BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 02 January, 2006, 12:15 GMT 17:15 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
فوجی آپریشن کے خلاف مظاہرہ

بلوچستان آپریشن کے خلاف مظاہرہ
فوج تردید کرتی ہے کہ آپریشن میں معصوم لوگ ہلاک ہوئے ہیں
حزب مخالف کے اراکین سینیٹ اور قومی اسمبلی نے پیر کے روز پارلیمان کے سامنے بلوچستان میں جاری مبینہ فوجی آپریشن کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا اور حکومت سے مطالبہ کیا کہ فوری طور پر کارروائی روکی جائے۔

اتحاد برائے بحالی جمہوریت یعنی ’اے آر ڈی‘ اور قوم پرست جماعتوں کے اتحاد ’پونم‘ کی اپیل پر کیے گئے مظاہرے کے شرکاء نے بینر اور پلے کارڈ اٹھا رکھے تھے۔ جن پر حکومت کے خلاف نعرے درج تھے۔

رؤف مینگل اور دیگر نے خواتین اور بچوں کی مردہ اور شدید زخمی حالت میں بنائی گئیں تصاویر بھی اٹھا رکھی تھیں اور ان کا دعویٰ تھا کہ یہ مبینہ فوجی کارروائی کے دوران ہونے والے بمباری سے متاثر ہوئے ہیں۔

مظاہرے میں بلوچستان اسمبلی میں قائد حزب اختلاف کچکول علی بلوچ سمیت صوبائی اسمبلی کے بعض اراکین بھی شریک ہوئے۔

مخدوم امین فہیم کی صدارت میں ہونے والے اس مظاہرے میں پروفیسر ساجد میر تو موجود تھے لیکن متحدہ مجلس عمل کے دیگر سرکردہ رہنماؤں میں سے کسی نے شرکت نہیں کی۔

بلوچستان آپریشن کے خلاف مظاہرہ
شرکاء نے حکومت اور فوج کے خلاف نعرے لگائے

مظاہرہ کرنے والے اراکین پارلیمان نے گو مشرف گو، لاٹھی گولی سرکار نہیں چلے گی، بلوچستان میں غنڈہ گردی بند کریں، اور لٹ کر لے گیا جی ایچ کیو بھوکے رہ گئے میں اور تو، جیسے نعرے بھی لگائے۔

اس موقع پر ڈاکٹر عبدالحئی بلوچ اور دیگر مقررین نے خطاب کرتے ہوئے بلوچستان میں سیکورٹی فورسز کی کارروائی کا تفصیل بتایا اور حکومت پر بمباری کے دوران زہریلی گیس کے بم پھینکنے جیسے سنگین الزامات عائد کیے۔

واضح رہے کہ حکومت ایسے الزامات کی مسلسل تردید کرتی رہی ہے اور ان کا موقف رہا ہے کہ بلوچستان میں عام آدمیوں کے خلاف نہیں بلکہ شرپسندوں اور راکٹ فائر کرنے والے لوگوں کے خلاف پیرا ملٹری فورسز کارروائی کر رہی ہیں۔

کارروائی یا منصوبہ؟
بلوچستان میں ’فتح‘ کا فوجی منصوبہ
سلام صاحب۔۔۔۔
کاہان اور تلی میں لوگ سہمے ہوئے ہیں: صحافی
اسی بارے میں
قبائل اور ایف سی میں جھڑپ
01 January, 2006 | پاکستان
بلوچستان: دستی بم سے 4 ہلاک
31 December, 2005 | پاکستان
نوشکی، حب اور سبی میں دھماکے
29 December, 2005 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد