’کوہلو :سو سے زیادہ ہلاک ہوچکے ‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بلوچستان کے علاقے کوہلو سے تعلق رکھنے والے کچھ قبائلی رہنماؤں اور بلدیاتی نمائندوں نے ملتان میں ایک اخباری کانفرنس میں دعویٰ کیا ہے کہ ان کے علاقے میں جاری ’فوجی آپریشن‘ میں اب تک سو سے زائد افراد ہلاک جبکہ دو سو کے قریب زخمی ہوئے ہیں۔ قبائلی رہنماؤں کا کہنا تھا کہ اس اخباری کانفرنس کے توسط سے وہ اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کے اداروں کی توجہ کوہلو میں جاری ’فوجی انتقامی کاروائی‘ کی طرف دلانا چاہتے ہیں۔ پاکستانی صحافی رپورٹنگ کے لیے افغانستان تو چلے جاتے ہیں لیکن اپنے ہی ملک میں جاری آپریشن اور اس کی ’تباہ کاریاں‘ جاننے کے لیے ابھی تک متاثرہ علاقوں میں کوئی نہیں آیا۔ پریس کانفرنس سے میر اصغر مری، کرنل قذافی، روزی خان، وڈیرہ عثمان جان مری اور میر نصیب اللہ سمیت مری قبیلے کے کئی عمائدین نے خطاب کیا۔ قبائلیوں کا کہنا تھا کہ صدر جنرل پرویز مشرف کے حالیہ دورہ کوہلو کے بعد سے فوجی اور نیم فوجی دستوں سے تلی، حسپوڑ، فاضل چیل، جندران اور کہان کے علاقوں کا محاصرہ کر رکھا ہے جہاں روزانہ لڑاکا جیٹ طیاروں اور گن شپ ہیلی کاپٹروں سے بمباری بھی کی جارہی ہے۔ ان کو یہ گلہ بھی تھا کہ
ان کا کہنا تھا کہ فوجی آپریشن میں ہلاک ہونے والوں میں زیادہ تعداد خواتین اور بچوں کی ہے۔ مری رہنماؤں کا کہنا تھا کہ فوجی محاصرہ اس قدر سخت ہے کہ آپریشن میں زخمی ہونے والوں کو طبی امداد کے لیے ہسپتالوں تک بھی جانے نہیں دیا جارہا۔ ان کا کہنا تھا وہ حکومت سے رحم کی اپیل نہیں مانگیں گے۔ ’اگر وہ ہمیں مارنا چاہتے ہیں تو ہم مرنے کے لیے تیار ہیں‘۔ لیکن ان کے بقول بلوچستان کا مسئلہ ’گولی‘ سے نہیں سیاسی مذاکرات سے ہی حل ہوگا۔ قبائلیوں نے کہا کہ جب صدر مشرف اور وزیر اعظم شوکت عزیز پر پنجاب اور سندھ میں خود کش حملے کیے گئے تو کیا وہاں بھی فوجی آپریشن کیا گیا؟ یاد رہے کہ چودہ دسمبر کے روز کچھ نا معلوم افراد نے مبینہ طور پر اس وقت چند راکٹ (آر پی جی) برسائے جن کے بارے بتایا جاتا ہے کہ وہ اس جگہ سے تھوڑے فاصلے پر گرے جہاں صدر مشرف ایک اجتماع سے خطاب کر رہے تھے۔ اس واقعہ کے بعد سے کوہلو میں کچھ ایسی صورتحال ہے جسے حکومت ’شر پسندوں‘ کے خلاف کاروائی جبکہ بلوچ رہمنا ’فوجی آپریشن‘ کا نام دے رہے ہیں۔ قبائلی رہنماوں کا کہنا تھا کہ بلوچستان کو ہمیشہ بندوق کے زور پر زیر کرنے کی کوشش کی گئی تاکہ وہاں کے بیش بہا معدنی وسائل پر قبضہ کر لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان کا ہر فرد وہاں کے قدرتی وسائل پر ناجائز قبضہ کرنے کی کوششوں کے خلاف مزاحمت کرے گا۔ ’ہم چاہتے ہیں کہ کوہلو کے معدنی وسائل کو استعمال میں لایا جائے لیکن ہم یہ بھی نہیں چاہتے کہ ہمارا حشر سوئی کے لوگوں جیسا ہو‘۔ ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان کے مقام سوئی سے قدرتی گیس نکال کر پنجاب، سندھ اور سرحد کے کونے کونے میں پہنچا دی گئی ہے لیکن سوئی سے صرف تین کلومیٹر کے فاصلے پر واقع بلوچ آبادیاں اس نعمت سے محروم ہیں۔ قبائلی رہنماؤں کا کہنا تھا کہ کوہلو میں ملٹری آپریشن کی تیاریاں پچھلے چھ ماہ سے کی جارہی تھیں اور نواب اکبر بگٹی سمیت کئی بلوچ رہنما متعدد بار اس خدشے کا اظہار بھی کر چکے تھے کہ ’فوج کشی‘ ہونے والی ہے۔ ’جنرل مشرف کے دورہ کوہلو کا مقصد صرف اس منصوبے کو عملی جامہ پہنانا تھا‘۔ انہوں نے اس حکومتی دعوے کی تردید کی کہ کوہلو کے علاقوں کہان اور جندران میں ’فراری کیمپ‘ قائم ہیں جہاں بلوچ علیحدگی پسندوں کو گوریلا جنگ کی تربیت دی جاتی ہے۔ فراری کی اصطلاح بلوچستان میں ان لوگوں کے لیے استعال کی گئی جنہوں نے وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں ہونے والے فوجی آپریشن کے خلاف مزاحمت کرتے ہوئے افغانستان کے صوبے ہلمند کی طرف ہجرت کی تھی۔ | اسی بارے میں کوہلو اور ڈیرہ بگٹی میں حالات کشیدہ17 December, 2005 | پاکستان کوہلو میں کشیدگی برقرار18 December, 2005 | پاکستان بلوچستان: کوہلو میں’فوجی آپریشن‘ 19 December, 2005 | پاکستان کوہلو میں مزید حملوں کے اطلاعات 20 December, 2005 | پاکستان ’ کوہلوفوجی آپریشن میں 50 ہلاک‘20 December, 2005 | پاکستان کوہلو میں مزید حملوں کی اطلاعات 21 December, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||