کائنات کا سب سے کم عمر سیارہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
فلکیات کے ماہرین کو ایک ایسے سیارے کا پتہ چلا ہے جس کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ وہ شاید کائنات کا سب سے کم عمر سیارہ ہو سکتا ہے۔ ناسا کی دوربین سے نظر آنے والا یہ سیارہ جس کا نام کوکوٹا فور رکھا گیا ہے، متعد ستاروں کے اس جھرمٹ میں نظر آیا جہاں پانچ نسبتاً بڑے ستارے تھے اور جسے ثور کہہ کہ پکارا جاتا ہے۔ اس سیارے کا زمین سے فاصلہ چار سو بیس نوری سال ہے۔ ماہرین کہتے ہیں کہ ان پانچ ستاروں میں سے ہر ایک کے گِرد ڈسکس تھیں جن پر گرد و غبار کا گمان ہوتا تھا۔ غالب امکان یہی ہے کہ ان ڈسکس میں نئے سیارے ہیں۔ ناسا نے اجرامِ فلکی کے مشاہدے اور ان کی تلاش کا منصوبہ گزشتہ برس اگست میں شروع کیا تھا جس کی لاگت دو ارب ڈالر تھی اور تازہ ترین دریافت سے ادارہ بہت خوش ہے۔ ناسا کی دوربین سیارگان کے حجم کے مساوی اجرام براہِ راست نہیں دیکھ سکتی لیکن اس کے انفرا ریڈ ڈیٹیکٹرز فضا میں موجود گرد آلود بادلوں کو چیر کر ان ستاروں تک پہنچ سکتے ہیں جنہیں کائنات کی وسعتوں میں وجود ملے ہوئے زیادہ عرصہ نہیں ہوا اور جہاں سیارے بن رہے ہیں۔ دوربین سپٹزر کو ایسے برفانی مواد کا علم بھی ہوا ہے جو اس زون میں بکھرا ہوا ہے جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہاں سیارے تخلیق ہوتے ہیں۔ اس مواد سے جو گرد کے برفانی ذرات پر مشتمل ہے اور جس پر مینتھول اور کاربن ڈائی اوکسائڈ کی کوٹنگ ہے، خلا میں موجود برفانی اجسام کی اصل کا پتہ چل سکتا ہے۔ کوکوٹا فور کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس کو بنے ہوئے زیادہ عرصہ نہیں ہوا یعنی محض دس لاکھ سال، لہذٰا یہ سیارہ غالباً سب سے کم عمر ہوگا۔ خیال ہے کہ یہ سیارہ اپنی تخلیق کے ابتدائی مراحل میں ہے اور اس کے بارے میں معلومات ملنے سے ماہرینِ فلکیات کو دیگر کواکب کو سمجھنے میں مدد ملے گی جن میں زمین بھی شامل ہے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||