BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
کوئی فوجی آپریشن نہیں ہو رہا: گورنر
بلوچستان کےگورنر اویس غنی
فوجی آپریشن نہیں ہو رہا ہے: اویس غنی
بلوچستان کےگورنر اویس غنی کا کہنا ہے کہ بلوچستان میں کسی قسم کا فوجی آپریشن نہیں ہو رہا ہے اور کوہلو کے علاقے میں نیم فوجی دستے فراری کیمپوں کے خلاف کارروائی کر رہے ہیں۔

بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ’ کوئی فوجی آپریشن نہیں ہو رہا ہے۔ فرنٹیئر کور آپریشن کر رہی ہے اور وہ فراری کیمپوں کے خلاف ہے‘۔

بلوچستان میں شدت پسندوں کے کیمپوں کو فراری کیمپ کے نام سے جانا جاتا ہے۔

اس سوال پر کہ کیا اس آپریشن کے دوران فوجی ہیلی کاپٹر استعمال کیے جا رہے ہیں گورنر بلوچستان کا کہنا تھا کہ’فرنٹیئر کور کے پاس اپنے ہیلی کاپٹر ہیں اور یہی ہیلی کاپٹر اس کارروائی کے دوران استعمال کیے جا رہے ہیں‘۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس آپریشن میں مقرر شدہ اہداف کے خلاف کارروائی ہو رہی ہے اور وہ کسی قسم کی ہلاکتوں کی تصدیق نہیں کر سکتے۔ انہوں نے کہا کہ ’اگر کسی قسم کی ہلاکتیں ہوتیں تو لوگ زخمی بھی ہوتے مگر کسی ہسپتال میں کوئی بھی زخمی نہیں آیا‘۔

ادھر مری قبیلے کے سربراہ خیر بخش مری کے بیٹے بالاچ مری کا کہنا ہے کہ کوہلو میں ہیلی کاپٹروں کے ذریعے فائرنگ کی گئی ہے جس سے ہلاکتیں ہوئی ہیں مگر ہلاک ہونے والوں کی تعداد معلوم نہیں ہے۔

اس سے قبل پاکستان کے وزیر اطلاعات شیخ رشید احمد نے کہا تھا کہ کوہلو کے علاقے میں کوئی فوجی آپریشن نہیں ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کسی کو بلوچستان کی ترقی کی راہ میں رکاوٹ نہیں ڈالنے دے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ جو بھی قانون کو اپنے ہاتھ میں لینے کی کوشش کرے گا اس کے ساتھ آہنی ہاتھ سے نمٹا جائے گا۔

بلوچستان میں ماضی قریب میں بھی فوجی آپریشن ہوتے رہے ہیں

دریں اثناء کوئٹہ سے بی بی سی کے نمائندے عزیزاللہ خان کے مطابق فرنٹیئر کور کے ترجمان نے کہا ہے مشتبہ افراد کے خلاف جاری کارروائی میں کچھ ہلاکتیں ہوئی ہوں گی لیکن ان کو یہ معلوم نہیں ہے کہ کتنے لوگ ہلاک ہوئے ہیں۔

اس کے علاوہ انہوں نے کہا ہے کہ سکیورٹی فورسز نے آٹھ مشتبہ افراد گرفتار کیے ہیں جن سے پوچھ گچھ کی جا رہی ہے اور اس کے علاوہ کچھ اسلحہ بھی برآمد کیا ہے۔

صوبہ بلوچستان کے شہر مند اور نوشکی میں راکٹ داغے جانے کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں لیکن کسی قسم کے جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔ مکران ڈویژن کے شہر مند میں ایران کی سرحد کے قریب فرنٹیئر کور کی چوکی پر نامعلوم افراد نے راکٹ داغے ہیں۔ مند میں راکٹ ایران کی سرحد کے قریب قائم فرنٹیئر کور کے چوکی کے پاس گرے ہیں۔ فرنٹیئر کور کے ترجمان نے کہا ہے کہ نو شکی کے علاقے میں دو راکٹ داغے گئے ہیں جو سبزی منڈی کے قریب گرے ہیں۔

تین نامعلوم افراد نے ان دھماکوں کے ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا ہے کہ مند اور نوشکی میں راکٹ داغنے کے واقعات کی ذمہ داری وہ بلوچ لبریشن آرمی اور بلوچ لبریشن فرنٹ نامی تنظیموں کی طرف سے قبول کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ کارروائی مشرقی بلوچستان میں جاری آپریشن کے خلاف کی گئی ہے۔

اسی بارے میں
کوہلو میں کشیدگی برقرار
18 December, 2005 | پاکستان
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد