سنیٹ سے اپوزیشن کا واک آؤٹ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان میں پارلیمان کے ایوان بالا یعنی سنیٹ میں حزب اختلاف نے متنازعہ کالا باغ ڈیم اور بلوچستان میں جاری مبینہ فوجی آپریشن کے بارے میں سخت احتجاج کرتے ہوئے واک آؤٹ کیا۔ ایوان میں حزب اختلاف کے رہنما رضا ربانی اور پارلیمانی امور کے وزیر ڈاکٹر شیرافگن نیازی کے درمیان سخت گرما گرمی ہوئی اور انہوں نے ایک دوسرے کے خلاف الزامات کی بوچھاڑ کرتے ہوئے نازیبا الفاظ بھی کہے جو کارروائی سے حذف کیے گئے۔ اجلاس شروع ہونے سے قبل حکومت اور حزب اختلاف کے درمیان طے ہوا کہ قواعد معطل کرکے کالا باغ ڈیم، بلوچستان میں جاری مبینہ فوجی آپریشن اور اسلامیات کی کتاب سے نماز پڑھنے کے طریقہ کار کے بارے میں تصاویر خارج کرنے کے معاملات پر بحث کی جائے گی۔ جب اجلاس شروع ہوا تو رضا ربانی نے کہا کہ کالا باغ ڈیم کو تین صوبوں کی اسمبلیاں متفقہ طور پر رد کرچکی ہیں اور جب زلزلے کے سانحے کی وجہ سے پوری قوم متحد ہوئی تو صدر جنرل پرویز مشرف نے متنازعہ ڈیم کا مسئلہ چھیڑ کر یکجہتی کو ختم کردیا ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ صدر جنرل پرویز مشرف نےتین صوبوں کو پنجاب کے سامنے کھڑا کردیا ہے اور پاکستان کی سلامتی پر کالی گھٹائیں چھا رہی ہیں۔
انہوں نے بلوچستان میں مبینہ فوجی کارروائی کا ذکر کیا اور کہا کہ طاقت کا استعمال بند کریں۔ انہوں نے حکومت کے ایسے اقدامات کے خلاف علامتی واک آؤٹ کیا تاہم کچھ دیر بعد حزب اختلاف کے تمام اراکین ایوان میں واپس آگئے۔ ان کا جواب دیتے ہوئے قائد ایوان وسیم سجاد نے کہا کہ کالا باغ ڈیم کی تعمیر ضروری ہے اور اس کے بنا سندھ صحرا بن جائے گا۔ ان کے مطابق نواز شریف اور بینظیر بھٹو نے بھی کالا باغ ڈیم بنانے کا فیصلہ کیا تھا لیکن وہ عمل نہیں کر پائے۔ اس پرحزب اختلاف نے شیم شیم کے نعرے لگائے اور رضا ربانی نے کہا کہ بینظیر بھٹو نے کبھی کالا باغ ڈی بنانے کا فیصلہ نہیں کیا تھا اور وہ کہتی رہیں کہ اتفاق رائے کے بنا یہ ڈیم نہ بنایا جائے۔ ان کی اس بات پر پارلیمانی امور کے وزیر ڈاکٹر شیرافگن نیازی نے مداخلت کی اور کہا کہ رضا ربانی غلط بیانی کر رہے ہیں۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ وہ بینظیر کابینہ میں وزیر رہے ہیں اور ایک اجلاس میں کالا باغ ڈیم کا نام انڈس ڈیم رکھ کر تعمیر کا فیصلہ کیا گیا تھا۔ جس پر رضا ربانی نے وزیر پر غلط بیانی کا الزام لگایا اور یوں الزام در الزام کا سلسلہ ایک دوسرے کے خلاف نازیبا الفاظ کہنے تک بڑھ گیا اور ایوان میں ہنگامہ ہوگیا اور حزب مخالف نے دوبارہ واک آؤٹ کیا جس پر قائد ایوان وسیم سجاد انہیں معذرت کرکے واپس ایوان میں لائے۔ جمہوری وطن پارٹی کے سنیٹر امان اللہ کنرانی نے کہا کہ بلوچستان کے علاقے سوئی میں ہونے والے واقعات کے بعد اب تک بلوچستان میں جاری فوجی آپریشن میں ایک سو چورانوے بلوچ ہلاک کیے جاچکے ہیں جس میں ان کے مطابق اٹھاسی خواتین اور پینتیس بچے بھی شامل ہیں۔ کنرانی نے کہا کہ جس طرح عراق اور بوزسنیا کے صدور پر اپنے لوگوں کو قتل کرنے کے مقدمات چلیں ہیں اس طرح یہاں کے حکمرانوں کو بھی تیار رہنا چاہیے۔ حکومت کے حامی سنیٹر مہیم خان بلوچ نے بھی حزب مخالف کے اپنے صوبے کے رکن کی تائید کی اور کہا کہ بلوچستان میں فوجی آپریشن ہورہا ہے اور اگر حکومت نے طاقت کے استعمال سے گریز نہیں کیا اور آئین اور پارلیمانی بالادستی تسلیم نہیں کی تو کل وفاق کا نام لینے والا بھی نہیں ہوگا۔
ایک اور بلوچ سنیٹر ثناء اللہ بلوچ نے بھی بڑی سخت تقریر کی اور دعویٰ کیا کہ کوہلو میں عوام پر زہریلی گیس والے بم گرائے جارہے ہیں۔ ان کے مطابق بھارت کی فوج وہ کچھ اپنے زیرانتظام کشمیر میں نہیں کر رہی جو کچھ پاک فوج بلوچستان میں کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جتنی رقم فرنٹیئر کنسٹیبلری کے پینتیس ہزار اہلکاروں پر سالانہ خرچ ہوتی ہے اتنی رقم پورے صوبے کے سالانہ ترقیاتی منصوبوں کے لیے نہیں ملتی۔ بلوچ سنیٹرز کے مختلف الزامات اور دعووں کو وزیر مملکت برائے داخلہ شہزاد وسیم نے مسترد کیا اور کہا کہ بلوچستان میں فوجی آپریشن نہیں ہورہا البتہ انہوں نے کہا کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے ان شرپسندوں کے خلاف کارروائی کر رہے ہیں جو راکٹ فائر کرتے ہیں تاہم انہوں نے امان اللہ کنرانی کے ایک سو چورانوے افراد کے مارے جانے کے بارے میں کیے گئے دعوے کے متعلق تصدیق یا تردید نہیں کی۔ | اسی بارے میں ’سینٹریفیوج ایران کے کہنے پر‘29 March, 2005 | پاکستان ’سینٹریفیوجز اقوامِ متحدہ کےحوالے‘26 May, 2005 | پاکستان ’قدیرنےسینٹی فیوج کوریا کودیئے‘24 August, 2005 | پاکستان سینٹ اور قومی اسمبلی میں احتجاج13 September, 2005 | پاکستان اپوزیشن نے سینٹ کا اجلاس بلا لیا24 September, 2005 | پاکستان | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||