بگٹی ہاؤس پر فوج کا ’قبضہ‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بلوچستان کے علاقے سوئی سے آنے والی اطلاعات کے مطابق آرمی نے سوئی میں واقع بگٹی ہاؤس پر ’قبضہ‘ کر لیا ہے۔ ڈیرہ بگٹی میں بھی نیم فوجی دستوں کی طرف سے کارروائی ہو رہی ہے اور آخری خبروں تک شہر میں کئی جگہ راکٹ برسائے گئے ہیں۔ انسانی حقوق کے ادارے ہیومن رائٹس کمیشن کی چئرپرسن عاصمہ جہانگیر نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہا کہ ان کے پاس بھی اطلاع ہے کہ آرمی نے سردار بگٹی کے گھر پر قبضہ کر لیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’مجھے اس بات پر بالکل حیرانی نہیں ہے۔ کیونکہ ہمیں وہاں کے ڈی سی او صاحب نے باقاعدہ کہا تھا کہ سوئی میں صرف بگٹی صاحب کا گھر ہی رہ گیا ہے اور لوگ مجھے کہتے ہیں کہ میں وہ ٹیک اوور کر لوں‘۔ عاصمہ جہانگیر نے کہا کہ وہ سوئی اور ڈیرہ بگٹی سے بہت ’الارمڈ‘ آئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’یہ دن ایک سیاہ دن ہے اور جس طرح آرمی شہر کے باہر بیٹھی ہوئی تھی لگتا ہی نہیں تھا کہ وہ ایک قومی فوج تھی بلکہ یوں لگ رہا تھا جیسے کوئی قابض فوج بیٹھی ہو‘۔ ڈیرہ بگٹی کے ایک رہائشی گل حسن کے مطابق شہر میں چاروں طرف گولہ باری ہو رہی ہے۔ ’زیادہ تر رہائشی شہر چھوڑ کر جا چکے ہیں اور جو باقی رہ گئے ہیں وہ صرف وہ لوگ ہیں جن کے پاس کہیں جانے کا نہ کرایہ ہے اور نہ ہی کوئی ٹھکانہ‘۔
انہوں نے کہا کہ کئی شہری پیدل شہر سے دور جا کر کھلے آسمان تلے بیٹھے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان کے پاس یہ بھی اطلاع ہے کہ بگٹی ہاؤس پر قبضے میں ایک ٹینک اور فوج کی چار گاڑیاں استعمال کی گئیں۔ ایک اور رہائشی نبی بخش نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ دن کے دو بجے کے قریب فوج بگٹی ہاؤس میں داخل ہو گئی اور ساڑھے تین بجے سے ڈیرہ بگٹی پر گولہ باری کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ انہوں نے کہا کہ عاصمہ جہانگیر رات کو بگٹی ہاؤس میں ٹھہری تھیں اور صبح جیسے ہی وہ نکلیں فوجی کارروائی شروع ہو گئی۔ عاصمہ جہانگیر نے فوجی کارروائی کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’مجھے افسوس سے کہنا پڑ رہا ہے کہ جو بلوچ قوم پرست کہتے ہیں کہ ہماری فوج کو ان کے تیل اور گیس کی ضرورت ہے اور وہ ان پر بلوچیوں کی مرضی کے بغیر قبضہ کرنا چاہتی ہے تو ان کے الزامات اب مجھے درست لگتے ہیں۔ جب فوج لالچی ہو جائے تو وہ اپنے ہی شہریوں کا خون چوسنا شروع کر دیتی ہے۔ وہاں پر ایسا ہی ہو رہا ہے‘۔ ڈیرہ بگٹی کے ڈی سی او عبدالصمد لاسی کا کہنا ہے کہ بگٹی ہاؤس سرکاری ملکیت تھا اور نواب صاحب کے قبضے میں تھا اور ہم نے اسے واپس لے لیا ہے۔ یاد رہے کہ بگٹی ہاؤس حکومت نے خود تعمیر کراکے اکبر بگٹی کے حوالے کیا تھا چونکہ ان کا ایک ذاتی گھر سوئی گیس فیلڈ کی حدود میں آگیا تھا اور یہ گھر اس کے بدلے میں حکومت نے بنوا کر دیا تھا۔ |
اسی بارے میں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||