BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 29 August, 2005, 17:21 GMT 22:21 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
امریکہ: پچاس افراد کی ہلاکت کی اطلاع
نیو آرلینز چھوڑنے والے شہریوں کی گاڑیاں
تین سو کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلنے والی ہواؤں کے باعثٰ گاڑیاں دور دور جا گریں۔
امریکہ کی تاریخ کے شدید ترین سمندری طوفان ’ کترینا‘ سے پچاس افراد کے ہلاک ہونے کی اطلاع ہے اور اربوں ڈالر مالیت کی املاک کو نقصان پہنچا ہے۔

مسیسی پی کی ایک کاونٹی میں حکام نے امریکی خبر رساں ادارے اے پی کو پچاس افراد کے ہلاک ہونے کی اطلاع دی۔

سمندری طوفان نے ملک کے جنوبی ساحل پر تباہی مچا دی ہے۔ خاص طور پر نیو آرلینز میں شدید تباہی ہوئی ہے جہاں نشیبی حصوں میں چھ فٹ تک پانی کھڑا ہے۔

بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ ساحلی شہر نیواورلیانز میں بجلی کے کھمبے اور درخت اکھڑ گئے ہیں اور دکانیں تباہ ہو گئی ہیں۔

تین سو کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلنے والی ہواؤں کے باعثٰ گاڑیاں دور دور جا گریں۔

News image
نیو آرلینز کی سڑکیں زیر آب آگئیں

اسی فیصد لوگ شہر چھوڑ چکے ہیں۔ باقیوں نے جس عمارت میں پناہ لے رکھی تھی اس کی چھت کے کئی حصے بھی اڑ گئے ہیں۔

اس طوفان کی وجہ سے خلیج میکسیکو کی تیل کی تنصیبات بند کر دی گئی ہیں۔ اور عالمی منڈی میں تیل کی قیمت بڑھ گئی ہے۔ ڈر ہے کہ یہ قیمت جو ابھی ستر ڈالر فی بیرل ہے، سو ڈالر فی بیرل تک نہ جا پہنچے۔

ایک روز پہلے شہر کو خالی کرانے کا عمل
اس طوفان سے ریاست فلوریڈا میں پہلے ہی نو افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

امریکی صدر جارج بش نے ریاست لویزیانا کے علاوہ اس کی پڑوسی ریاست مسیسپی میں ہنگامی حالت نافذ کر دی ہے تاکہ زیادہ تباہی کی صورت میں یہاں وفاقی امداد جلد از جلد پہنچائی جا سکے۔

نیو آرلینز
شہر میں دس ہنگامی شیلٹر بھی قائم کر دیے گئے ہیں

نیو اورلیانز کے مئیر نے بتایا ہے کہ چونکہ یہ شہر سمندر کے سطح سے تقریباً چھ فٹ نیچے واقع ہے یہاں سب سے بڑا خدشہ اس کے سیلاب زدہ ہو جانے کا ہے۔

نیواورلیانز جنوب مشرقی ریاست لویزیانا کا اہم شہر ہے اور یہاں تقریباً پانچ لاکھ لوگ رہتے ہیں۔ شہر خالی کرانے کے احکامات کے بعد شہر سے باہر جانے والی شاہراہوں پر ٹریفک کی لمبی قطاریں لگ گئیں۔

بہت سے شہریوں نے جانے سے قبل اپنے گھروں اور دکانوں کو محفوظ رکھنے کی کوشش میں ان کو تختے لگا کر بند کر دیا۔

حکام نے شہر کے ان لوگوں کے لیے دس ہنگامی شیلٹر یعنی پناہ گاہیں بنائی ہیں جو شہر چھوڑنے میں کامیاب نہیں ہو سکے۔

66زمین کی گردش
زمین کے اندرونی حصے کی گردش زیادہ تیز ہے
اسی بارے میں
بیرونی لِنک
بی بی سی دیگر سائٹوں پر شائع شدہ مواد کی ذمہ دار نہیں ہے
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد