سیارہ زہرہ، زمین اورسورج کے بیچ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
منگل کے روز سیارہ زہرہ کا سورج کے سامنے سے غیر معمولی گزر ہوگا۔ زہرہ کایہ گزر ایک سو بائیس سالوں کے بعد ہو گا اوراس کے بہتر مشاہدے کے لئے تجزیہ نگاروں نےیورپ، ایشیا، اور افریقہ میں پوزیشنیں سنبھال لی ہیں۔ سیارہ زہرہ کا سورج کے سامنے سے گزر برطانیہ کے معیار وقت کے مطابق صبح چھ بجکر بیس منٹ پر شروع ہوا ہے اور تقریباً چھ گھنٹے تک جاری رہے گا۔ سائنسدان اس موقع کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اسی طرح کی اور دنیاؤں کی تلاش کے لئے ٹیکنالوجیز کو بروئےکار لائیں گے جو سینکڑوں نوری سال دور ہیں ۔ سیارہ زہرہ سورج کے سامنے ایک کالی ڈسک کی شکل میں نظر آئے گا لیکن کسی کو بھی اسے ننگی آنکھ سے نہیں دیکھنا چاہیے۔ ننگی آنکھ سے سورج کی طرف دیکھنے یا کھلی دور بین سے اس کا مشاہدہ کرنے سے بینائی جانے کا خدشہ ہے۔ لوگوں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ زہرہ کے مشاہدے کے لئے ایسی جگہ پر جائیں جہاں اس مقصد کے لئے خصوصی سکرینیں نصب کی گئی ہیں یامختلف اداروں کی ویب سائٹس پر تصاویر دیکھیں۔ برطانیہ کے لوگوں کے لئے یہ طریقہ خاص طور پرمناسب ہوگا اس لئے کہ وہاں اکثر بادل چھائے رہتے ہیں۔ لیکن یہ ایسا واقعہ ہے جس کا مشاہدہ کسی نہ کسی شکل میں ضروری ہے۔ یونیورسٹی آف سینٹرل لنکاشائر کے سینٹرفار آسٹروفزکس کے سربراہ پروفیسرگورڈن برومیج کےمطابق’آٹھ جون کو ایک حیرت انگیز واقعہ ہونے والا ہے جس کا مشاہدہ اور تجربہ ساری دنیا کرے گی۔‘ دوربین کے زمانے میں اس طرح کے گزر 1631 ، 1882 ، 1874 ،1769 ،1761 ،1639 میں بھی ہوئے تھے۔ زہرہ کاسورج کے سامنے سے آئندہ گزر 2012 میں ہوگا۔ اس طرح کے عمل تاریخی اہمیت کے حامل ہیں۔ سترویں اور اٹھارویں صدی میں ماہرین ِفلکیات نےان واقعات سے شمسی نظام کے بارے میں بنیادی حقائق اکھٹے کئے تھے۔انہی کی وجہ سےسورج اور زمین کے درمیان فاصلے کا تعین ممکن ہوا۔ سیارہ زہرہ کے اس عبور کے بارے میں سب سے پہلے جس شخص نے6 دسمبر 1631 میں پیشن گوئی کی وہ جوہانس کیپلر تھا لیکن وہ یہ دن دیکھنے سے پہلے ہی وفات پا گیا۔ 1761 اور 1769 تک سیارہ زہرہ کی گردش کے حوالے سے یہ واقعات کافی اہمیت حاصل کر چکے تھے اور اس کے بارے میں معلومات اکھٹی کرنے کی غرض سے مہمیں ساری دنیامیں بھجوائی گئیں۔اسی طرح کا ایک سفر کیپٹن جیمس کُک نے کیا جو اسے آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ لے گیا۔ جدید دور میں خلائی جہاز سیارہ زہرہ کے پیچھے سے گزرتے ہوئے ریڈیائی لہروں کی مددسے سیاروں کے بارے میں معلومات فراہم کرتے ہیں۔ اس کاہرگز یہ مطلب نہیں کہ منگل کا واقعہ سائنسدانوں کی دلچسپی کا باعث نہیں ہوگا۔ سیارہ زہرہ کے سورج کے سامنے آنے سے زمین کی روشنی میں ہلکی سی کمی آئے گی۔ سائنسدان اس کمی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے دوربینوں کے ذریعے دور دراز کےستاروں پر زمین جیسے سیاروں کو تلاش کریں گے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||