ہری کین کترینہ نے تباہی مچادی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی تاریخ کے شدید ترین سمندری طوفان ہری کین کترینا ملک کے جنوبی ساحل پر تباہی مچا رہا ہے۔ بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ ساحلی شہر نیواورلیانز میں بجلی کے کھمبے اور درخت اکھڑ گئے ہیں اور دکانیں تباہ ہو گئی ہیں۔ تین سو کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چلنے والی ہواؤں کے باعثٰ گاڑیاں دور دور جا گریں۔ اسی فیصد لوگ شہر چھوڑ چکے ہیں۔ باقیوں نے جس عمارت میں پناہ لے رکھی تھی اس کی چھت کے کئی حصے بھی اڑ گئے ہیں۔ اس طوفان کی وجہ سے خلیج میکسیکو کی تیل کی تنصیبات بند کر دی گئی ہیں۔ اور عالمی منڈی میں تیل کی قیمت بڑھ گئی ہے۔ ڈر ہے کہ یہ قیمت جو ابھی ستر ڈالر فی بیرل ہے، سو ڈالر فی بیرل تک نہ جا پہنچے۔ اس طوفان سے ریاست فلوریڈا میں پہلے ہی نو افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ امریکی صدر جارج بش نے ریاست لویزیانا کے علاوہ اس کی پڑوسی ریاست مسیسپی میں ہنگامی حالت نافذ کر دی ہے تاکہ زیادہ تباہی کی صورت میں یہاں وفاقی امداد جلد از جلد پہنچائی جا سکے۔
نیو اورلیانز کے مئیر نے بتایا ہے کہ چونکہ یہ شہر سمندر کے سطح سے تقریباً چھ فٹ نیچے واقع ہے یہاں سب سے بڑا خدشہ اس کے سیلاب زدہ ہو جانے کا ہے۔ نیواورلیانز جنوب مشرقی ریاست لویزیانا کا اہم شہر ہے اور یہاں تقریباً پانچ لاکھ لوگ رہتے ہیں۔ شہر خالی کرانے کے احکامات کے بعد شہر سے باہر جانے والی شاہراہوں پر ٹریفک کی لمبی قطاریں لگ گئیں۔ بہت سے شہریوں نے جانے سے قبل اپنے گھروں اور دکانوں کو محفوظ رکھنے کی کوشش میں ان کو تختے لگا کر بند کر دیا۔ حکام نے شہر کے ان لوگوں کے لیے دس ہنگامی شیلٹر یعنی پناہ گاہیں بنائی ہیں جو شہر چھوڑنے میں کامیاب نہیں ہو سکے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||