BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 01 September, 2005, 00:00 GMT 05:00 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’امریکی تاریخ: بد ترین قدرتی آفت‘
صدر بش
صدر بش نے سمندری طوفان سے تباہی کا فضائی جائزہ لیا
امریکہ کے صدر جارج ڈبلیو بش نے جنوبی ساحلی ریاستوں میں سمندری طوفان قطرینہ سے ہونے والی تباہی کو امریکی تاریخ کی ایک بد ترین قدرتی آفت قرار دیا ہے۔

صدر بش نے سمندری طوفان کا فضائی جائزہ لینے کے بعد وائٹ ہاؤس میں خطاب کر رہے تھے۔ انہوں نے عوام کو خبردار کیا ہے کہ بحالی کے کام میں کئی برس کا عرصہ لگ سکتا ہے۔

وائٹ ہاؤس میں ایک اخباری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے صدر بش نے کہا کہ کابینہ کی سطح پر قائم کردہ ٹاسک فورس بحالی کے کام میں مدد دے گی اور پینے کے پانی سمیت روزمرہ استعمال کی ضروری اشیا سے بھرے سترہ سو ٹرک پہلے ہی متاثرہ علاقوں میں پہنچا دیئے گئے ہیں۔

سمندری طوفان سے ہونے والی اس تباہی سے نمٹنے کے لیے صدر بش نے حکومت کی تین ترجیحات کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ ’ہماری پہلی ترجیح جانوں کو بچانا ہے کیونکہ نیو آرلینز کے متاثرہ علاقے میں ابھی بھی لوگ پھنسے ہوئے ہیں‘۔

دوسری ترجیح متاثرہ افراد کو خوراک، پانی، طبی امداد اور سر چھپانے کی جگہ فراہم کرنا ہے جبکہ تیسری ترجیح بنیادی ڈھانچے کو پہنچنے والے نقصان کی تلافی ہے۔ جس میں ان کے بقول سڑکوں اور پُلوں کی مرمت اور ذرائع نقل و حمل کی بحالی شامل ہے۔

ادھر نیو آرلینز کے میئر رے نیگن نے کہا ہے کہ پیر کو آنے والے طوفان سےہلاک ہونے والوں کی تعداد ہزاروں میں ہو سکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ سیلاب زدہ شہر میں ابھی بڑی تعداد میں لاشیں پانی میں تیر رہی ہیں اور ’ممکن ہے کہ بہت سے لوگ اپنے گھروں میں ہی ہلاک ہو گئے ہوں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد