کٹرینا: کس کس کس کوڈبوئے گا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی تاریخ میں شدید ترین کہلانے والے سمندری طوفان کٹرینا سے ملک میں اور بین الاقوامی سطح پر کتنا معاشی نقصان ہوا ہے۔ اس کا صحیح اندازہ لائے جانے میں تو کچھ وقت لگے گا لیکن جو علاقے تباہ ہوئے ہیں ان کی تعمیر نو کے ابتدائی اندازے نو سے تیس ارب ڈالر کے درمیان ہیں۔ اگرچہ خلیج میکسیکو میں تیل کی تنصیبات بند ہونے کا اثر پوری دنیا میں پٹرول کی قیمتوں پر نظر آنا شروع ہو گیا ہے۔ تیل کی عالمی منڈی پر کٹرینا کے اثرات کیا ہو سکتے ہیں اس کا جائزہ ان مختلف روپرٹوں سے کیا جا سکتا ہے جو بی بی سی کے نامہ نگاروں نے بھیجی ہیں۔ ’ایف ایکس نیو یارک سٹاک ایکسچینج سے ملنے والی رپورٹ میں کہا گیا ہے : ’نیویارک سٹاک ایکسچینج میں ویسے تو روز ہی ہنگامہ رہتا ہے لیکن پچھلے چند دن سے تو جیسے آگ سی لگی ہے۔ تیل کی قیمتیں تمام ریکارڈ توڑ رہی ہیں اور اس کی وجہ ہے سمندری طوفان کٹرینا‘۔ یہ طوفان ابھی ساحل تک پہنچا بھی نہ تھا کہ امریکی ریاست لوئزیانا کے ساحلی شہر نیو آرلینز میں محکمہ قومی سلامتی کے ڈائریکٹر ٹیری ایلبرٹ متنبیہہ کتے ہیں کہ ’یہاں پیٹروکیمیکل کا کام کرنے والی ایک سو پینتیس کمپنیاں ہیں جو ملک کا چالیس فیصد تیل صاف کرتی ہیں۔ نیو آرلینز میں طوفان آیا ہے اس کا پورے ملک کو پتہ چلے گا‘۔ اور یہی ہوا۔ طوفان سے خلیج میکسیکو کی تیل کی تنصیبات بند ہوگئیں۔ عالمی منڈی میں تیل کی قیمت بڑھ گئی۔ جس کا اثر دنیا بھر میں پٹرول کی قیمت پر پڑا۔ صرف پاکستان میں آئندہ پندرہ دنوں کے لیے پٹرول کی قیمت تین روپے سڑسٹھ پیسے بڑھا دی گئی۔ بھارت میں جہاں تیل کی کمپنیوں پر جو پہلے ہی اس سال گھاٹے میں تھیں اس طوفان سے دباؤ بڑھ گیا ہے۔
پٹرول کی قیمت میں اضافہ دنیا کے کسی بھی ملک میں لوگوں کی زندگی پر اثر ڈالتا ہے لیکن شاید جتنا لوگ امریکہ میں پٹرول کی قیمت سے جس قدر متاثر ہوتے ہیں شاید کہیں اور نہیں ہوتے کیونکہ امریکہ میں پبلک ٹرانسپورٹ کا کوئی خاطر خواہ نظام نہیں اور ذاتی کار کے بغیر گھر سے نکلنا مشکل‘۔ ابھی زیادہ دن نہیں ہوئے کہ حالت یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ صدر جارج بش کی انتظامیہ پر دباؤ ڈالا جا رہا ہے کہ وہ تیل کے محفوظ ذخائر یا سٹریجک ریزرو کھول دے۔ امریکی ڈیموکریٹک سینیٹر چارلس شومر کا کہنا ہے ’لوگوں کی زندگیوں اور معیشت پر اس کے اثرات نمایاں ہیں یہی وقت ہے کہ سٹریٹیجک ریزرو استعمال کیے جائیں‘۔ امریکی حکومت نے لوئزیانا اور ٹیکساس میں ہنگامی صورتحال کے لیے خام تیل کی فراہمی کا اعلان کر دیا۔ لیکن مسئلہ صرف خام تیل کا نہیں۔ اس طوفان سے تیل صاف کرنے کے کارخانے بند پڑے ہیں۔ اگر وہ جلد نہ کھلے تو خام تیل بے کار ہے۔ گلوبل انسائٹ نامی کمپنی کے ژان رینڈولف کا کہنا ہے کہ تیل کی قیمتوں پر دور رس اثرات کا ابھی کسی کو اندازہ نہیں، وہ اس کمپنی میں نقصانات کا تخمینہ لگانے کے شعبے کے سربراہ ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ’میرا خیال ہے کہ ابھی تو نقصان کا اندازہ لگانے کا کام شروع ہوا ہے۔ تیل کی بہت سی بڑی بڑی کمپنیاں اپنے آئل رگز کے اوپر سے پرواز کر کے یہ دیکھ رہی ہیں کہ وہ سمندر میں اپنی جگہ موجود بھی ہیں یا طوفان سے اکھڑ گئی ہیں اور تیل کی منڈی میں تیل صاف کرنے کے کارخانوں کی خاص اہمیت ہے‘۔ وہ کہتے ہیں کہ ’یہاں پہلے ہی سپلائی مشکل تھی۔ اسی لیے پچھلے چند مہینوں میں تیل کی قیمتیں بڑھی تھیں، اب اگر کاخانوں میں پانی بھر گیا تو انہیں دوبارہ جلد شروع کرنا مشکل ہوگا‘۔ اگرچہ امریکہ نے اپنے محفوظ ذخائر کھولنے اور سعودی عرب نے پیداوار بڑھانے کا اعلان کیا ہے لیکن عالمی منڈی میں اس وقت تیل کی مصنوعات کی ڈیمانڈ اتنی زیادہ ہے کہ قیمتیں کم ہونے کا زیادہ امکان نہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||