BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 02 September, 2005, 07:17 GMT 12:17 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
متاثرہ لوگوں کےلئے مدد کی اپیل
نیو آرلینز میں لوٹ کا سامان لیجاتے ہوئے ایک شخص
لاقانونیت پر قابو پانے کے لئے ہی نیشنل گارڈز کی تعیناتی کا اعلان کیا گیا ہے
نیو آرلینز کے میئر رے نیگن نے سیلاب میں پھنسے ہزاروں لوگوں کے لئے فوری مدد کی اپیل کی ہے۔

شہر کے کنوینشن سینٹر میں تقریباً 25000 افراد نے پناہ لے رکھی ہے جبکہ دیگر ہزاروں افراد سیلاب سے بچنے کی جدو جہد کر رہے ہیں ۔

شہری امن و امان بحال کرنے اور اور لوٹ مار کرنے والوں کو دیکھتے ہی گولی مارنے کی پالیسی پر عمل کرنے کے لئے عراق سے 300 نیشنل گارڈز بلائے گئے ہیں۔

صدر بش متاثرہ علاقوں کا دورہ کرنے والے ہیں انہوں نے کانگریس سے دس عشاریہ پانچ بلین ڈالر کے فنڈز مہیا کرانے کی اپیل کی ہے۔

توقع ہے کہ آنے والے ہفتوں میں امدادی کاموں کے لئے کانگریس اس امدادی رقم کی منظوری دینے والی ہے۔

سیلاب سے متاثرہ ریاستوں میں لوٹ مار اور تشدد کی وجہ سے امدادی کارروائیاں متاثر ہو رہی ہیں۔ پولیس اور سرکاری اہلکار لوٹ مار کی وجہ سے امدادی کارروائیوں کی طرف توجہ نہیں دے پا رہے۔

نیو آرلینز میں بڑھتی ہوئی لاقانونیت پر قابو پانے کے لئے ہی نیشنل گارڈز کی تعیناتی کا اعلان کیا گیا ہے بتایا جاتا ہے کہ شہر کی سمت بڑھنے والوں کے پاس خطرناک ہتھیار ہیں اور وہ ان ہتھیاروں کا استعمال کرنے کے لئے تیار ہیں۔

نیو آرلینز کے میئر رے نیگن کہہ چکے ہیں کہ پیر کو آنے والے طوفان سےہلاک ہونے والوں کی تعداد ہزاروں میں ہو سکتی ہے۔

اس سے قبل امریکی ریاست لوئزیانا میں فٹبال سٹیڈیم سے ایک امدادی ہیلی کاپٹر پر فائرنگ کے بعد لوگوں کے انخلاء کا کام عارضی طور پر روک دیا گیا تھا۔

لوئزیانا کی ایمبولنس سروس کے ترجمان نے بتایا تھا کہ نیو آرلینز کے سٹیڈیم یا سپرڈروم میں عارضی طور پر قیام پذیر ہزاروں لوگ سہولیات کی کمی سے سخت بیزار ہو چکے ہیں اور بے قابو ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا تھا کہ ایسی صورتحال میں امدادی کارکنوں کا وہاں جانا محفوظ نہیں۔

ترجمان نے بتایا کہ ایک گارڈ کو گولی لگی تھی جو اب خطرے سے باہر ہے۔

بدھ کو امریکہ کے صدر جارج ڈبلیو بش نے جنوبی ساحلی ریاستوں میں سمندری طوفان قطرینہ سے ہونے والی تباہی کو امریکی تاریخ کی ایک بد ترین قدرتی آفت قرار دیا تھا۔

انہوں نے سمندری طوفان سے متاثرہ علاقے کا فضائی جائزہ لینے کے بعد عوام کو خبردار کیا ہے کہ بحالی کے کام میں کئی برس کا عرصہ لگ سکتا ہے۔

سمندری طوفان سے ہونے والی اس تباہی سے نمٹنے کے لیے صدر بش نے حکومت کی تین ترجیحات کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ ’ہماری پہلی ترجیح جانوں کو بچانا ہے کیونکہ نیو آرلینز کے متاثرہ علاقے میں ابھی بھی لوگ پھنسے ہوئے ہیں‘۔

دوسری ترجیح متاثرہ افراد کو خوراک، پانی، طبی امداد اور سر چھپانے کی جگہ فراہم کرنا ہے جبکہ تیسری ترجیح بنیادی ڈھانچے کو پہنچنے والے نقصان کی تلافی ہے۔ جس میں ان کے بقول سڑکوں اور پُلوں کی مرمت اور ذرائع نقل و حمل کی بحالی شامل ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد