BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 10 January, 2006, 22:12 GMT 03:12 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’نواب صاحب حالت جنگ میں ہیں‘

جب ہم انسانی حقوق کمیشن کے وفد کے ساتھ ڈیرہ بگٹی پہنچے تو نواب اکبر خان بگٹی کے نواسے تابش نے اپنے نانا کی طرف سے استقبال کیا۔ بگٹی قبیلے کے لوگ بھی خاصی تعداد میں موجود تھے لیکن وفد کے ارکان اور صحافی، ریاستی اداروں اور مسلح قبائلیوں کے درمیان جاری ’جنگ‘ میں مرکزی اہمیت کے حامل نواب بگٹی سے ملنے کے خواہشمند تھے۔

لیکن نواب بگٹی اپنے وفادار قبائلیوں اور حکومت پاکستان کے درمیان مسلح جھڑپوں میں شدت آنے کے بعد اپنے قلعے کو چھوڑ کر کسی نامعلوم مقام پر منتقل ہوچکے تھے۔نوجوان تابش نے بھر پور کوشش کی کہ وہ نواب بگٹی کی نمائندگی کرتے ہوئے ڈیرہ بگٹی کی صورتحال پر اپنے قبیلے کا موقف پیش کریں لیکن انسانی حقوق کمیشن کی عاصمہ جہانگیر سے رہا نہ گیا اور انہوں نے بگٹی قبیلے کے سربراہ سے ملاقات کے امکان بارے پوچھ ہی لیا۔

تابش نے نہایت مہذب انداز میں اس امکان کو یہ کہہ کر رد کر دیاکہ ’نواب صاحب حالت جنگ میں ہیں اور ان کے خفیہ ٹھکانے کو مخفی رکھنا حکمت کا تقاضہ ہے‘۔ اس پر انسانی حقوق کمیشن کے ارکان نے لوگوں سے ملاقاتوں کا سلسلہ جبکہ صحافیوں نے اپنی پیشہ وارانہ مصروفیات شروع کردیں۔

کچھ دیر بعد ایک مسلح قبائلی نے ایک ایسی گاڑی میں بیٹھنے کو کہا جس کے ہر طرف کیچڑ کی تہہ چڑھا کر اسے کیمو فلاج کیا گیا تھا۔ڈرائیور نے ایک ہاتھ میں وائرلیس سیٹ تھام رکھا تھا جبکہ دوسرے سے گاڑی چلا رہا تھا۔گاڑی بہت جلد شہر سے نکل کر کچے، ریتلے اور پتھریلے راستوں پر دائیں بائیں اور اوپر نیچے اتنی تیزی کے ساتھ چل رہی تھی جیسے ڈرائیور کا مقابلہ کار ریس کے ورلڈ چیمپیئن مائیکل شومیکر سے ہو۔

اسی طرح ’سفر‘ کرتے کرتے گاڑی اچانک ٹھہرگئی۔ باہر نکل کر دیکھا تو چالیس پچاس کے قریب مسلح قبائلی ایک کچے کمرے کے گرد گھیرا ڈالے کھڑے تھے۔ قریب ہو کر دیکھا تو لوہے کی ایک کرسی پر سفید ریش نواب اکبر بگٹی براجمان تھے۔ان کے پیچھے ان کے پوتے اور متوقع جانشین براہمداغ بگٹی کھڑے گردوپیش پر نظر رکھے ہوئے تھے۔

اس پیرانہ سالی کے باوجود نواب بگٹی نے آنے والے مہمانوں کا کھڑے ہو کر استقبال کرنا چاہا لیکن بغیر سہارے کے وہ ایسا نہ کر پائے۔’ٹائیگر آف بلوچستان‘ کہلانا پسند کرنے والا یہ بلوچ سردار جو ہمیشہ ستون کی طرح سیدھا کھڑا ہوتا تھا عمر کے ہاتھوں ہارتا نظر آیا۔ نواب بگٹی کی عمر اس وقت اسی سال سے زیادہ بتائی جاتی ہے۔ تاہم لب و لہجے میں ابھی وہی پرانی گھن گرج باقی تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ ڈیرہ بگٹی میں اس وقت جنگ کی سی کیفیت ہے۔ایف سی والے ہر حرکت کرتی ہوئی چیز کو نشانہ بناتے ہیں چاہے کوئی گاڑی ہو یا بکری۔’ہیومن رائٹس والے یہاں آئے ہوئے ہیں لیکن یہاں نہ تو انسانیت ہے اور نہ ہی حقوق۔ حکومت کی نظر میں انسان نما جانور رہتے ہیں یہاں‘۔

