افلاس، مایوسی اور لاقانونیت | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی ریاست لیوزیانا کے شہر نیو آرلینز میں سمندری طوفان کے نتیجے میں پھیلنے والی تباہی اور لاقانونیت کے بعد بش انتظامیہ کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے جبکہ شہر میں نیشنل گارڈز کو لوٹ مار کرنے والوں کو دیکھتے ہی گولی مارنے کے احکامات جاری کردئیے ہیں۔ تازہ اطلاعات کے مطابق نیو آرلینز سے دھماکوں کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں۔ علاقے میں جگہ جگہ آگ لگی نظر آ رہی ہے جبکہ امریکی صدر بش جمعہ کے روز ملک کے ان علاقوں کا دورہ بھی کررہے ہیں۔ نیو آرلینز کے امرجینسی آپریشن کے سربراہ نے امدادی کارروائی کو قومی شرمندگی کا باعث قرار دیا ہے۔
شہر کے کنوینشن سینٹر میں اب بھی تقریباً 25000 افراد نے پناہ لے رکھی ہے جبکہ دیگر ہزاروں افراد سیلاب سے بچنے کی جدو جہد کر رہے ہیں۔ شہری امن و امان بحال کرنے اور اور لوٹ مار کرنے والوں کو دیکھتے ہی گولی مارنے کی پالیسی پر عمل کرنے کے لئے عراق سے 300 نیشنل گارڈز بلائے گئے ہیں۔ سیلاب سے متاثرہ ریاستوں میں لوٹ مار اور تشدد کی وجہ سے امدادی کارروائیاں متاثر ہو رہی ہیں۔ پولیس اور سرکاری اہلکار لوٹ مار کی وجہ سے امدادی کارروائیوں کی طرف توجہ نہیں دے پا رہے۔ نیو آرلینز میں بڑھتی ہوئی لاقانونیت پر قابو پانے کے لئے ہی نیشنل گارڈز کی تعیناتی کا اعلان کیا گیا ہے بتایا جاتا ہے کہ شہر کی سمت بڑھنے والوں کے پاس خطرناک ہتھیار ہیں اور وہ ان ہتھیاروں کا استعمال کرنے کے لئے تیار ہیں۔ نیو آرلینز کے میئر رے نیگن کہہ چکے ہیں کہ پیر کو آنے والے طوفان سےہلاک ہونے والوں کی تعداد ہزاروں میں ہو سکتی ہے۔ امریکی سینیٹ نے امدادی کارروائیوں کے لیے ساڑھے دس بلین ڈالر مختص کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ اس سے قبل امریکی ریاست لوئزیانا میں فٹبال سٹیڈیم سے ایک امدادی ہیلی کاپٹر پر فائرنگ کے بعد لوگوں کے انخلاء کا کام عارضی طور پر روک دیا گیا تھا۔ لوئزیانا کی ایمبولنس سروس کے ترجمان نے بتایا تھا کہ نیو آرلینز کے سٹیڈیم یا سپرڈروم میں عارضی طور پر قیام پذیر ہزاروں لوگ سہولیات کی کمی سے سخت بیزار ہو چکے ہیں اور بے قابو ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا تھا کہ ایسی صورتحال میں امدادی کارکنوں کا وہاں جانا محفوظ نہیں۔ ترجمان نے بتایا کہ ایک گارڈ کو گولی لگی تھی جو اب خطرے سے باہر ہے۔ بدھ کو امریکہ کے صدر جارج ڈبلیو بش نے جنوبی ساحلی ریاستوں میں سمندری طوفان قطرینہ سے ہونے والی تباہی کو امریکی تاریخ کی ایک بد ترین قدرتی آفت قرار دیا تھا۔ انہوں نے سمندری طوفان سے متاثرہ علاقے کا فضائی جائزہ لینے کے بعد عوام کو خبردار کیا ہے کہ بحالی کے کام میں کئی برس کا عرصہ لگ سکتا ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||