’ کوہلو:6 کیمپ تباہ، 7 ابھی باقی ‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سیکیورٹی فورسز نے کوہلو کے علاقے میں جاری کارروائی کے دوران مشتبہ افراد کے چھ کیمپ ختم کر نے کا دعوی کیا ہے۔ کوئٹہ میں صحافیوں کے ایک گروپ سے باتیں کرتے ہوئے سکیورٹی فورسز کے ترجمان نے کہا ہے کوہلو میں فراری کیمپوں کے خلاف کارروائی جاری ہے جہاں ان کی اطلاعات کے مطابق تیرہ فراری کیمپس ہیں جن میں سے چھ کیمپس تباہ کر دیے گئے ہیں جہاں سے اسلحہ بھی برآمد ہوا ہے۔ فراری کی اصطلاح بلوچستان میں ان لوگوں کے لیے استعال کی جاتی ہے جنہوں نے وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں ہونے والے فوجی آپریشن کے خلاف مزاحمت کی تھی۔ بلوچ قوم پرست جماعتوں کے قائدین اس کارروائی کی مذمت کر رہے ہیں ۔ رکن صوبائی اسمبلی بالاچ مری نے کہا ہے فورسز کی کارروائی میں زیادہ تر عام شہری ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں اور ان میں بھی عورتوں اور بچوں کی تعداد کہیں زیادہ ہے۔ بالاچ مری نے کہا ہے ان کی اطلاع کے مطابق چھ روز سے جاری کارروائی میں اسی افراد ہلاک ہوئے ہیں اور سو سے زیادہ زخمی ہوئے ہیں۔انھوں نے کہا ہے کہ حکومت کن علاقوں پر قبضے کی بات کر رہی ہے جبکہ ایف سی کے کیمپ پہلے سے وہاں موجود ہیں۔ بلوچستان نیشنل پارٹی کے سینٹر ثناءاللہ بلوچ نے کہا ہے ڈیرہ بگٹی بارکھان اور کوہلو کی سرحد پر واقع علاقے بیکڑ کے قریب سیکیورٹی فورسز کے حملے میں کم از کم اٹھارہ افراد کے ہلاک ہونے کی اطلاع ہے۔ سکیورٹی فورسز کے ترجمان نے صحافیوں سے کہا ہے کہ یہ کارروائی جاری رہے گی اور اب تک شہری آبادی پر کوئی کارروائی نہیں ہوئی اور ناں ہی کوئی بے گناہ شہری ہلاک ہوا ہے۔ | اسی بارے میں فوجی کارروائی: اسمبلی اجلاس 24 December, 2005 | پاکستان ’فوجی کارروائی فوراً بند کی جائے‘24 December, 2005 | پاکستان کوہلو: ’جھڑپوں کا سلسلہ جاری‘22 December, 2005 | پاکستان ’فوجی کارروائی‘ کےخلاف مظاہرے22 December, 2005 | پاکستان کوئی فوجی آپریشن نہیں ہو رہا: گورنر21 December, 2005 | پاکستان فوجی آپریشن کے خلاف یوم سیاہ 19 December, 2005 | پاکستان کوہلو میں کشیدگی برقرار18 December, 2005 | پاکستان کوہلو اور ڈیرہ بگٹی میں حالات کشیدہ17 December, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||