’ فطرت کی دہشت گردی‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
دو ہزار دو سو پچاس میل طویل دریائے مسیسپی کے دہانے پر امریکہ کےجنوب میں ریاست لوئيزیانا اور اس کا شہر نیو اورليئنز ایسے ہیں جیسے دریائے سندھ پر کچے کا علاقہ۔ آپ ریاست لوئيزیانا اور اس کے شہر نیو اورلیئنز کو امریکہ کا ’ کچے‘ کا رقبہ کہہ سکتے ہیں اور دریائے مسیسپی کی امریکہ میں وہ اہمیت اور عظمت ہے جو مصر میں دریائے نیل اور کیٹی بندر سے کالاباغ (اور شاید اس بھی آگے) تک دریائے سندھ کی ہے۔ دریائے مسیسپی کو امریکی شاعر ٹی ایس ایلیٹ نے ’طاقتور مٹیالا خدا‘ کہا تھا اور نیٹِو امریکیوں نے اسے ’ تمام پانیوں کا باپ‘ اور روایتی طور امریکی اسے ’ بڑے میاں کا دریا‘ یا ’اولڈ مین رِور‘ بھی کہتے ہیں۔ دریائے مسیسپی اور گلف آف میکسیکو کے بیچ نیواورلیئنز تو ہے ہی پانی کا شہر۔ کہتے ہیں مسیسپی دریا اپنے ہزاروں میلوں کے طویل سفر پر سے بتیس امریکی ریاستوں کی اپنے ساتھ لائی ہوئی مٹی جب اپنے دہانے پر گلف آف میکسیکو میں پھینکتا رہا وہاں ریاست لوئزیانا بن گئی۔
امریکی جنوب میں یہی مسیسپی ڈیلٹا ہے۔ لوئزیانا، مسیسپی،الباما اور جارجیا۔ امریکی جنوب میں ہواؤں کے مخالف رخ انسان کی بنائی ہوئی یہ بستیاں، زمینی اور آسمانی خداؤں کے کھلونے! امریکی تاریخ فطرت کی بے رحمیوں سے بھری پڑی ہے۔ بقول شخصے’ کیلیفورنیا میں زلزلے، کنساس میں ٹار نیڈو اور لوئيزیانا میں ہری کین۔ اس سے پہلے صرف بیسویں صدی میں امریکہ میں ہری کین میں بارہ ہزار افراد مارے جا چکے ہیں- ’ ہم جو کام اور بات شروع کرتے ہیں وہ ہری کین پر آ کر ختم ہو جاتی ہے،‘ لوئيزیانا میں ایک عورت نے صحافی اور مسافر لکھاری بریڈ ہرزوگ کو بتایا تھا مگر کل میرا دوست ’جو‘ اسے فطرت کی دہشت گردی کہہ رہا تھا۔ کل ہی کے اخبار ’لاس اینجلس ٹائمز‘ نے اپنی شہ سرخیوں مییں نیو اورلیئنز میں ہری کین قطرینہ کی تباہیوں کی شہ سرخیوں میں لکھا کہ’مرجانے والے برائے مہربانی انتظار کریں کہ ابھی زندہ بچ جانے والوں کو نکالا جا رہا ہے‘۔ شکاگو سے میرے دوست افتی نسیم نے بہت سے لوگوں کو ای میل بھیجا ہے کہ ان کے نیو اورلیئنز میں رہنے والے پاکستانی دوست ناصر خان ناصر کا طوفان والے دن سے کوئی پتہ نہیں اور نہ ہی ان سے کسی کا رابطہ ہو سکتا ہے کیونکہ وہاں تمام ٹیلیفون اور انٹر نیٹ رابطے منقطع ہیں۔ اگر امریکہ میں اورلئينز کے اچھے دنوں کی بات ہوتی تو میں امریکہ کے زندہ دل شہروں میں سے اس کی جاز موسییقی کی بات کرتا جو مسیسپی کے روتے ہنستے پانیوں کے روتے ہنتسے کالے لوگوں کے ٹوٹے جڑتے دلوں سے بنائی گئی تھی( تقدیر بنی، بن کر بگڑی اس دل نے کسے آباد کیا)۔- نیواورلیئنز ميں مارڈی گراس کے نکلنے والے جلوس جو لندن کے ناٹنگ ہل کارنیوال سے بھی زیادہ کھلے ڈلے ہیں۔ سترویں صدی میں فرانسیسی آبادکاروں کا بنایا ہوا فرنچ کوراٹرز کا علاقہ کبھی غلاموں کا کاروباری مرکز بھی تھا۔ فرنچ کوارٹرز پھر وہاں شہر کی فینٹسی بنا جہاں جا کر رہنا بہت سے امریکی شاعر،موسیقار، مصور اور لکھاریوں کا خواب ٹھہرا۔ فرنچ کوارٹر، نیو اورلینز کا مین ہیٹن ۔ لیکن فرنچ کوراٹرز کے باہر اس کے اطراف میں ایک بڑی آبادی ’ہاؤسنگ پروجیکٹس‘ میں رہتی ہے۔ ’ہاؤسنگ پروجیکٹس‘ امریکہ میں غریب اور کم آمدن والے لوگوں کے لیے بنائے گئے مکانات ہیں جہاں اکثریت افریقی امریکی لوگوں کی ہے۔ ’ہاؤسنگ پروجیکٹ‘ میں پل کر بڑے ہونے والے لوگوں کی زندگیاں ایک اور امریکہ ہے جس کا نقشہ کھینچنے کے لیے ایک امریکی دوستووسکی درکار ہوگا۔ فرنچ کوارٹرز، مسیسپی، گلف آف مییکسیکو، جہاں آ کر انسانی خون اور تیل کی دھار ایک ہو جاتے ہیں۔ ایک اخبار کے مطابق نیو اورلینز میں گھروں میں وہ لوگ پھنس کر رہ گئے جو بہت غریب تھے اور جن کے پاس کاریں نہیں تھیں اور وہ انخلا کی وارننگ کے باوجود نکل نہیں سکے۔ اخبار نے لکھا کہ ’ اپنے گھروں کی چھتوں پر سے یہ لوگ کپڑے لہرا لہرا کر ہیلی کاپٹروں کو مدد کیلیے بلاتے رہے اور کچھ لوگوں نے ہیلی کاپٹروں کو اپنی جانب متوجہ کرنے کیلیے روشنی کے گولے بھی داغے‘۔ فرنچ کوارٹرز کی دکانوں اور سٹوروں پر لوٹ مار آپ کو امریکی قبضے کے فوراً بعد بغداد میں عراقیوں کی اپنے ہی پڑوسیوں اور املاک کو لوٹنے، پاکستان ہندوستان کی تقسیم، بالشویک انقلاب کے وقت پرولتاریوں کے ہاتھوں زار کے محل کی درگت، یا پھر لالو کھیت، لانڈھی اور لیاری میں ہنگاموں کی تصویروں سے ملتے جلتے مناظر کی یاد دلاتی ہوں گی۔ اس بار یہ ہری کین قطرینہ جسے بلانکسی شہر کے میئر نے ’امریکی سونامی‘ کہا۔ لوئيزیانا میں امریکی تاریخ کے ہری کینوں میں سب سے زیادہ تباہی لانے والا طوفان ہے- اس سے پہلے لوئيزیانا میں بیٹسی اور کیمائیل نام کے دو ہری کین آ چکے ہیں جن میں ڈھائی سو لوگ مرگئے تھے۔ نو ستمبر انیس سو پینسٹھ کو آنے والا بیٹسی ہری کین ایک سو ساٹھ میل فی گھنٹے کی رفتار سے آیا تھا اور انیس سو انہتر میں افریقہ کے ساحلوں سے آنے وا لے طوفان کیمائیل نے مسسپی جیسے دریا کے پانيوں کو اڑا کر رکھ دیا تھا جو ایک سو نوے میل کی رفتار سے تھا اور اسے صدی کا بڑا ہیری کین کہا گیا تھا۔
لوئيزیانا کے لوگ ان طوفانوں میں ڈوب کر پھر ابھرتے رہے ہیں۔ اسی لیے تو یہ لوگ کہتے ہیں کہ’ کبھی کبھی خدا ہمیں اسی لیے توڑتا ہے کہ پھر سے بنا سکے‘۔ سترہویں صدی میں جب امریکی جنوبی علاقوں پر فرانسیسی قبضے کے بعد فرانسیسی بادشاہ لوئی چودہ کے نام پر اس علاقے کا نام لوئيزیانا اور شہر کا نام فرانسیسی شہر کی اورلیئنز کے نام پر نیواورليئنز رکھ رہے تھے تو بقول اخبار ’لاس ایجنلس ٹائمز‘ کے انہیں تب انجنییئروں اور معماروں نے بہت سمجھایا تھا اور انہیں مسسپی کا غصہ بھی یاد دلایا تھا لیکن انہوں نے کسی کی ایک نہ مانی تھی۔ میں سوچ رہا ہوں کہ امریکہ پر فرانسیسی حکمران بھی پاکستانی حکمرانوں کے طرح تھے جو دریائے سندھ پر کالاباغ ڈیم بنانے پر مصر ہیں اور کسی کی ایک بھی نہیں سن رہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||