امریکہ:’شاید ہزاروں ہلاک ہوئے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ کی جنوبی ساحلی ریاستوں میں ہنگامی امداد فراہم کرنےوالی ٹیمیں سمندری طوفان میں گھرے لوگوں تک امداد پہنچانے کی جنگ میں مصروف ہیں۔ دریں اثناء نیو آرلینز کے میئر رے نیگن نے کہا ہے کہ پیر کو آنے والے طوفان سے ’سینکڑوں یا شاید ہزاروں‘ افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ نیگن نے کہا کہ سیلاب زدہ شہر میں بڑی تعداد میں لاشیں پانی میں تیر رہی ہیں اور ’ممکن ہے کہ بہت سے لوگ اپنے گھروں میں ہلاک ہو گئے ہوں‘۔ طوفان کے دو روز بعد متاثرہ علاقوں کو لوٹ مار اور سیلاب کا سامنا ہے اور وہاں لوگوں کی پریشانی میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ریاست میں حکام کا کہنا ہے کہ ہلاک ہونے والوں کی گنتی سے پہلے زندہ بچ جانے والوں کو محفوظ مقامات پر پہنچایا جائے گا۔ میئر کا کہنا تھا کہ لوگوں کو اپنے گھروں میں واپس جانے میں کم سے کم چار سال لگ سکتے ہیں۔ حکام نیوآرلینز کے ایک فٹ بال سٹیڈیم میں پناہ لیے ہوئے بیس ہزار زائد لوگوں کو وہاں سے نکالنے کا منصوبہ بنا رہے ہیں کیونکہ اس سٹیڈیم میں بجلی موجود نہیں اور اس کے بیت الخلاء بھر گئے ہیں۔ لوئزیانا کے گورنر کیتھلین بلینکو کا کہنا ہے کہ یہ بہت ہی بدتر صورت حال ہے۔
شہر کا اسی فیصد علاقہ زیر آب ہے اور پانی میں بہتی ہوئی لاشیں دیکھی جا سکتی ہیں۔ ریاست لوئزیانا کے شہر نیو آرلینز میں حفاظتی پشتے ٹوٹ جانے کے بعد شہر میں مزید پانی بھرنا شروع ہو گیا تھا۔ امریکی فوج نےاس پشتے سے پانی کے بہاؤ کو روکنے کے لیے فضا سے مٹی سے بھری بوریاں پھینکنا شروع کردی ہیں۔ نیو آرلینز کےگورنر کا کہنا ہے کہ شہر اسی فیصد پانی میں ڈوبا ہوا ہے۔ کہیں کہیں تو پانی چھ فٹ تک کھڑا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ پانی کی سطح اس سے بلند بھی ہو سکتی ہے۔ شہر کے کچھ حصے جو بالکل خشک تھے اب وہاں بھی نو سے دس فٹ تک پانی دیکھا جا سکتا ہے۔
امریکی فوج کے انجینئروں کا کہنا ہے کہ شہر سے پانی کو نکالنے میں ایک ماہ لگ سکتا ہے۔ سرکاری امدادی ادارے نے لوگوں سے درخواست کی ہے کہ وہ پانی میں ڈوبے اپنے گھروں کو واپس نہ جائیں۔ مسیسپی میں صورت حال انتہائی خراب ہے۔ ریاست کے ایک اہلکار کا کہنا ہے کہ ساحل کے ساتھ سینکڑوں لاشیں دیکھی جا سکتی ہیں۔ مسیسپی کے ساحلی قصبے بلاکسی اور گلف پورٹ طوفان سے سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔ امریکی ریڈ کراس کی ہزاروں رضاکار امدادی ٹیمیں ان علاقوں میں مصروف عمل ہیں۔ اس طوفان سےاربوں ڈالر مالیت کی املاک کو نقصان بھی پہنچا ہے۔ اس طوفان کے بعد سے تیل کی قیمت اب ستر ڈالرز فی بیرل سے تجاوز کر گئی ہے۔ اس طوفان کی وجہ سے خلیج میکسیکو کی تیل کی تنصیبات بند کر دی گئی ہیں۔ اور اب خدشہ ہے کہ تیل کی قیمت جو ابھی ستر ڈالر فی بیرل ہے، سو ڈالر فی بیرل تک نہ جا پہنچے۔
طوفان کے بعد اب متاثرہ علاقوں سے لوٹ مار کی بھی اطلاعات آرہی ہیں لیکن زیادہ تر لوگ اپنے کھانے پینے کی اشیاء کی تلاش میں ہیں۔ مسیسپی کے گورنر ہیلی باربر نے نیم فوجی دستوں کو حکم جاری کردیا ہے کہ جوشخص بھی لوٹ مار کرتا نظر آئے اسے موقع پر ہی گولی مار دی جائے۔ کئی علاقوں میں لوٹ مار سے نمٹنے کیلئے مارشل لا نافذ کردیا گیا ہے۔ ادھر ریاست لوئیزیانا کے شہر نیو آرلینز میں حفاظتی پشتے ٹوٹ جانے کے بعد شہر میں مزید پانی بھرنا شروع ہو گیا ہے۔ امریکی فوج نے اس پشتے سے پانی کے بہاؤ کو روکنے کے لئے فضا سے مٹی سے بھری بوریاں پھینکنا شروع کردی ہیں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||