لوٹ مار، امدادی کارروائی متاثر | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ کی سیلاب سے متاثرہ ریاستوں میں لوٹ مار اور تشدد کی وجہ سے امدادی کارروائیاں متاثر ہو رہی ہیں۔ پولیس اور سرکاری اہلکار لوٹ مار کی وجہ سے امدادی کارروائیوں کی طرف توجہ نہیں دے پا رہے۔ نیو آرلینز کے میئر رے نیگن کہہ چکے ہیں کہ پیر کو آنے والے طوفان سےہلاک ہونے والوں کی تعداد ہزاروں میں ہو سکتی ہے۔ اس سے قبل امریکی ریاست لوئزیانا میں فٹبال سٹیڈیم سے ایک امدادی ہیلی کاپٹر پر فائرنگ کے بعد لوگوں کے انخلاء کا کام عارضی طور پر روک دیا گیا تھا۔ لوئزیانا کی ایمبولنس سروس کے ترجمان نے بتایا تھا کہ نیو آرلینز کے سٹیڈیم یا سپرڈروم میں عارضی طور پر قیام پذیر ہزاروں لوگ سہولیات کی کمی سے سخت بیزار ہو چکے ہیں اور بے قابو ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا تھا کہ ایسی صورتحال میں امدادی کارکنوں کا وہاں جانا محفوظ نہیں۔ ترجمان نے بتایا کہ ایک گارڈ کو گولی لگی تھی جو اب خطرے سے باہر ہے۔ بدھ کو امریکہ کے صدر جارج ڈبلیو بش نے جنوبی ساحلی ریاستوں میں سمندری طوفان قطرینہ سے ہونے والی تباہی کو امریکی تاریخ کی ایک بد ترین قدرتی آفت قرار دیا تھا۔ انہوں نے سمندری طوفان سے متاثرہ علاقے کا فضائی جائزہ لینے کے بعد عوام کو خبردار کیا ہے کہ بحالی کے کام میں کئی برس کا عرصہ لگ سکتا ہے۔ سمندری طوفان سے ہونے والی اس تباہی سے نمٹنے کے لیے صدر بش نے حکومت کی تین ترجیحات کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ ’ہماری پہلی ترجیح جانوں کو بچانا ہے کیونکہ نیو آرلینز کے متاثرہ علاقے میں ابھی بھی لوگ پھنسے ہوئے ہیں‘۔ دوسری ترجیح متاثرہ افراد کو خوراک، پانی، طبی امداد اور سر چھپانے کی جگہ فراہم کرنا ہے جبکہ تیسری ترجیح بنیادی ڈھانچے کو پہنچنے والے نقصان کی تلافی ہے۔ جس میں ان کے بقول سڑکوں اور پُلوں کی مرمت اور ذرائع نقل و حمل کی بحالی شامل ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||