BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 31 August, 2005, 14:33 GMT 19:33 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
امریکہ: لوگوں کو بچانے کی جنگ
طوفان
امریکی ریڈ کراس کی ہزاروں رضاکار امدادی ٹیمیں ان علاقوں میں مصروف عمل ہیں
امریکہ کی جنوبی ساحلی ریاستوں میں ہنگامی امداد فراہم کرنےوالی ٹیمیں سمندری طوفان میں گھرے لوگوں تک امداد پہنچانے کی جسےجنگ میں مصروف ہیں۔

مسیسپی، الاباما اور لوئزیانا کے کئی ساحلی علاقوں میں شدید تباہی میں سینکڑوں افراد کے ہلاک ہوجانے کا خدشہ ہے۔

لوئزیاناشہر کےمئیر نے بتایا کہ امدادی کارکن لاشوں کو پانی سے باہر نکال نہیں پائے ہیں بلکہ وہ صرف انہیں ہٹا کر آگے بڑھنے میں مصروف ہیں۔

حکام نیوآرلینز کے ایک فٹ بال سٹیڈیم میں پناہ لیے ہوئے بیس ہزار زائد لوگوں کو وہاں سے نکالنے کا منصوبہ بنا رہے ہیں کیونکہ اس سٹیڈیم میں بجلی موجود نہیں اور اس کے بیت الخلاء بھر گئے ہیں۔

لوئزیانا کے گورنر کیتھلین بلینکو کا کہنا ہے کہ یہ بہت ہی بدتر صورت حال ہے۔

قطرینہ
امریکی فوج نےاس پشتے سے پانی کے بہاؤ کو روکنے کے لیے فضا سے مٹی سے بھری بوریاں پھینکنا شروع کردی ہیں۔

شہر کا اسی فیصد علاقہ زیر آب ہے اور پانی میں بہتی ہوئی لاشیں دیکھی جا سکتی ہیں۔

ریاست لوئزیانا کے شہر نیو آرلینز میں حفاظتی پشتے ٹوٹ جانے کے بعد شہر میں مزید پانی بھرنا شروع ہو گیا تھا۔ امریکی فوج نےاس پشتے سے پانی کے بہاؤ کو روکنے کے لیے فضا سے مٹی سے بھری بوریاں پھینکنا شروع کردی ہیں۔

نیو آرلینز کےگورنر کا کہنا ہے کہ شہر اسی فیصد پانی میں ڈوبا ہوا ہے۔ کہیں کہیں تو پانی چھ فٹ تک کھڑا ہے۔

انہوں نے خبردار کیا کہ پانی کی سطح اس سے بلند بھی ہو سکتی ہے۔

شہر کے کچھ حصے جو بالکل خشک تھے اب وہاں بھی نو سے دس فٹ تک پانی دیکھا جا سکتا ہے۔

طوفان سے اموات
 مسیسپی میں صورت حال انتہائی خراب ہے۔ ریاست کے ایک اہلکار کا کہنا ہے کہ ساحل کے ساتھ سینکڑوں لاشیں دیکھی جا سکتی ہیں۔

امریکی فوج کے انجینئروں کا کہنا ہے کہ شہر سے پانی کو نکالنے میں ایک ماہ لگ سکتا ہے۔

سرکاری امدادی ادارے نے لوگوں سے درخواست کی ہے کہ وہ پانی میں ڈوبے اپنے گھروں کو واپس نہ جائیں۔

مسیسپی میں صورت حال انتہائی خراب ہے۔ ریاست کے ایک اہلکار کا کہنا ہے کہ ساحل کے ساتھ سینکڑوں لاشیں دیکھی جا سکتی ہیں۔ مسیسپی کے ساحلی قصبے بلاکسی اور گلف پورٹ طوفان سے سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔

امریکی ریڈ کراس کی ہزاروں رضاکار امدادی ٹیمیں ان علاقوں میں مصروف عمل ہیں۔

اس طوفان سےاربوں ڈالر مالیت کی املاک کو نقصان بھی پہنچا ہے۔ اس طوفان کے بعد سے تیل کی قیمت اب ستر ڈالرز فی بیرل سے تجاوز کر گئی ہے۔

اس طوفان کی وجہ سے خلیج میکسیکو کی تیل کی تنصیبات بند کر دی گئی ہیں۔ اور اب خدشہ ہے کہ تیل کی قیمت جو ابھی ستر ڈالر فی بیرل ہے، سو ڈالر فی بیرل تک نہ جا پہنچے۔

قطرینہ
ساحلی علاقے نو سے دس فٹ پانی میں ڈوبے ہوئے ہیں

امریکی صدر جارج بش اپنی چھٹیوں کو منسوخ کر کے دارالحکومت واشنگٹن پہنچ رہے ہیں اور انہوں نے اپنے عوام سے امدادی رقم کے لیے اپیل کی ہے۔

طوفان کے بعد اب متاثرہ علاقوں سے لوٹ مار کی بھی اطلاعات آرہی ہیں لیکن زیادہ تر لوگ اپنے کھانے پینے کی اشیاء کی تلاش میں ہیں۔

مسیسپی کے گورنر ہیلی باربر نے نیم فوجی دستوں کو حکم جاری کردیا ہے کہ جوشخص بھی لوٹ مار کرتا نظر آئے اسے موقع پر ہی گولی مار دی جائے۔ کئی علاقوں میں لوٹ مار سے نمٹنے کیلئے مارشل لا نافذ کردیا گیا ہے۔

ادھر ریاست لوئیزیانا کے شہر نیو آرلینز میں حفاظتی پشتے ٹوٹ جانے کے بعد شہر میں مزید پانی بھرنا شروع ہو گیا ہے۔ امریکی فوج نے اس پشتے سے پانی کے بہاؤ کو روکنے کے لئے فضا سے مٹی سے بھری بوریاں پھینکنا شروع کردی ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد