’فوجی کارروائی فوراً بند کی جائے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سرحد اسمبلی نے سنیچرکو کثرت رائے سے ایک قرار داد منظور کی ہے جس میں وفاقی حکومت سے بلوچستان میں ’فوجی کارروائی‘ جلد از جلد بند کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ عوامی نیشنل پارٹی اور حکمران متحدہ مجلس عمل کی جانب سے یہ قرار داد مشترکہ طور پر ایوان کی معمول کی کارروائی معطل کرتے ہوئے پیش کی گئی تاہم توقعات کے برعکس صوبائی اسمبلی میں متنازعہ کالا باغ ڈیم پر کوئی بات نہیں ہوئی۔ عوامی نیشنل پارٹی کے پارلیمانی رہنما بشیر احمد بلور نے اجلاس کے آغاز پر نکتہ اعتراض پر ایوان سے کارروائی روک کر اس مسئلے پر قرارداد پیش کرنے کی اجازت طلب کی تو متحدہ مجلس عمل کے اراکین نے اس کی مخالفت کی اور کہا کہ وہ بغیر مشورے یا پہلے سے قرارداد پر غور کے ایسی کسی تحریک کی حمایت نہیں کریں گے۔ اس موقع پر بشیر بلور نے ایم ایم اے اراکین کو یاد دلایا کہ انیس سو اکہتر میں مرحوم مفتی محمود نے سرحد کی حکومت سے بلوچستان میں فوجی کارروائی کے خلاف بطور احتجاج استعفی دے دیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس قرارداد کی مخالفت نہیں ہونی چاہیے۔ ایم ایم اے کی جانب سے رکن اسمبلی امانت شاہ حقانی نے قرار داد پیش کی۔ قرار داد میں کہا گیا کہ ’بلوچستان میں جو فوجی ایکشن کیا جا رہا ہے وہ جلد از جلد بند کیا جائے اور انیس سو اکہتر جیسے حالات پیدا کرنے سے گریز کیا جائے۔ ہماری حکومت ہندوستان اور اسرائیل سے بات چیت کر سکتی ہے تو اپنے پاکستانی بلوچ لیڈروں سے بات چیت کیوں نہیں کر سکتی۔ پاکستان کسی خاص صوبے یا ادارے کا نام نہیں ہے پاکستان سولہ کروڑ عوام اور چاروں صوبوں کا نام ہے۔ اس لیے کسی صوبے میں فوجی ایکشن کا اثر سارے پاکستان کی اقتصادی، سیاسی اور جمہوری اقدار پر پڑ سکتا ہے اس لیے فوجی ایکشن بند کرکے بات چیت کے ذریعے بلوچستان کی حقیقی لیڈر شپ کو اعتماد میں لے کر بلوچستان کا مسئلہ حل کیا جائے‘۔ چھ دینی جماعتوں کے اتحاد ایم ایم اے کے رکن پیر محمد خان نے اس موقع پر متحدہ مجلس عمل کے صوبہ بلوچستان کے اراکین سے مستعفی ہونے کا مطالبہ بھی قرار داد میں شامل کرنے پر زور دیا تاہم ایوان نے اسے مسترد کر دیا۔ مسلم لیگ (ن) کے انور کمال خان اور پی پی پی (شیرپاؤ) کے سکندر شیرپاؤ نے بھی قرار داد کی حمایت کی۔ مسلم لیگ (ق) کے مشتاق غنی نے اس موقع پر مرکزی حکومت کا موقف دہرایا کہ بلوچستان میں کوئی فوجی آپریشن نہیں ہو رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایم ایم اے بلوچستان میں حکومت کا حصہ ہے یہ قرار داد پہلے وہیں پیش ہونی چاہیے۔ بشیر بلور نے بعد میں بی بی سی اردو ڈاٹ کام سے بات کرتے ہوئے کہا کہ کالا باغ ڈیم کا قضیہ انہوں نے اس لیے بھی نہیں چھیڑا کہ اس اسمبلی کی پہلے ہی تین قراردادیں اس کی مخالفت میں موجود ہیں۔ تاہم انہوں نے اقرار کیا کہ وہ مسئلہ بھی اپنی سنگینی کے ساتھ موجود ہے اور خطرہ ہے کہ تین صوبائی اسمبلی کی قرار دادوں کو ایک شخص نظرانداز کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ ایوان کی کارروائی بعد ازاں وزیرِاعظم شوکت عزیز کی پشاور آمد اور نائب ناظمین کے انتخابات کی وجہ سے تیس دسمبر تک ملتوی کر دی گئی اور اس وجہ سے اسمبلی کے ایجنڈے پر موجود اہم جُز یعنی زلزلے کے حوالے سے حکومتی اقدامات پر بحث نہیں ہوسکی۔ | اسی بارے میں ’کوہلو :سو سے زیادہ ہلاک ہوچکے ‘24 December, 2005 | پاکستان سنیٹ سے اپوزیشن کا واک آؤٹ23 December, 2005 | پاکستان کوہلو: اے آر ڈی احتجاج کرے گی23 December, 2005 | پاکستان فوجی ایکشن کے خلاف مظاہرے23 December, 2005 | پاکستان ’فوجی کارروائی‘ کےخلاف مظاہرے22 December, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||