھے ’جو‘ مل گیا جب میں اپنے بیٹے کو سکول بس پر چھوڑنے گیا اورجو صبح کی چہل قدمی پر نکلا تھا۔ اس نے بتایا کہ کل وہ پڑوسی میکسیکو گیا تھا۔ میں نے امریکی سرحد کے اس طرف گاڑی پارک کی اور پیدل ٹوانا (قریبی شہر) چلا گیا۔’مجھے اپنے دندان ساز سے ملنا تھا‘، جو نے کہا۔ سان ڈیاگو سے میکسیکوا تنا قریب ہے جتنا پنڈی سے اسلام آباد یا حیدرآباد سے جامشورو۔ بہت سے امریکی بہت سے کاموں کیلیے میکسیکو کا سفر کرتے ہیں کیونکہ وہاں چیزیں سستی بہت ہیں۔ بہت سے کم عمر لڑکے اور لڑکیاں بھی میکسیکو کا اختتام ہفتہ سفر کرتے ہیں کیونکہ وہاں سگریٹ اور شراب نوشی پر بھی حد عمر کی پابندی کو اتنا نہیں دیکھا جاتا۔ میں نے بہت سے دیسی بھائیوں کو یہ کہتے سنا ہے کہ وہ وہاں’عیاشی‘ کے لیے جاتے ہیں۔ ’جب مجھے پاکستان کی یاد زیادہ ستاتی ہے تو میں میکسیکو چلا جاتا ہوں وہاں اپنے گھر جیسا لگتا ہے‘، مجھ سے ایک سابق فوجی لیکن اب لاس اینجلس سے نکلنے والے ایک پاکستانی ہفت روزہ کے مالک نے کہا تھا۔ ’میں اپنے دندان ساز سے ملا اور پھر فارمیسی سے ’اینٹی بایوٹک‘ دوائيں خرید کر پیدل امریکہ واپس آیا‘، جو نے مجھ سے کہا۔ میں جو کی باتیں تھوڑی سی نیم بےدھیانی سے سن رہا تھا کیونکہ میرے حال اور خیال آج کے کالم لکھنے کیلیے کوئی’ بوٹی‘ ڈھونڈنے کیلیے پریشان تھے۔ ’میکسیکو میں ہر چیز کاؤنٹر پر ملتی ہے‘، ’جو‘ نے میرے سوال برائے سوال کے جواب میں کہا لیکن پھر اس نے کہا،’میکسیکو میں لوگ ہم امریکیوں سے زیادہ آزاد ہیں۔ جہاں ملک زیادہ منظم ہوتے ہیں وہاں آزادی کم ہوتی ہے‘۔ میں جو کی باتیں سن تو رہا تھا لیکن سوچ رہا تھا کہ میں کالم کاہے پر لکھوں! کیا ٹیکساس میں صدر بش کے کرافرڈ فارم کے سامنے مظاہرہ کرنے والی اس ماں سینڈی شین پر کہ جس کا بیٹا عراق جنگ میں مارا گیا ہے اور وہ صدر بش پر جھوٹے ہونے کا الزام لگاتے ہوئے دوسری امریکی فوجیوں کی ماؤں اور جنگ مخالف لوگوں کے ساتھ احتجاج کر رہی ہے۔ یا میں نے سوچا کہ میں اس کٹر عیسائی ٹیلی مبلغ پیٹ رابرٹسن پر لکھوں کہ جس نے وینزویلا کے صدر ہیوگو شاواز کو قتل کرنے کیلیے لوگوں کو ترغیب دی ہے۔ میں سوچ رہا ہوں کیا امریکہ میں میکارتھی ازم پھر واپس آ چکا ہے یا اب کے اس میکارتھی ازم کی توپوں کا رخ اقلیتوں اور تارکین وطن کی طرف ہے! کچھ روز قبل کانگرس مین ٹام ٹینکریڈو کا ’اسلامی دہشتگردی‘ کے جواب میں مسلمانوں کے کعبے اور ایسے اور مقدس مقامات پر حملوں کا بیان نیو کونز اور رابرٹسن جیسے ایونیجلیکل مبلغوں کا ’بن لادن‘ انداز بیاں ہے۔ یہ ایوینجلیکل اور ریپبلیکن وہابی! کولوراڈو سے منتخب یہ ریپبلکن نمائندہ اور سابق سکول ٹیچر جو واشنگٹن میں اپنی سخت گیر تارکین وطن مخالف ہونیکی وجہ شہرت سے بھی جانا جاتا ہے نے پچھلے دنوں پاکستان کے وزیر خارجہ سے پوچھا تھا کہ پاکستانی فارن سروس میں کتنے سندھی افسر لگے ہیں! شاید پاکستان کی خارجہ پالیسی ميں چار چاند لگـا دیں گے جو اور پاکستانی نہیں لگا سکے۔ یا پھر اس نئی کتاب پر لکھوں جس میں واشنگٹن کے نفسیاتی معالج جسٹن اے فرینک نے صدر بش کا نفسیاتی تجزیہ کیا ہے۔ اس کتاب کا عنوان ہے ’بش آن دی کاؤچ‘ جسے آپ ’بش معالج کی میز پر‘ بھی کہہ سکتے ہیں۔ کتاب کا سرورق ڈیزائن کرنے والے نے سرخ رنگ کے پس منظر میں سفید رنگ کے بڑے سوالیہ نشان کے نیچے صدر بش کے چھوٹی سے تصویر دی ہے اور بس۔ کتاب کے مصنف لکھتے ہیں کہ اگر چہ صدر بش کبھی بھی میرے مریض نہیں رہے لیکن ان میں موجود باتیں اور کام اگر میرے مریض کرنے لگيں تو مجھے ضرور تشویش ہوگی۔ پھر صدر بش میں ’ بقول کتاب کے مصنف کے‘ ’ قول اور فعل‘ اور ان کے قول اور سچ میں تضادات گنواتے ہوئے مصنف نے کہا ہے کہ اگر ایسے تضادات میرے مریضوں میں پائے جائيں تومجھے نہ فقط اپنے ان کے (مریضوں کے) بارے میں تشویش ہوگی بلکہ اس سے بڑھ کر ان لوگوں کے بارے میں تشویش ہوگی جن کی زندگیاں ایسے مریضوں کے ہاتھوں میں ہونگي۔ ’صدر کے دماغ کے اندر کیا ہے‘ کا ذیلی عنوان لیے ہوئے یہ کتاب اصل میں ایک طرح سے صدر بش کی نفسیاتی سوانح عمری ہے جو نفسیاتی ماہر جسٹن اے فرینک نے مائیکل مور نہ بنتے ہوئےلکھی ہے جس میں جارج واکر بش کے سات سال کی عمر سے لیکر اب تک کے نفسیاتی تجزیے، ’ان کے ایک عادی شرابی سے ایک مذہب پرست ہوجانے تک‘ اور ان کی ایک عام امریکی کی سی روزمرہ کی انگریزی زبان کے استعمال اور لوگوں کو ہنسانے اور آنکھ مارنے اور پریس کے آگے سرچ لائيٹوں کے بیچ ایک خرگوش کی طرح بنے رہنے اور جوکھم یا رسک لے کر حیران کر دینے والے تک جسی شخصیت در شخصیت کا تجزیہ کیا ہے۔ جس کے لیے مصنف نے کہا کہ اگر آج سگمنڈ فرائيڈ زندہ ہوتا تو وہ ضرور صدر بش کا تجزیہ کر رہا ہوتا۔ کتاب کے مصنف نے صدر بش کے حیران کردینے والے عجیب غریب کارناموں ميں سے فائٹر جیٹ اڑاتے ہوئے سان ڈیاگو کے سمندر میں لنگر انداز جنگی جہاز پر اترنے کا ذکر کیا ہے۔ اسی موقع پر ہی صدر بش نے عراق میں جنگ ختم ہونے کا اعلان کیا تھا۔ لیکن آج صبح مجھے ’جو‘ کہہ رہا تھا ’میں زبردستی جنگ میں بھیجنے کیلیے ’ڈرافٹ‘ ہوا تھا اور جاپانیوں سے لڑائی کے محاذ پر تھا جب میرے سامنے والے بنکر میں جاپانی سپاہی بھک سے اڑا دیےگئے تھے، میں تب سے وہ مارا جانے والا جاپانی سپاہی بنا ہوا ہوں۔ میں نے سوچا کیا پتہ وہ میرا ہم عمر دشمن کا سپاہی بھی میری طرح زبردستی جنگ پر بھیجا گیا ہو جو میرے سامنے مارا گیا ہو۔ تب سے لے کر آج تک میں وہ ہوں جو دشمن تو تھا لیکن میری طرح ہی تھا‘۔ میں نے سوچا آج ’جو‘ نے مجھے میرا یہ کالم دے دیا۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||