BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 11 January, 2006, 01:54 GMT 06:54 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’بلوچستان میں قربانی‘

اکبر بگٹی
اکبر بگٹی نے مری بگٹی علاقوں میں فاسفورس بم گرانے کا الزام لگایا
مبارک ہو یہ عیدِ قربان کہ جب بلوچستان میں بلوچوں کو قربانی کے جانوروں کی طرح ذبح کیا جا رہا ہے- شر پسندی کا قلع قمع کیا جارہا ہے اور بقول فرزند راولپنڈی شیخ رشید کے ’حکومت گولی کا جواب گولی سے دے رہی ہے۔‘ بلوچستان پر بم برس رہے ہیں اور باقی ملک خواب خرگوش کے مزے لے رہا ہے- ہائے ضمیر اقوام عالم۔

لندن میں چند بلوچ نوجوانوں نے الطاف حسین کو جو تین سو پونڈ میں (اتنی مالیت کی بلوچی پگڑی، جیکٹ اور سلیم شاہی جوتی کے بدلے بلوچی چاوٹ یا چپل پہناکر) جو بلوچ بنایا انہوں نے پاکستانی صدر اور وزیر اعظم سے پچپن اور پینتالیس منٹ کی ٹیلیفون پر گفتگو کے بعد قوم کو یہ نوید سنائی کہ بلوچستان میں کوئی آپریشن نہیں ہورہا بلکہ مٹھی بھر شر پسندوں کے خلاف کاروائی ہو رہی ہے۔

کس کی بات کرہے ہو بھائی؟ یہ وہ پاکستانی اسٹیبلشمینٹ ہے جس نے قرآن بیچ میں رکھ کر معمر بلوچ رہنما نوروز خان کو پھاوڑوں سے اتروایا تھا اور بعد میں ان کے بھائيوں اور بیٹوں کو پھانسی دے دی گئی تھی۔ ‏انہی ریاستی اداروں نے اب بلوچستان میں بھی کراچی کی طرح ’حقیقی والے‘ ڈھونڈ نکالے ہیں جنہیں ‏صرف نجی چینل پر لایا جاتا ہے- ان میں سے کچھ کو ٹھٹہ میں زمینیں بھی الاٹ کی گئی ہیں- وہاں سنا ہے بلوچ رہنما عطاءاللہ مینگل کے دبئی نجی چینل پر انٹرویو کے پہلے حصے کے بعد دوسرا نشر کرنے سے روک دیا گیا-

یہ وہ پاکستانی ریاستی ادارے ہیں جنہوں نے انیس سو بانوے میں کراچی کی مہاجر بستیوں اور تراسی اور چھیاسی میں سندھی گوٹھوں کو ہندستانی آبادیاں تصور کیا ہوا تھا- وہ کہتے تھے ایک بابر نے ہندوستان فتح کیا اور دوسرے (جنرل ) بابر نے ہندستانیوں کو فتح کیا۔

بلوچستان میں بلوچوں کے خلاف جاری فوجی کاروائی کی خبروں کو اس طرح پاکستانی عوام اور دنیا کی آنکھوں اور کانوں پر لانے سے ایسے روکا جارہا ہے جیسے انیس سو اکہتر میں سابق مشرقی پاکستان میں یحییٰ خان اور اسکے فوجی ٹولے کے احکامات پر بنگالیوں کی نسل کشی کی خبروں کو روکا گیا تھا- اور جو خبریں بین الاقوامی پریس میں آتی بھی تہیں تو اسے ’ڈس انفارمیشن‘ کہا جاتا تھا-

عاصمہ نے اکبر بگٹی سے ملاقات کی ہے (تصاویر ندیم سعید)

اس دن ‏عاصمہ جہانگیر امریکی ریڈیو پر ایک مذاکرے میں کہہ رہی تھیں کہ انہیں کوئٹہ میں صحافیوں نے بتایا کہ بلوچستان کی صورتحال کی رپورٹنگ کرنے پر انٹیلیجنس ایجینسیوں والوں کی طرف سے دھمکیاں دی جارہی ہیں اور کچھ کو ان اداروں کے اہلکار اٹھا کر لے بھی گئے تھے-

اسی پروگرام میں گورنر بلوچستان اویس غنی نے عاصمہ جہانگیر کو مخاطب کرتے کہا تھا ’میں آپ سمیت دنیا کی تمام پریس کو دعوت دے رہا ہوں کہ آپ بلوچستان میں جس جگہ بھی جانا چاہیں آکر دیکھیں کہ وہاں کوئی آپریشن نہیں ہورہا۔‘

’اچھا تو پھر میں اتوار کو ڈیرہ بگٹی آرہی ہوں،‘ عاصمہ نے گورنر کو کہا اور اسی پروگرام میں نواب اکبر بگٹی نے مری بگٹی علاقوں میں فاسفورس بم گرائے جانےاور پانی میں زہر ملانے کی بھی الزمات لگائےتھے-

پھر آپ نے دیکھا کہ عاصمہ جہانگیر کی ڈیرہ بگٹی میں داخل ہونیکی کوشش پر انکا اور انکے وفد کے اراکین کا خیر مقدم گولیوں سے کیا گیا جسکی ذمہ داری وہ ریاستی اداروں پر ہی ڈالتی ہیں- اسکا مطلب یہ ہوا کہ عاصمہ جب کولمبیا کی صورتحال جاننے گئی تھیں وہاں اتنا غیر محفوظ نہیں تھیں جتنا اپنے ملک اور اسکے صوبے بلوچستان میں داخل ہونے پر۔

’جیسا کہ باقی پورے ملک میں حکومت نے سرداری نظم کا خاتمہ کر ڈالا ہے اور بس صرف بلوچستان کے دو سردار ہی رہ گۓ ہیں،‘ اسی ریڈیو پروگرام میں صحافی ایاز امیر کر رہے تھے-

بقول خیر بخش مری کے ’جنرل پرویز مشرف بلوچستان کو ایک جدید ترقی یافتہ اور خوبصورت کینٹونمینٹ میں بدل دینا چاہتے ہیں۔‘

اکیسویں صدی کے بلوچ کو پاکستانی ریاست اس طرح ترقی یافتہ بنانا چاہتی ہے جیسے اٹھارويں صدی میں ہسپانوی نیٹو امریکیوں کو ترقی اور خدا سے آشنا کررہے تھے- اکسیویں صدی کے پاکستان میں بمباری میں مرے ہوئے اپنے بچوں اور عورتوں کو اپنی پگڑی کی لیروں سے کفن دیتا ہوا بلوچ۔ قتیل شفائی نے کہا تھا:
’دستار کے پرزوں سے کفن میں نے سیا ہے‘

عاصمہ بگٹی بچوں کے درمیان( تصاویر ندیم سعید)

انیس سو تیس کی دہائی میں برطانوی ائیر فورس کا وہ دیسی نوجوان پائیلٹ محمد اصغر خان تھا جس نے انگریزوں کے خلاف حر بغاوت کے دوران پیر پگاڑو کے حروں کی آبادیوں پر بمباری سے انکار کردیا تھا- یہی اصغر خان پھر پینسٹھ کی جنگ کا ہیرو بنا۔

پینسٹھ کی جنگ کے ہیرو تو فضائیہ کے وہ بنگالی پائیلٹ بھی تھے جو اکہتر میں ’غدار‘ کہلائے۔

بنگالیوں اور سندھیوں کی طرح بلوچستان پاکستان میں رضارکارانہ اور اسمبلی کی قراردادوں کی ذریعے نہیں بلکہ ان کو بزور بندوق شامل کردیا گیا تھا۔ قلات پر سبز ہلالی پرچم لہراکر اور اب یہ فتح کے جھنڈے نواب بگٹی کے گھرپر گاڑے گئے ہیں۔ کیا یہ بلوچوں سے اس عید قربان پر پاکستان سے تجدید عہد وفا کروائی جارہی ہے یا وہاں نمردو کی خدائی ہے۔

تاریخ بڑی ظالم چیز ہے۔ اور بڑا مسخرا تھیٹر ہے۔ انگریزوں نے حروں کو کچلنے کیلیے بگٹیوں کی فورس تیار کی اور ان کے سردار کو سانگھڑ میں زمینیں دیں اور جہازوں سے بم اور پرچیاں حر آبادیوں پر بھی گرائی تھیں۔

غدار
 پینسٹھ کی جنگ کے ہیرو تو فضائیہ کے وہ بنگالی پائیلٹ بھی تھے جو اکہتر میں ’غدار‘ کہلائے۔

’میں اپنے گھر میں ناشتہ کر رہا تھا کہ شیلنگ شروع ہو گئی۔ یہ سوچ کر کہ ہمارے گھر کمزور شیلنگ سے محفوظ نہيں ہم نے جاکر مندر میں پناہ لی- ایک گولہ مندر میں بھی آ گرا۔ ہم گلیوں میں بھاگنے لگے۔ ہمارے تین لوگ گلیوں میں گولے گرنے سے ہلاک ہوئے۔ جب شیلنگ رکی تو ہم مندر میں واپس آ‎ئے جہاں خون میں لت پت زخمی کراہ رہے تھے۔ ہر جا لاشیں بکھری ہوئی تھیں جن کی تعداد تیس ہوگی جن میں بچے اور عورتیں بھی شامل تھیں- کچھ لوگوں کی ہلاکت گلی میں بھاگتے وقت گولے لگنے سے ہوئی اور بہت سے زخمی بھی ہوئے۔ ہلاک ہونے والوں کی حالت یہ تھی ان کی لاشوں کو کتےکھا رہے تھے۔ میں
’نواب صاحب‘ کی طرف سے حکم ہوا کہ ہم مرنے والوں کا اجتمائی اگنی سنسار کریں اور ہم نے یونہی کیا‘۔

ڈیرہ بگٹی کے ہندو محلے کے ایک باشندے نے گذشتہ برس مارچ میں ڈیرہ بگٹی میں ہونیوالی فوجی کاروائی کے بارے میں مجھے ٹیلیفون پر بتایا تھا۔

اسی بارے میں
بگٹی ہاؤس پر فوج کا ’قبضہ‘
10 January, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد