’تین جہازوں نے بمباری کی‘ عینی شاہد | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بلوچستان میں ڈیرہ بگٹی اور کوہلو کے درمیانی علاقے بار کھان کے عینی شاہدوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے جہازوں کو بمباری کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ بلوچستان گزشتہ کئی روز سے سکیورٹی فورسز اور مقامی قبائل کے درمیان جھڑپوں کا سلسلہ جاری ہے۔ اتوار کی رات بھی سبی اور ہرنائی میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں تاہم کوئٹہ سے نامہ نگار عزیزاللہ خان کا کہنا ہے کہ حکومت اس بارے اب تک مسلسل خاموش ہے۔ بلوچستان کے علاقے کوہلو اور ڈیرہ بگٹی میں جھڑپوں کے بارے میں فریقین متضاد دعوے کرتے رہے ہیں۔ ان علاقوں تک رسائی مشکل ہونے کی وجہ سے آزادانہ طور پر ان دعوؤں کی تصدیق بھی دشوار ہے۔ ادھر ہمارے ایک نامہ نگار ندیم سعید دشوارگزار راستوں سے ہوتے ہوئے ڈیرہ بگٹی اور کوہلو کے تقریباً درمیانی علاقے بارکھان پہنچنے میں کامیاب ہوگئے اور انہوں نے وہاں ایسے مقامی لوگوں سے معلومات حاصل کی ہیں جن کا کہنا ہے کہ انہوں نے جہازوں کو بمباری کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ بارکھان کے رہائشی علی محمد بتاتے ہیں’تین جہاز تھے۔ انہوں نے سور کے علاقے سے بمباری کی۔ اس سے بہت نقصان ہوا ہم اندر تھے جو کچھ دلانوں میں تھا وہ سب تباہ ہو گیا۔ ایک بم سکول پر مارا گیا میں اس وقت دوسرے پہاڑ پر تھا۔ میں نے دور سے دیکھا سکول تباہ ہو گیا‘۔ ایک اور عینی شاہد عیدو بگٹی نے ندیم سعید کو بتایا ’یہاں ایک سٹور اور ہوٹل تھا جو بمباری سے تباہ ہو گئے۔ سٹور دوائیوں کا تھا۔ تین جہاز تھے جنہوں نے بمباری کی، گھر بھی تباہ ہوئے اور دکانیں بھی‘۔ | اسی بارے میں کوہلو میں وبا پھیلنے کی اطلاع29 December, 2005 | پاکستان کوہلواور کالاباغ، بلوچستان میں ہڑتال27 December, 2005 | پاکستان فوجی کارروائی کے خلاف مظاہرے25 December, 2005 | پاکستان فوجی کارروائی: اسمبلی اجلاس 24 December, 2005 | پاکستان ’ کوہلو:6 کیمپ تباہ، 7 ابھی باقی ‘24 December, 2005 | پاکستان ’فوجی کارروائی‘ کےخلاف مظاہرے22 December, 2005 | پاکستان کوہلو میں مزید حملوں کی اطلاعات 21 December, 2005 | پاکستان کوئی فوجی آپریشن نہیں ہو رہا: گورنر21 December, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||