BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 26 May, 2005, 10:52 GMT 15:52 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’سینٹریفیوجز اقوامِ متحدہ کےحوالے‘

عبد القدیر
پاکستان کے جوہری پروگرام کے بانی معتوب ڈاکٹر عبد القدیر کو اعلی حکومتی اعزازات سے نوازا جاتا رہا ہے۔
پاکستان نے اقوام متحدہ کے جوہری ادارے آئی اے ای آے کو جوہری سینٹریفیوجز کے نمونے معائنے کے لئے بھجوا دیئے ہیں اور ایک پاکستانی ٹیم آئی اے ای اے کے ماہرین کے ہمراہ ان نمونوں کی جانچ کر رہی ہے کہ آیا وہ ایران کے جوہری پروگرام میں استعمال ہوئے ہیں یا نہیں۔

آئی اے ای اے کے ترجمان مارک گوزدیکی نے ویانا سے بی بی سی اردو سروس کو ٹیلیفون پر بتایا کہ یہ نمونے منگل کو ایجنسی کے ویانا میں قائم ہیڈکوارٹر میں پہنچے تھے۔

انہوں نے کہا کہ وہ اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ یہ نمونے منگل کو پہنچے ہیں اور بدھ سے پاکستان کی ایک ٹیم اور آئی اے ای اے کے عہدیداران کے درمیان باضابطہ مذاکرات ہوئے ہیں۔

انہوں نے پاکستانی ٹیم کے نام بتانے سے انکار کیا۔کوشش کے باوجود پاکستانی حکومت کی طرف سے اس خبر پر کوئی رد عمل نہیں مل سکا ہے۔

صدر جنرل پرویز مشرف نے ایک ماہ قبل ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ پاکستان اپنے استعمال شدہ سینٹریفیوجز کو معائنے کے لئے اقوام متحدہ کے جوہری ادارے آئی اے ای اے بھجوانا چاہتا ہے تاکہ وہ دنیا کے اس بارے میں شکوک و شبہات ختم کر سکے کہ پاکستان نے ایران اور دیگر ممالک کو مبینہ طور پر سینٹریفیوجز اور اس کے حصے فراہم کئے تھے۔

صدر نے کہا تھا کہ ایران کے جوہری پروگرام کی تحقیقات کے دوران آئی اے ای اے نے اس بات کا پتہ لگانے کی کوشش کی تھی کہ ایران نے کہاں سے اور کیسے سینٹریفیوجز حاصل کئے۔

اس سے قبل ذرائع ابلاغ میں رپورٹیں شائع ہوتی رہی ہیں کہ آئی اے ای اے نے پاکستان سے معائنے کے لئے سینٹریفیوجز مانگے ہیں۔ تاہم پاکستان کے دفتر خارجہ اس بات کی تردید کرتا رہا ہے کہ پاکستان سینٹریفیوجز آئی اے ای اے کےویانا میں واقع ہیڈ کوارٹر بھجوانا چاہتا ہے۔

پاکستان کے وزیر اطلاعات شیخ رشید نے اپریل کے اوائل میں کہا تھا کہ ملک کے جوہری سائنسدان اور ایٹمی پروگرام کے بانی ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے ایران کو سینٹریفیوجز فراہم کئے تھے۔

پاکستان کے جوہری سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر کے بارے میں ایک سوال پر صدر نے کہا کہ حکومت نے ان کے خلاف ایکشن لیا ہے اور اب ان کا کسی جوہری بلیک مارکیٹ سے کوئی رابطہ نہیں ہے۔

پاکستان کے جوہری سائنسدان اور ملک کے جوہری پروگرام کے بانی ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے گذشتہ برس اس اعتراف کے بعد کہ انہوں نے ایران، شمالی کوریا اور لیبیا کو جوہری ٹیکنالوجی فراہم کی تھی، بین الاقوامی برادری میں جوہری معاملے پر خاصی تشویش ظاہر کی گئی تھی۔

پاکستان کی پارلیمان نے بھی گذشتہ برس جوہری برآمدات پر قابو پانے کا ایک قانون بھی پاس کیا تھا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد