| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
زمین گردش میں آگئی
ماحولیات کے ماہرین کے مطابق زمین اپنی تاریخ کے نئے دور میں داخل ہو رہی ہے جہاں اس کے ماحول پر اثر انداز ہونے والی طاقتور ترین چیز انسان ہوگا۔ بین الاقوامی جریدے ’انٹرنیشنل ہیرلڈ ٹریبیوں‘ میں شائع ہونے والے ایک مضمون کے مطابق زمین پر تبدیلیاں اتنی تیزی سے اور اتنے وسیع پیمانے پر آرہی ہیں جن کی اس سے پہلے مثال نہیں ملتی اور جن کا اندازہ لگانا بھی مشکل ہے۔ یورپ میں ماحولیات کےکمشنر مارگوٹ والسٹورم کا کہنا ہے زمین پر ہونے والی ممکنہ تبدیلیوں کے بارے میں اندازہ نہ لگا سکنے کا یہ مطلب نہیں کہ ان کے بارے میں کچھ کیا نہیں جانا چاہیے۔ ماہرین کے مطابق انسانیت انجانے میں وہ حدود پار کر سکتی ہے جس سے شروع ہونے والے تبدیلی کے عمل کو روکنا ناممکن ہوگا۔ جریدے میں شائع ہونے والے مضمون کے چار مصنفین میں ماحولیاتی تبدیلی کے بارے میں بین الحکومتی پینل کے بانی پروفیسر برٹ بولن، کیمسٹری کے مضمون میں نوبل انعام یافتہ پروفیسر پال کرٹزن اور انٹرنیشنل جیو سفئیر بائو سفئیر پروگرام کے منتظم ڈاکنر ول سٹیفن شامل ہیں۔ انہوں نے مضمون میں لکھا ہے کہ ’ہمارے سیارے میں تیزی سے تبدیلیاں آ رہی ہیں، تبدیلیاں زندگی کا حصہ ہیں لیکن گزشتہ کچھ دہائیوں میں آنے والی تبدیلیاں گزشتہ پانچ لاکھ سالوں میں رونما ہونے والی تبدیلیوں سے زیادہ ہیں‘۔ انہوں نے کہا کہ ’پریشانی کی بات انسانی عمل سے آنے والی تبدیلی کی رفتار اور وسعت ہے‘۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ انسانی عمل کے نیتجے میں فضا میں کاربن ڈائی آکسائڈ کی مقدار میں اضافہ گزشتہ پانچ لاکھ سال میں ہونے والی قدرتی تبدیلی کی رفتار سے دس گنا زیادہ تھا۔ ڈاکٹر سٹیفن کا کہنا تھا کہ ’گرین لینڈ لی برف کو پگھلنے میں ایک ہزار سال لگ سکتے ہیں لیکن ہم آئندہ صدی میں اس نکتے پر پہنچ سکتے ہیں جس کے بعد برف کا پگھلنا ناگزیر ہو جائے گا‘۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||