زمین کا نیا ہمسایہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ماہرین فلکیات نے ایک نئی دنیا کا پتا چلایا ہے جو ہمارے نظام شمسی کے باقی سیاروں سے بہت دور سورج کے گرد چکر کاٹ رہی ہے۔ حال ہی میں چھوڑی جانے والی خلائی دوربین سپٹزر نے نظام شمسی کے باہر کیے جانے والے ایک سروے میں یہ سیارہ دریافت کیا ہے۔ اس کا نام سیڈنا رکھا گیا ہے جو شمالی امریکہ کے قدیم قبیلے انیوٹ کی زبان میں سمندروں کی دیوی کا نام ہے۔ یہ سروے کیلیفورنیا انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کر رہی ہے۔ ہبل دوربین بھی اس سیارے کو فوکس کرنے میں کامیاب رہی ہے اور اس کی تفصیل خلائی تحقیق کا امریکی ادارہ ناسا دو ایک روز میں جاری کرنے والا ہے۔ ابتدائی اندازوں کے مطابق سیڈنا زمین سے دس ارب کلومیٹر دور ہے اور اس کی موٹائی دو ہزار کلو میٹر ہے۔ انیس سو تیس میں دریافت ہونے والا پلوٹو، جو نو سیاروں میں سب سے بڑا اور سب سے دور ہے، اس کی موٹائی دو ہزار دو سو پچاس کلو میٹر ہے۔ کچھ ماہرین سمجھتے ہیں کہ جب سیڈنا کی پیمائش سائنسی طریقے سے کی جائے گی تو ممکن ہے یہ پلوٹو سے بڑا نکلے۔ تاہم اس دریافت سے یہ بحث دوبارہ سے چھڑ جانے کا امکان ہے کہ سیارہ اصل میں ہے کیا؟ ماہرین کا ایک گروہ پلوٹو کو بھی سیارہ نہیں مانتا بلکہ سورج کے گرد گھومنے والی پتھر اور برف کی بےشمار دنیاؤں میں سب سے بڑی ’چیز‘۔ دوسرا گروہ پلوٹو کو زمین اور مریخ کی طرح ایک سیارہ سمجھتا ہے اور ان کے نزدیک سیڈنا ہمارے نظام شمسی کا دسواں سیارہ ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||