زمین: باہر سے اندر کی گردش تیز | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی سائنسدانوں نےاس دعویٰ کی تصدیق کی ہےکہ زمین کا اندرونی حصہ اس کی بیرونی پرتوں کی نسبت زیادہ تیزی سے گردش کر رہا ہے۔ سائنسدانوں کی ٹیم نے زمین کی اس گردش کا موازنہ مختلف اوقات میں ایک ہی جگہ آنےوالے زلزلوں سے پیدا ہونے والی لہروں سے کیا۔ ان کا کہنا ہے کہ زلزلے سے پیدا ہونے والی یہ لہریں زمین کےاندرونی حصے سے گزریں۔ زمین کےمرکز سےحاصل ہونے والے نتائج سے اس بات کا پتہ چلا کہ اندرونی حصہ اس کے باقی حصوں کی نسبت صفر اعشاریہ صفر صفر نو سیکنڈز فی سال کی تیزی سے گردش کر رہا ہے۔ زمین کی اندرونی ٹھوس سطح لوہے اور دیگر دھاتوں سے مل کر بنی ہے اور اس کا قطر دوہزار چار سو کلو میٹر ہے جس کے گرد ایک محلول بیرونی پرت ہے جس کا قطر سات ہزار کلو میٹر کے برابر ہے۔ امریکی سائنسدانوں زیوڈونگ سونگ اور پال رچرڈ نےانیس سو چھیانوے میں پہلی مرتبہ جب اس بات کا انکشاف کیا تھا کہ زمین کے بیرونی حصے کے مقابلے میں اندرونی حصہ زیادہ تیزی سے گردش کرتا ہے تو دوسرے سائنسدان اس بات کو ماننے کو تیار نہیں تھے۔ سونگ، رچرڈ اور ان کے ساتھیوں نے ان لہروں کی پیمائش جنوبی بحرِاوقیانوس میں آنے والے کم طاقتور زلزلوں کی ان لہروں کو ریکاڑڈ کر کے کیں جو زمین کی پرت سے گزر کر السکا میں قائم زلزلہ پیما مرکز تک پہنچیں۔
بی بی سی کے ایک پروگرام میں پال نے بتایا کہ زمین کی اندرونی سطح بیرونی پرتوں کی نسبت ایک دن میں ایک یا ایک سے زائد بار یا گردش کرتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ زمین کا اندرونی حصہ ہر سال صفر اعشاریہ تین ڈگری سے صفر اعشاریہ پانچ ڈگری تک حرکت کرتا ہے اور اس کا مطلب یہ ہے کہ اندرونی پرت نو سو سال میں باقی سیارے کے گرد ایک چکر پورا کرتی ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||