ان کا کہنا تھا کہ ’جنرل‘ پر حملہ کوہلو میں ہوا لیکن ملٹری آپریشن ڈیرہ بگٹی میں شروع کر دیا گیا۔’ان پر ملک کے دوسرے علاقوں میں بھی حملے کیئے گئے تو کیا وہاں بھی بمباری کی گئی۔ آپریشن کے نتیجے میں ہمارے علاقوں میں مرنے والوں میں زیادہ تعداد عورتوں اور بچوں کی ہے جس کا مطلب ہے حکومت انہیں دہشت گرد سمجھتی ہے‘۔

جب پوچھا گیا بعض حلقوں کا خیال ہے کہ جنرل مشرف پر کوہلو میں کیا گیا مبینہ حملہ بلوچ مہانداری روایات کے حلاف تھا تو قہقہ لگاتے ہوئے نواب بگٹی نے کہا ’مہمان تو وہ ہوتا ہے جسے بلایا جائے۔ دشمن گھر آجائے تو اسے مہمان نہیں کہا جا سکتا‘۔

ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان میں مجموعی طور پر بے چینی ہے جو ’فوجی آپریشنوں‘ کے ساتھ ساتھ بڑھتی جارہی ہے۔’آپریشن صرف ڈیرہ بگٹی یا کوہلو ہی میں نہیں ہورہا چھوٹے پیمانے پر سبی، خضدار اور دوسرے کئی علاقوں میں بھی جاری ہے‘۔

بلوچستان میں بجلی، گیس، ٹیلی فون اور ریلوے ٹریک کو نشانہ بنایا جاتا ہے اور بلوچستان لبریشن آرمی نامی تنظیم اکثر ان واقعات کی ذمہ داری قبول کرتی ہے لیکن اس کے نتیجے میں ہونے والے نقصانات سے مقامی بلوچ آبادی بھی تو متاثر ہوتی ہے۔ اس حوالے سے نواب بگٹی کا کہنا تھا کہ ’جب جنگ مسلط کی جائے تو کمزور فریق ایسی چھوٹی موٹی چٹکیاں کاٹ کر بدلہ اتارتا ہے، اس میں خود کو بھی نقصان ہوتا ہے لیکن بڑے مقصد کے لیئے یہ سب کچھ برداشت کرنا پڑتا ہے‘۔

’اگر پہلے نہیں تھی تو اب ضرور چل پڑے گی، حکومت کی زیادتیوں کی وجہ سے‘ نواب بگٹی نے جواباً کہا جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا بلوچستان میں کوئی علیحدگی کی تحریک چل رہی ہے؟

نواب بگٹی کا کہنا تھا کہ سرداریاں اس وقت تک ہیں جب تک قبائلی نظام قائم ہے۔ تو کیا وہ بلوچستان میں قبائلی نظام کی بقا کی جنگ لڑ رہے ہیں؟ نواب بگٹی کا جواب تھا ’میں تو صرف اپنی جان بچانے کی کوشش کر رہا ہوں‘۔ان کا کہنا تھا کہ مکران میں قبائلی یا سرداری نظام نہیں ہے لیکن وہاں بی ایل اے وغیرہ کو زیادہ مقبولیت مل رہی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ماورائے عدالت ہلاکتوں،گرفتاریوں اور مار پیٹ سے امن قائم نہیں ہوگا۔’لوگوں میں موجود احساس محرومی دور کرنا ہوگا، لوگوں کو مطمئن کرنا ہوگا، عدم اطمینان سے مسائل پیدا ہوتے ہیں‘۔

اپنی سیاسی جماعت جمہوری وطن پارٹی کے سربراہ نواب بگٹی بلوچستان میں موجودہ صورتحال کے حوالے سے قومی دھارے کی جماعتوں کے کردار سے کچھ زیادہ خوش نہیں تھے۔ ان کا کہنا تھا ’اے آر ڈی والوں نے اور دوسروں نے کچھ ایکٹویٹی تو کی ہے جس کے لیئے ہم ان کے شکر گذار ہیں لیکن وہ اس سے بھی زیادہ کر سکتے تھے‘۔

اسی بارے میں
بگٹی ہاؤس پر فوج کا ’قبضہ‘
10 January, 2006 | پاکستان
ڈیرہ بگٹی محاصرے میں: بگٹی
07 January, 2006 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد